22 جولائی عیسوی ، 4 جمادی الثانی ہجری قمری ، 1 مرداد ہجری شمسی

 

 22 جولائی 1915 ء کو پہلی جنگ عظیم کے دوران اٹلی میں مشہور جنگ ایزونزو شروع ہوئی ۔ یہ جنگ اٹلی اور آسٹریا کی افواج کے درمیان اٹلی کے پہاڑی علاقے ایزونزو میں ہوئی تھی ۔ یہ جنگ اسی سال 15 اگست تک جاری رہی اور 70 ہزار افراد مارے گئے جن میں اکثر اطالوی تھے ۔ اس کے باوجود ایزونزو جنگ کے آخر میں آسٹریا کو شکست ہوئی ۔

 

 

 22 جولائی 1961 ء کو فرانسیسی فوج نے تیونس کے شمال مشرق میں واقع ساحلی شہر " بیزرت " پر حملہ کیا ۔ اور اس طرح دونوں ملکوں میں شدید جنگ چھڑگئی ۔ 1956 ء میں فرانس کے قبضے سے تیونس کو آزادی ملنے کے بعد فرانس نے بیزرت شہر پر اپنا قبضہ باقی رکھا لیکن تیونس کے عوام نے 750 افراد کی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے بالآخر اس شہر کو آزاد کرالیا اور تیونس اور فرانس کے درمیان ہونے والی جنگ کا تیونس کی فتح کے ساتھ خاتمہ ہوگیا ۔ اس کے دوسال بعد فرانس نے باقاعدہ سرکاری طور پر بیزرت شہر سے پسپائی کا اعلان کیا ۔

 

 

 22 جولائی 2002 م کو اس وقت جب غزہ پٹی کے ایک علاقے میں فلسطینی عورتیں اور بچے سو رہے تھے صیہونی حکومت کی فوج نے ایف - 16 طیاروں سے اس علاقے پر حملہ کردیا ۔ اس حملے میں حماس کی فوجی شاخ عزالدین قسام بریگیڈ کے کمانڈر شیخ صلاح شحادہ اور 16 غیرفوجی فلسطینی شہید 150 زخمی ہوگئے ۔ شہید ہونے والوں میں 9 بچے بھی شامل تھے اور شیخ صلاح شحادہ کی اہلیہ  اور ان کی کم سن بچّی بھی اس حملے میں شہید ہوئی تھی۔  شیخ صلاح شحادہ نے 12 سال صیہونی حکومت کی خوفناک جیلوں میں گزارے تھے ۔ جیلوں میں صیہونی حکومت کے اہلکاروں نے ان پر بہت ظلم و ستم کئے تھے ۔

 

 

 22 جولائی 2003ء کو عراق کے سابق آمر حکمراں صدام حسین کے دو بیٹے عدی اور قصی شمالی عراق کے شہر موصل کے نواح میں قتل ہوئے ۔ صدام کے یہ دونوں بیٹے اپریل 2003ء میں عراق پر امریکہ اور برطانیہ کے حملے اور قبضے کے بعد دیگر بعثی حکام کی طرح بغداد سے بھاگ گئے تھے ۔ قصی اور عدی کی خفیہ پناہگاہ کے بارے میں ان کے نزدیکی افراد نے مخبری کی جس کے بعد چاروں طرف سے امریکی فوج نے ان کا محاصرہ کرکے کاروائی کی اور وہ قتل ہوئے ۔ عدی صدام کے بڑے بیٹے اور قصے ان کے چھوٹے بیٹے تھے ، وہ دونوں عراقی عوام پر صدام کے مظالم اور سفاکانہ کاروائیوں میں شریک رہے ۔ صدام کے دونوں بیٹے حکومت کے اعلی عہدوں پر بھی فائز رہے ۔

 



 

 

 1 مرداد 1357 ہجری شمسی کو ایران کے نامور عالم دین اور شہرۂ آفاق فقیہ آیت اللہ العظمی علی ابن ابراہیم معصومی المعروف حاج ملّا علی ہمدانی (رح) رحلت کر گئے ۔ آپ 1273 ہجری شمسی میں ہمدان کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے ، ابتدائی تعلیم ہمدان اور تہران میں حاصل کرنے کے بعد آپ قم روانہ ہوئے جہاں آپ (رح) نے میرزا جواد ملکی تبریزی (رح) ، شیخ احمد قمی (رح) اور حوزۂ علمیۂ قم کے بانی آیت اللہ حائری یزدی کے سامنے زانوئے تلمّذ تہہ کیا اور درجۂ اجتہاد پر فائز ہوئے ۔ آیت اللہ حائری یزدی (رح) کے حکم پر حاج ملّا علی ہمدانی (رح) ، ہمدان روانہ ہوئے جہاں آپ نے شہر کی دینی درسگاہ کو رونق بخشی ہمدان میں آپ (رح) نے ایک عظیم کتب خانہ بھی قا‏‏ئم کیا اور پیک اسلام کے نام سے ایک رسالے کا اجرا کیا ۔ آیت اللہ حاج ملاعلی ہمدانی نے 50 برس تک ہمدان اور مغربی ایران کی روحانی قیادت کی ۔ ان کی تصانیف میں اربعین حدیث ، تقلید اور اجتہاد سے متعلق مقالے اور حبط و تکفیر سے متعلق کتابچے قابل ذکر ہیں ۔