اقامہ نماز کمیٹی کے شرکا اور منتظمین سے قائد انقلاب اسلامی کا خطاب
قائد انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا دنیا کی منہ زور طاقتیں اپنی بقا کا راز بین الاقوامی معاشرے میں مذہبی بحران پیدا کرنے میں سمجھتی ہیں اور پاپ بینیڈکٹ نے اپنے بیانات سے منہ زور طاقتوں کی ان پالیسیوں کی مدد کی ہے ۔حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اقامۂ نماز کمیٹی کے ارکان سے ملاقات میں اہانت آمیز کارٹون کی اشاعت بعض سیاسی رہنماؤں کے توہین آمیز بیانات اور یورپ امریکہ کے اخبارات میں اسلام کے بارے میں ہتک آمیز مطالب کی اشاعت کو صلیبی جنگ شروع کرنے کے سلسلے میں کی جانے والی سازشوں کی مختلف کڑیاں قراردیا اور فرمایا پاپ کا بیان اس سلسلے کی تازہ کڑی ہے ۔قائد انقلاب اسلامی نے پاپ بینیڈکٹ شانزدہم کے اسلام مخالف بیان پرگہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا البتہ گمان کیاجاتا ہے کہ پاپ اس سلسلے میں دھوکہ کھاگئے ہیں اور نہیں سمجھ سکے کہ اس قسم کے بیانات کے پیچھے کونسے مقاصد اور اہداف کار فرما ہیں ۔قائد انقلاب اسلامی نے پاپ کی طرف سے عقلانیت پر اسلام کی بے توجہی کے الزام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ کسی بھی آسمانی کتاب نے قرآن کی طرح تعقل اور تدبر پر اتنی زیادہ تاکید نہیں کی گئی ہے اور امت اسلامیہ کی شاندار اور درخشان علمی تہذیب بھی تعقل علم اور تدبر کی اہمیت کے بارے میں اسلام کی تاکیدات پر توجہ کا نتیجہ ہے ۔قائد انقلاب اسلامی نے اسی طرح جہاد کے بارے میں پاپ کے بیان کو ناانصافی بتایا اور فرمایا اسلامی جہاد دوسروں پر نظریہ اور عقیدہ مسلط کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ ان طاقتوں کے خلاف حریت پسندانہ جد و جہد ہے جو انسانوں کو غلام بناتی ہیں۔(18 ستمبر 2006)
تسلط پسند طاقتیں ملت ایران کی ثابت قدمی اور خود مختاری کی وجہ سے اس کی مخالف ہیں ۔
قائد انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے تسلط پسندوں کی جانب سے اسلامی جمہوریۂ ایران کے نظام کی مخالفت کئے جانے کی اصل وجہ تسلط پسندوں کی توسیع پسندی کے مقابلے میں ملت ایران کی ثابت قدمی اور خود مختاری قراردی ہے ۔
قائد انقلاب اسلامی نے تہران میں عدلیہ کے سربراہ ، حکام اور شہداء کے عزیزوں سے ملاقات کے موقع پر مزید کہا کہ اسلامی جمہوریۂ ایران دنیا میں وہ واحد ملک ہے کہ جس کے حکام عوام اور دانشور سب کے سب اتحاد اور پوری قوت کے ساتھ تسلط پسند نظام کی منہ زوری کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں بنابریں تسلط پسند طاقتوں کی جانب سے اسلامی نظام کی مخالفت معمولی مخالفت نہیں ہے ۔
قائد انقلاب اسلامی نے مشرق وسطی میں ایران کی سیاسی اور اقتصادی اسٹریٹجک پوزیشن اور ایران کی ملت اور اسلامی جمہوری نظام کی جانب سے عالمی تسلط پسند نظام کو چیلنج دئے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے موجودہ تقدیر ساز اور تاریخی حالات میں ایرانی حکام اور ملت کی بیداری اور ذمے داری پر زور دیا ۔(28 جون 2006)
قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے حج کے اعمال میں خلل ڈالنے کے لئے استعمار کے عناصر کی سازش سے خبردار کیا ہے ۔
حج کمیٹی کے ارکان نے آج تہران میں قائد انقلاب اسلامی سے ملاقات کی قائد انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں فرمایا کہ استعمار کے بعض ایجنٹوں کویہ مشن سونپا گیاہے کہ وہ حج کے موقع پر اختلافی مسائل اٹھائیں آپ نے فرمایا شیعہ و سنی سمیت تمام حاجیوں کو اس خطرناک سازش سے ہوشیار رہنا چاہئے اور سعودی حکومت کو بھی اختلاف ڈالنے والے عناصر کی سرگرمیوں کو روکنا چاہئے ۔
قائد انقلاب اسلامی نے اس بات پر زوردیتے ہوئے کہ حج کو مسلمانوں کے اتحاد کا آئینہ ہونا چاہئے ، مزید فرمایا کہ حج مسلمانوں کے ایک دوسرے کے زیادہ قریب آنے کےلئے بہترین موقع ہے لیکن دشمن کوشش کررہے ہیں کہ حج کو مسلمانوں کے اختلافات بڑھانے اورشیعہ و سنی کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے پلیٹ فارم میں بدل دیں ۔
قائد انقلاب اسلامی نے اس بات پر زوردیا کہ ایسے حالات میں جب عالمی سامراج مختلف شکلوں میں مسلمانوں کے ساتھ اپنے بغض و کینے کا اظہار کررہا ہے ، مشرکین سے نفرت و بیزاری کا اظہار اوراس سلسلے میں مسلمانوں کے موقف کا اعلان حج کے اعمال میں ایک اہم امر ہے ۔
انہوں نے مختلف ممالک کے مسلمانوں کے لئے حج کے دوران مشرکین سے نفرت و بیزاری کے اظہار کے مقصد کو صحیح اور منطقی طور پر بیان کرنے کی ضرورت پر زوردیا ۔(22 نومبر 2006)
ہماری ایٹمی پالیسی واضح اور منطق کی بنیاد پر ہے ۔قائد انقلاب اسلامی
قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے فرمایا ہے کہ جیسا کہ گذشتہ 27 سالوں میں دفاع مقدس اور دیگر موقعوں پر ثابت ہوچکاہے اتحاد ، پائیداری اور اپنے راستے پر یقین کے ساتھ ہی ملت ایران کو واضح کامیابی حاصل ہوگی ۔
قائد انقلاب اسلامی نے ملک کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ایک ملاقات میں ایٹمی معاملے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ ہماری پالیسی ترقی ، واضح منطق اور ملت ایران کے حق پر اصرار ہے البتہ ایٹمی معاملے میں بھی ہمارا ہدف مکمل طور پر واضح اور انسانی ہے ۔
آپ نے علاقے خاص طور سے عراق ، فلسطین اور لبنان میں امریکی پالیسیوں کی شکست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ امریکہ بے بنیاد مسائل پیش کرکے علاقے کے ممالک کو اسلامی جمہوریۂ ایران سے خوف زدہ کرنا اور ایران کو الگ تھلگ کرنا چاہتا ہے لیکن اس کو پہلے کی طرح اس بار بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا ۔
اس موقع پر صدر مملکت جناب احمدی نژاد نے کہا کہ ملت ایران بغیر کسی خوف کے استقامت اور تدبر کے ساتھ اپنی سربلندی کی راہ پر گامزن رہے گی ۔انہوں نے کہا کہ بڑی طاقتوں کے دباؤ اور پروپیگنڈے کے باوجود ناوابستہ تحریک کے 118 رکن ممالک ، 57 اسلامی ممالک گروپ ڈی آٹھ کے رہنماؤں اور ایکو کے رکن ممالک نے ایٹمی توانائي سے پرامن استفادے کے ایرانی حق کی واضح حمایت کی ہے ۔(11 اکتوبر 2006)
ملک کی مشکلات و مسائل کاحل علمی ترقی و پشرفت میں ہے۔ قائد انقلاب اسلامی
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیتہ اللہ العظمی خامنہ ای نے ایران میں علمی جنب و جوش میں مزید تیزی اور سرعت لانے پر تاکید فرمائی رھبر انقلاب اسلامی نے ایران کی علمی شخصیات اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ سے ملاقات میں فرمایا کے آئندہ پچاس برسوں میں علمی میدان میں پہلے مقام پر پہنچنا ہمارا ہدف ہے۔ آپ نے فرمایا کے اس انتہائی اہم مقصد و ہدف تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کے قومی توانائي اور ایرانی استعداد پر یقین کریں، وسائل کے قدرتی استعداد سے صحیح استفادے کے لئے صحیح منصوبہ بندی کریں اور گذشتہ سات برسوں کے کامیاب تجربوں سے درس حاصل کریں ۔
رھبر انقلاب اسلامی نے علمی شجاعت، تخلیق، و ایجادات، مغرب کی علمی پشرفت پر تقلیدی نگاہ سے گریز، ذاتی و قومی اعتماد بہ نفس اور سعی اور مہم کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے ایرانی اساتذہ کی خصوصیات بتایا اور فرمایا ملک کو مشکلات و مسائل کا اعلاج علمی ترقی و پشرفت میں ہے۔
حکام کا اہم ترین فریضہ عوام کی خدمت ہے ۔قائد انقلاب اسلامی
قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے فرمایا ہے کہ حکام کا اہم ترین فریضہ عوام کی خدمت کرنا ہے کیونکہ اسلام میں حکومت کا فلسفہ ہی عوام کے امور کو انجام دینا اور ان کی خدمت کرنا ہے ۔
قائد انقلاب اسلامی نے صدر مملکت احمدی نژاد اور ان کی کابینہ کے اراکین سے ملاقات میں مالک اشتر (رح) کے نام امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے فرمان کے بعض اقتباسات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ عوام ہمیشہ حکومت اور حکام سے خاص امور جیسے اہلیت و لیاقت قومی تشخص دفاع امانت داری اور عوام سے رابطے کے خواہاں ہوتے ہیں اور یہ مسئلہ حکومتوں و حکام کے لئے ایک معیار بننا چاہئے ۔
قائد انقلاب اسلامی نے عوام کے ساتھ مہربانی و محبت سے پیش آنے کو حکام کا بنیادی فریضہ قراردیا اور فرمایا کہ عوام کی ممکنہ غلطیوں پر حکام کو عفو و درگذر کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔(2 اکتوبر 2006)
عید کے موقع پراعلی سول اور فوجی حکام اوراسلامی ملکوں کے سفراء کے رھبرانقلاب اسلامی سے ملاقات
قائد انقلاب اسلامی نے کہا ہے کہ اپنی پہچان، خدا پر توکل، اتحاد کے تحفظ، استقامت اور ہوشیاری کے ساتھ ہی مسلمان عزت اور اقتدار کی راہ پر چل سکتے ہیں۔
حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے عید کے موقع پر اعلی ایرانی حکام ، اسلامی ملکوں کے سفراء اور مختلف طبقوں کے ایک عوامی اجتماع سے خطاب میں کہا کہ آج مسلمان بیدار اور اپنے تشخص سے واقف ہوچکے ہیں۔ بنابریں اس بیداری کی اہمیت سمجھنی چاہیئے اور صحیح سمت میں اس کی ہدایت کرنی چاہیئے۔
آپ نے اس بات پر تاکید فرماتے ہوئے کہ آج فلسطین عالم اسلام اور عالمی برادری کا سب سے اہم مسئلہ ہے ، کہا کہ عالم اسلام کے تمام مسائل خصوصا مسئلۂ فلسطین میں عالمی سامراج بالخصوص امریکی اور صیہونی حکومت کے گنہگار ہاتھوں کو بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ آج مشرق وسطی کے علاقے میں امریکہ کے لئے صیہونیوں اور صیہونی حکومت کی مصلحت سے بڑھ کر کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے فلسطین، لبنان اور عراق میں اختلاف پیدا کرنے کی دشمنوں کی سازشوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین میں حماس حکومت کے عہدیداروں کی ہوشیاری نے اس کو ناکام بنادیا اور صیہونی حکومت کو تسلیم نہ کرنے کی حماس کی عوامی حکومت کی پالیسی فلسطینی عوام کی خواہش ہے۔ اور فلسطینی انتظامیہ کے حکام کو بھی فلسطینی عوام کی خواہش کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیئے۔
قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے عراق میں حالیہ فتنوں کا سبب قابض افواج کی مرضی کے برخلاف ایک عوامی حکومت کا برسرکار آنابتایا اور کہا کہ عراق کے اہم ثقافتی، مذہبی، سیاسی، سماجی، اجتماعی، عوامی اور قبائیلی شخصیات کو اتحاد اور ہوشیاری کا تحفظ کرتے ہوئے دشمن کے جال میں پھنسنے سے بچنا چاہیئے۔