امریکہ اور صیہونی حکومت گذشتہ سالوں کی نسبت بہت متزلزل ہوچکے ہیں ۔قائد انقلاب اسلامی

قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے سمنان کے اپنے دورے کے آخری دن گرمسار شہر میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کیا ۔

قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکہ اور صیہونی حکومت گذشتہ سالوں کی نسبت بہت متزلزل ہوچکے ہیں ۔آپ نے شہر کے مختلف طبقات سے متعلق افراد کے اجتماع میں دشمنوں کی متزلزل اور اسلامی نظام کی مستحکم پوزيشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ لبنان میں امریکہ اور صیہونی حکومت کی شکست فاش اللہ تعالیٰ کی ایک عنایت تھی تاکہ دنیا والوں کو بتایاجاسکے کہ بڑی طاقتوں کی نام نہاد طاقت کس حد تک کھوکھلی ہے ۔آپ نے فرمایا کہ آج دنیا کی سیاست بدل چکی ہے اور امریکہ جن علاقوں کواپنے لئے پرامن سمجھتا ہے ،ان میں امریکہ کی تمام تر کوششوں کے باوجود ایسی حکومتیں قائم ہورہی ہیں جو امریکہ کی مخالف ہیں ۔قائد انقلاب اسلامی نے سیاسی اور سماجی لحاظ سے ملت ایران کی پوزیشن کو نہایت مستحکم قراردیتے ہوئے کہا کہ آج ملت ایران کے دشمنوں پر حقیقت آشکار ہوچکی ہے کیونکہ دشمن نہ ایران پر تسلط حاصل کرسکتا ہے اور نہ ہی ملت ایران کو کوئی نقصان پہونچا سکتا ہے ۔(12 نومبر 2006)

 

شاہرود میں عظيم عوامی اجتماع سے قائد انقلاب اسلامی کا خطاب

قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے فلسطینی قوم کی بیداری اور اسرائیلی فوج پر لبنان کے حزب اللہ کی فتح کو ایرانی قوم کی اسلامی تحریک کا نتیجہ قراردیا ہے ۔

قائد انقلاب اسلامی نے صوبۂ سمنان کے دورے کے دوسرے دن شاہرود شہر میں معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کے عظیم اجتماع سےخطاب کیا ۔

آپ نے فرمایا کہ ایرانی قوم کی اسلامی تحریک کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیداری اس بات کا باعث بنی ہے کہ عالمی سیاستداں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ایرانی قوم ہی تمام میدانوں میں حقیقی فاتح رہی ہے ۔قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایرانی قوم کی کامیابی کے سلسلے میں عالمی سیاستدانون کے نظریات کی وجہ یہ ہے کہ ایرانی قوم نے تمام مشکلات اور مسائل کا سامنا کرتے ہوئے لاالہ الّااللہ و محمد رسول اللہ کے زیر سایہ تمام اقوام کی خود مختاری کے پرچم کو لہرایا اور یہ ایک قابل فخر کامیابی ہے ۔

حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے ایرانی قوم کی جانب سے تحریک اسلامی کاپرچم بلند کئے جانے اور عالم اسلام کے مسائل اٹھائے جانے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے قلوب کے رجحان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایرانی قوم کو چاہئے کہ مثالی اسلامی معاشرہ قائم کرکے جو اخلاقی اور روحانی اقدار کے ساتھ علمی اور مادی پیشرفت کا حامل ہو دنیا کے سامنے اسلامی نظام کا مکمل نمونہ پیش کرے ۔

قائد انقلاب اسلامی نے زور دے کر فرمایا کہ آج جوکچھ ایران میں پیش آیا ہے دشمنوں کی توقع کے برخلاف ہے اور ان حالات میں دوسرے کسی بھی وقت سے زيادہ اس بات کا امکان ہے کہ اسلامی نظام کے اعلا اہداف حاصل کئے جائیں ۔

آپ نے زوردے کر فرمایا کہ کفرو سامراج کے محاذ کے مقابلے میں اسلامی محاذ کی کامیابی کے امکانات بہت زیادہ روشن ہیں ۔

آپ نے بدامنی ، جنگ اورانسانی معاشروں کے سکون اور آسائش کے فقدان کو مغربی معاشرے میں سائنسی اور روحانی پیشرفت میں عدم توازن کا نتیجہ قراردیا ۔(11 نومبر 2006)

 

صوبۂ سمنان کے طلبا سے قائد انقلاب اسلامی کا خطاب

قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے انسانی معاشروں کی قومی شناخت کو نابود کرنے کے لئے صیہونزم اور عالمی استکبار کی کوششوں کے بارے میں خبردار کیا ہے ۔قائد انقلاب اسلامی نے صوبۂ سمنان کے اپنے دورے کے دوسرے دن صوبے کے ہزاروں طلبا سے خطاب میں عالمی حالات و واقعات پر عالمی صیہونزم اورسرمایہ دارانہ نظام کے کنٹرول کو ایک سنگین خطرہ قراردیا اور فرمایا زور و زر کی مالک بین الاقوامی طاقتیں اور گروہ جنہوں نے قوموں کے مفادات پر اپنا تسلّط جمانے کے لئے نیٹو جیسے فوجی ادارے قائم کئے تھے اب انسانی معاشروں کی قومی شناخت کی نابودی اور اپنے مقاصد کو زیادہ سے زيادہ حاصل کرنے کے لئے ثقافتی نیٹو تشکیل دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے وسیع تر ذرائع ابلاغ کی مدد سے ملکوں اور قوموں کے اندر ثقافتی و سماجی نیز سیاسی و اقتصادی تبدیلیوں کی نبض اپنے ہاتھ میں لے لیں لہذا اس مسئلے پر ہوشیاری کے ساتھ نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔اس سے پہلے قائد انقلاب اسلامی نے صوبۂ سمنان کے علما سے خطاب کے دوران سیاست سے دین کی جدائی کے لئے عالمی بڑی طاقتوں کی مسلسل کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ علما کو چاہئے کہ سیاست سے اپنا رابطہ برقرار رکھیں ۔حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے فرمایا کہ کسی عالم دین کے سیاسی ہونے کا مطلب سیاسی پارٹیوں میں شامل ہونا یا سیاستدانوں کا آلۂ کار بننا نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب سیاسی بصیرت کا حامل ہونا اور صحیح سیاسی تجزیہ و تحلیل کے لئے ضروری آگاہی حاصل کرنا ہے ۔(9 نومبر 2006)

 

ایٹمی انرجی پر سامراجی طاقتوں کی اجارہ داری، رہبر انقلاب اسلامی کی کڑی تنقید

قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ایٹمی انرجی پر سامراجی طاقتوں کی اجارہ داری ختم ہونی چاہئے فرمایا ملت ایران اپنے ایٹمی حقوق سے ہرگز دستبردار نہیں ہوگی ۔

قائد انقلاب اسلامی نے آج شہر سمنان میں عظیم عوامی اجتماع سے خطاب میں امریکہ کے اس پروپیگنڈے کی طرف کہ عالمی برادری ایران کے ایٹمی حقوق کے خلاف ہے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا قوموں کے علاوہ ناوابستہ تحریک اور اسلامی کانفرنس تنظیم کے ایک سو پچاس سے زائد ممالک ایٹمی انرجی پر اجارہ داری کے خاتمے کے خواہاں ہیں اوراپنے ایٹمی حقوق حاصل کرنے کے سلسلے میں ملت ایران کی دلیرانہ استقامت کو سراہتے ہیں آپ نے فرمایا اس سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا بھرکے لوگوں کی بڑی اکثریت ، ایران کے ایٹمی حقوق پامال کرنے کی چند مغربی ملکوں کی کوششوں کی مخالف ہے ۔

قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے فرمایا کہ اپنے ایٹمی حقوق کا ادراک اور اس سلسلے میں پائداری و استقامت ، ملت ایران کے قابل تحسین فہم و شعور اور امید کے جذبات کی علامت ہے کیونکہ ملت ایران جانتی ہے کہ ایٹمی انرجی کا حامل ہونا عالمی سطح پر ترقی و پیشرفت کا ایک بڑا معیار ہے اور ایران دوسروں کی مدد کے بغیر اپنی قوم کے اس حق کو حاصل کرسکتا ہے ۔رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ قومی سطح پر مستحکم ارادے اور امید کا جاری رہنا ترقی کی منزلوں کو طے کرنے کا سبب ہے ۔آپ نے گذشتہ 27 برسوں میں عالمی سامراج اور صیہونیت کی جانب سے اسلامی انقلاب کی دشمنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مغربی ملکوں کے پروپیگنڈوں کے برخلاف ، ملت ایران کے دشمن ماضی کی نسبت کمزور ہوگئے ہیں اور عراق ، افغانستان ، لبنان و فلسطین میں امریکہ کی شکست اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے ۔

قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ گذشتہ ستائیس برسوں میں دشمنوں کی سازشوں کے مقابلے میں ملت ایران کی کامیابی اتفاقی امر نہیں ہے بلکہ ایک معقول و منطقی عمل ہے جو ایمان ،امید اور مسلسل کوششوں سے جاری رہے گا۔

قائد انقلاب اسلامی نے مشرق وسطی میں امریکہ کی کمزور پوزیشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ امریکی حکومت نے اپنے تمامتر وسائل و ذرائع سے کام لیا اور بظاہر فلسطینی حکومت کو تسلیم بھی کرلیا کہ صیہونی حکومت کو فلسطینی عوام سے بچا سکے لیکن آج فلسطین میں ایک ایسی حکومت بر سر اقتدار آئی ہے جو اسرائیل کوتسلیم نہیں کرتی ہے اور یہ فلسطین میں امریکہ کی شکست ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ دنیا کی قومیں بالخصوص مسلمان قومیں اسلامی انقلاب کے اہداف اور نعروں کا خیر مقدم کرتی ہیں ، آپ نے فرمایا ملت ایران کی کارکردگي نے ،انسانی حقوق ، دہشت گردی کے خلاف جد وجہد اور جمہوریت سمیت بہت سے مسائل میں مغربی ملکوں کے کھوکھلے دعووں کی قلعی کھول دی آپ نے فرمایا ملت ایران نے ثابت کردیا کہ دینی جمہوریت حقیقی جمہوریت ہے کیونکہ اس طرح کی جمہوریت میں ، مغرب میں موجود پارٹی بازیوں کے برخلاف خود عوام ، حکام کو مسند اقتدار پر پہنچاتے ہیں ۔

قائد انقلاب اسلامی نے ملت ایران کے دشمنوں کو نصیحت کی کہ ایران کےساتھ محاذ آرائی کی ناکام کوششوں سے سبق حاصل کریں آپ نے فرمایا کہ تسلط پسند طاقتوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ اکیسویں صدی سامراجی فکر کے خاتمے اور معنویت آزادی اور قوموں کے دینی تشخّص و ماہیت کی طرف لوٹنے کی صدی ہے آپ نے فرمایا جو بھی ان حقائق کی راہ میں حائل ہونے کی کوشش کرے گا وہ شکست کھائے گا۔(8 نومبر 2006)

 

ہمارا ایٹم بم ہمارا ایمان ،ہمارے جوان اور عوام ہیں

قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) کی سترھویں برسی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ امام ہماری نظروں سے اوجھل ہوگئے  اور ان کا جسم ہمارے درمیان سے اٹھ گیا لیکن حقیقت امام ،درس امام اور مکتب امام ہماری قوم اور مسلم امّہ کے درمیان موجود ہے ۔رہبر انقلاب اسلامی  حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نےاسلامی  جمہوریہ ایران کو شجرۂ طیبہ اور امام خمینی کی دین قرار دیا اور فرمایا اس شجر اور کلمۂ طیبہ  کا ماحصل دنیای اسلام  کی بیداری اور ایران کی عزت ووقار کی صورت  میں سامنے آیا ۔آپ نے فرمایا  جو حیرت انگیز حقیقت  ہمارے انقلاب کو ممتاز بناتی ہے وہ  یہ ہے کہ اسلامی انقلاب ناقابل شکست ہے اور ہرگزسر تسلیم خم نہیں کر گیا ۔ آپ نے اپنے خطاب میں  فرمایا ایران ایٹمی ہتھیاروں کا محتاج نہیں ہے ۔ہمارا ایٹم بم ہمارا ایمان ،ہمارے جوان اور عوام ہیں ۔ہم دنیا کے ل‏ئے کوئی خطرہ نہیں ہیں اور دنیا بخوبی اس بات سے واقف ہے ۔رہبر انقلاب اسلامی نے ناوابستہ تحریک کے رکن 116 ملکوں کی جانب سے ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کی حمایت کے با ضابطہ اعلان کو ان ملکوں کی جانب سے ایک جراتمندانہ اقدام قراردیا اور فرمایا اسلامی کانفرنس تنظیم نے ایران کی حمایت کی ہے ۔ خودمختار ممالک ایران کی حمایت کررہے ہیں حتی وہ لوگ بھی جو امریکی دباؤ میں آکر وساطت کرتے ہیں اور ان کا مدعا بیان کرتے ہیں ، ہم سے رازداری کے ساتھ  کہتے ہیں کہ یہ ہمارا اپنا نقطۂ نظر نہیں ہے بلکہ امریکیوں نے ہم سے ایسا کرنے کو کہا ہے۔رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایااگر امریکیوں نے ایران کے بارے میں کوئی غلط قدم اٹھایا تو علاقے میں تیل کی ترسیل خطرے میں بڑھ جائے گی اور امریکہ بھی علاقے میں انرجی کی حفاظت نہیں کر پائےگا۔  

 

 

     " رہبر معظم کا ایک اہم خطاب "

پچھلے دنوں رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای دام ظلہ نے مدرسہ آیت اللہ مجتہدی - تہران کے اساتذہ اور طلاب علوم دینیہ کے اجتماع میں خطاب کے دوران " ایمان و معنویت سے عاری ترقی یافتہ علمی معاشروں کی مشکلات  " کی مانند اہم موضوعات پر نہایت ہی مفید و پر مغز گفتگو فرمائی ۔ ہم اس تقریر کی جامعیت اور افادیت کی ہمہ گیری کے پی‎ش نظر کچھ اہم مطالب آپ کی نذر کررہے ہیں امید ہے پسند فرمائیں گے ۔

رہبر معظم حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای دام ظلہ نے اس حوزۂ دینی میں علم و معرفت حاصل کرنے والے مومن و فعال طلبہ خصوصا جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : " ایک ایسے معاشرے میں ، جو ترقی کی طرف گامزن ہو اور اعلی علمی ، معاشرتی اور عالمی اہداف و مقاصد کا بھی حامل ہو ، اگر ایک ایسا قوی و مؤثر ثقافتی چشمۂ فیض جاری ہو جو معاشرے کی کوشش و حرکت کی صحیح سمت میں رہنمایی کرتارہے تو یہ معاشرہ خیر و ترقی اور کامیابی و کامرانی حاصل کرلے گا لیکن اگر اس طرح کا کوئی الھی و معنوی ، مذہبی ۔ ثقافتی چشمۂ فیض ۔ علمی توسیع و ترقی کی طرف گامزن معاشرے میں موجود نہ ہو تو نتیجے میں وہی چیز دیکھنے کو ملتی ہے جو آج مغرب کے ترقی  یافتہ معاشروں میں نظر آرہی ہے ۔ جس قدر زیادہ ترقی یافتہ ہیں اتناہی زیادہ انسانیت بھلائی اور عدل و انصاف سے دور ہیں ، آج آپ آمریکہ میں دیکھ سکتے ہیں علم ، دولت و ثروت ، فوجی قوت اور سیاسی و سفارتی کوششوں کے لحاظ سے ، وہ مادی تہذیب و تمدن کے اوج پر ہے ۔۔۔ لیکن انسانیت ، معنویت اور اخلاق و فضیلت سے دوری بھی آپ کو امریکی معاشرہ میں اس اوج پر نظر آئے گی کہ اس سے قبل کوئی دوسرا معاشرہ وہاں تک نہ پہنچ سکا ہوگا ۔ آج انسانی نقطۂ نگاہ سے نفرت انگیز ترین اخلاقی ، جنسی اور معاشرتی امور اسی امریکہ اور اس کے جیسے دوسرے ترقی یافتہ معاشروں میں قانونی شکل میں عام طور پر رائج اور مقبول ہوچکے ہیں ۔ گناہ تقریبا" سبھی انسانی معاشروں میں ہے لیکن کوئی گناہ عام اور قانونی ہوجائے اور اس پر سرمایہ کاری ہو اور اس کو تحفظ عطا کیا جائے وہ انحراف ہے جس کی مثال ملنا مشکل ہے ۔ آج یہ انحراف امریکی معاشرے میں ، سب سے زیادہ علمی ، صنعتی ، معاشی ، اقتصادی اور سیاسی ترقی یافتہ معاشرے کے عنوان سے نمایاں طور پر قابل مشاہدہ ہے ۔ آپ دیکھتے ہیں ایک مرد یا ایک عورت بہ ظاہر ہرطرح آراستہ و پیراستہ اس قدر مکمل شکل کہ اگر کوئی اس مرد یا اس عورت کو سڑک یا کسی دوکان پر دیکھے تو اس کے اخلاق و رفتار کے بارے میں دور تک کسی طرح کی بد گمانی کا تصور بھی نہ پیدا ہو لیکن یہی مرد اور یہی عورت بغداد کے ابوغریب جیل میں ایک درندہ نما بھیڑیے میں تبدیل ہوجاتے ہیں ۔ کیونکہ ب‍ظاہر اس صاف ستھری ، منظم و مرتب خوشبوسے معطر ٹائی اور پپنس لگائے انسان کے اندر ایک جنگلی کتا سورہاہے ۔ ابوغریب جیل کی تصویروں نے جو منظر عام پر آئی ہیں ، مغربی معاشروں کے غافل ترین سماجی طبقوں کو جھنجوڑ اور چونکا دیاہے ۔ اذیت رساں ، ایک عورت ، ان لطیف احساسات کے ساتھ جو ایک عورت میں ہونے چاہئے ، اذیتوں میں مبتلا کئی عراقی مرد ، اور جرم کیاہے ؟ مشکوک ہونا اور بس ، اور اذیتیں ؟ درندگی کی انتہا کو پہنچی ہوئی ، اور وہ برادری جوان جرائم کی مرتکب ہوئی ہے ایک ترقی یافتہ علمی صنعتی ، متمدن بڑے بڑے دعوے کرنے والی برادری ہے  در اصل عالم بشریت کی قیادت کے دعویدار معاشرہ کی رگوں میں جب معنوی رہنمائی کا ایک صحیح و سالم مؤثر ثقافتی خون کا سیلان مفقود ہوجاتاہے ، نتیجہ یہی ہوتاہے اس بڑی مغربی تہذیب و تمدن کا گناہ بھی یہی ہے  ۔"

رہبر معظم نے فرمایا : " یہ جو کہتے ہیں کہ اسلامی رجحان رکھنے والے روشن خیال و روشن نظر افراد مغربی تہذیب کے مخالف ہیں، اس کو اسلام دشمن مغربی عناصر الٹا کرکے پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ لوگ علم و ترقی کے مخالف ہیں ، حالانکہ اسلام پر ایمان رکھنے والے مغربی تہذیب کی مخالفت اس لئے نہیں کرتے کہ وہ علمی ترقی اور خرافات سے جنگ کے حامی اور تمام سماجی تعلقات کو علمی بنانے کے خواہشمند ہیں بلکہ ان کی مخالفت پوری مغربی دنیا میں معنویت اور انسانی اخلاق و فضائل کے فقدان کے سبب ہے ۔ یقینا" یورپ میں بیداری کی تحریک " رینیسانس " سے قبل ان کی مذہبی قیادت جس کج فکری اور انتہاپسندی کا شکار ہوئی اور وہ عقل و منطق سے دور جس طرح مکمل طور پر دشمنانہ تعصبات کی زندگی بسر کر رہی تھی اس کا رد عمل یہی ہونا چاہئے تھا یہ ان کی سرنوشت ہے جو اس تباہی سے دوچار ہے ۔ جب انہوں نے علم و ترقی کی مخالفت کی ، اور انسانوں کو اوہام و خرافات پر مبنی جرائم کی بنیاد پر ، زندہ زندہ آگ میں جھونک دیا اور یہ ابھی سو سال قبل کا یورپ ہے ، بہت زیادہ پرانی بات نہیں ہے ، جب مذموم ترین خرافات یورپ اور اس زمانے میں حکمراں کلیسا کے فکری اور معنوی پہلوؤں پر اس طرح سوار رہےہوں  تو اس کا نتیجہ یہی سب کچھ ہوتاہے جو یورپ میں ہوا اور جس نے یورپ کو تباہی کے اس دہانے تک پہنچادیاہے "  رہبر انقلاب اسلامی نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : " آپ جوان ہیں ، وہ دن بھی دیکھیں گے جب یہ مغرب کی مہذب دنیا ، معنویت سے محرومی کے باعث ہلاکت اور تباہی سے دوچار ہوگی ۔ قوت و اقتدار اور توانائیوں کے جس اوج پر وہ آج پہنچے ہوئے ہین وہاں سے ذلت و نا توانی کےگڑہوں میں گرجائیں گے ۔  یاد رکھئے " تاریخی عمل و رد عمل کے نتائج بہت زیادہ تیزی سے رونما نہیں ہوا کرتے " جس دن یہ نتائج آشکار ہوں گے ان کا علاج ممکن نہیں ہوگا ، البتہ وہ دن مغربی تہذیب کو ضرور دیکھنا ہوگا یہ بات مغرب کے روشن نظر افراد اس وقت بھی محسوس کررہے ہیں اور ان کو خبردار کیا کرتے ہیں ۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو ہم طلبہ کی ہے اور ہم دور بیٹھے یہاں کررہے ہیں ، جی نہیں ! یہ باتیں خود ان کا خیال ہیں ، البتہ ہم بھی یہی سمجھ رہے ہیں ۔ لیکن ایسا کیوں ہوا ؟ ان کے یہاں علم کی کمی نہیں تھی ، علمی ذرائع سے انہوں نے دولت و ثروت کے بے انتہا خزانے کشف کئے اور خدادداد زمینی ذخائر پر قبضہ کیا اور جس قدر فوائد کا امکان تھا فائدہ اٹھایا ۔ فضاؤں میں بھی گئے اور اجرام فلکی کا بھی گہرائی سے انکشاف کیا ۔ وہ علمی ترقیوں میں بہت زیادہ آگے ہیں اور اپنے علم سے قوت و اقتدار اور سیاسی برتری کے حصول میں جتنا بھی ممکن تھا جائز و ناجائز فائدہ اٹھایاہے اسی علم کے ذریعے سامراجیت قائم کی ، مختلف عالمی قتل عام کئے ، دسیوں لاکھ انسانوں کا یورپیوں نے گذشتہ چند صدیون کے دوران مختلف جنگوں میں اور مختلف حادثوں میں قتل عام کیا ،  بنابرین ان کے یہاں کوئی علمی کمی نہیں تھی ، لیکن علم ہدایت کے بغیر ، فضیلت و معنویت اور انسانیت کے بغیر صرف دنیا کو نظر میں رکھنے اور آخرت سے آنکھیں پوری طرح بند رکھنے والے علم کا نتیجہ یہی ہے ۔ معنویت سے عاری علمی ترقی پہلے زندگی کو جلوے ، دولت و اقتدار اور حسن و رنگینی عطا کردیتی ہے  " للباطل جلوہ  " لیکن بعد میں اس کا انجام اسی طرح کا ہوتاہے اور یہ سلسلہ یونہی چلتا چلا جائے گا ۔ آپ سن لیں ترقی یافتہ تمدن معاشروں کا کہ جنہوں نے معنویت کی بو بھی نہیں سونگھی ہے اخلاقی جنگلی پن روز بروز بڑھتاجائے گا اور یہی جنگلی پن مغربی تہذیب کی  سب  سے  بڑی  لغزش گاہ ہے جو ان کو سرنگوں کرے گی ۔ معاشرہ میں یہ معنویت فراہم کرنا کس کا کام ہے ؟ دنیا پرستی کی موج مارتی ظلمتوں کے درمیان فضیلت کے چراغ کون روشن کرے گا ؟ خواہشات نفسانی کے سرکش گھوڑوں کو جو اس طرح کے خطرناک میدانوں میں انسان کو لا گراتے ہیں کون لگام لگا ئے گا اور کون قابو میں لائے گا ؟ عاقل و فرزانہ فعال و باخبر مذہبی پیشواؤں کا یہ کام ہے کہ جن سے اہل مغرب محروم تھے ، اگر معاشرے میں ان خصوصیات کے حامل مذہبی رہنما اور علمائے دین موجود ہوں جو علم دین جانتے ہوں ، حسب ضرورت تقوی و تقدس رکھتے ہوں ، ضروری شجاعت پائی جاتی ہو اور خدا کے لئے میدان میں اترآئیں عقل و تدبیر سے کام کریں تو جس قدر بھی معاشرے کی دنیوی ترقی میں اضافہ ہوگا اس کی معنویت میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا ۔ یہ عدم توازن جو آج مغربی دنیا پر حکمراں ہے ،  اور ان کو ہلاکت کی طرف لے جارہاہے ، پھر نہیں پیش آنا چاہئے ۔ آپ لوگ جو جوان اور ہمارے ملک و معاشرے کے نو نہالوں میں شمار ہوتے ہیں ملک و قوم بلکہ اس عظیم اسلامی برادری اور اس سے  بھی بلند ہوکر پوری انسانی برادری کو نجات دلائیے آپ اسی نگاہ سے دیکھئے اور اسی تصور کے ساتھ میدان عمل میں اتر کر کام کیجئے ۔ صحیح طرز فکر یہی ہے ایسا نہیں ہے کہ ہم علماء و طلبہ کے درمیان کمی اور کوتاہی نہیں ہے کیونکہ کمیاں بہت زیادہ ہیں لیکن اس امن و سلامتی کو ہمارے علمائے ما سلف نے محفوظ رکھاہے اور علم و تقوی کی راہ میں تن دہی کے ساتھ کوششیں کی ہیں اور رشتۂ معنویت کو برقرار رکھاہے۔ آج یقینا" ہمارا ملک اور اسلامی معاشرہ دوسرے تاریخی ادوار سے بہت مختلف ہے اور اسی اعتبار سے علماء کا کردار بھی دوسرے زمانوں سے زیادہ غیرمعمولی اور ممتاز ہے "

زمانۂ گزشتہ میں علمائے اسلام ، حکومت اور نظم و تدبیر مملکت سے دور ایک ایسے مجموعہ کی حیثیت رکھتے تھے کہ جس نے تمام ادوار میں پوری طرح حتی شیعیت کے دعویدار ، علماء کا احترام کرنے والے صفوی بادشاہوں کے زمانے میں بھی ، خود ایک مغلوب گروہ کے ہاتھوں مغلوب جماعت کی سی زندگی گزاری ہے ، فتحعلی شاہ قم میں میرزائے قمی کے گھر جاتے اور ان کا بازو پکڑکر اٹھنے بیٹھنے میں مدد کرتے مگر ان کے زمانے میں بھی علما کا گروہ مکمل طور پر گوشہ نشین تھا ،گویا ایک سیلاب رواں دواں ہے لیکن اس کے کنارے ایک نہر ہے جو اس سے متصل ہونے کے باوجود سیلاب کی روانی میں کسی بھی بنیادی اور اصولی کردار و عمل سے عاری ہے ۔ نہ صرف علماء بلکہ خود مذہب کا یہی عالم تھا ۔ آج ہمارے ملک کی تاریخ میں بلکہ تمام اسلامی ملکوں کی تاریخ میں ، صدر اسلام کے بعد ، پہلی مرتبہ مذہب حکومت و اقتدار کا منبع و سرچشمہ بناہے اور علمائے دین معاشرے کا انتظام چلارہے ہیں ۔ علماء کا نمایاں اور مقدم ہونا یا نہ ہونا اہم نہیں ہے ۔ اہم دین کا مقدم ہونا یا نہ ہوناہے ہماری قانون ساز اسمبلی ایک اسلامی پارلیمنٹ ہے  یعنی ہمارے قوانین کی منظوری یا نامنظوری کا معیار اس کا دین کے مطابق ہونا یا نہ ہوناہے ، (فقہا و زعما کی سپریم کونسل) شورائے نگہبان ، کابینہ کے اراکین یعنی قوۂ مجریہ ( اور عدلیہ) و غیرہ ملک کا نظام چلانے والے تمام دست و بازو اور ذمہ دار حکام ایک مذہبی سرچشمے سے وابستہ ہیں ، یہ ہمارے موجودہ  معاشرہ کی بنیادی ترین خصوصیت ہے جس کی زمانۂ گزشتہ میں مثال نہیں ملتی ۔ اگر آپ دیکھ رہے ہیں کہ کفر و استکبار کے عظیم مورچے اپنی طرح طرح کی تمام شکلوں کے ساتھ ان مذہبی نقطوں سے شدت کے ساتھ بر سر پیکار ہیں تو یہ اسی لئے ہے ۔ شورائے نگہبان کے سخت مخالف ہیں ، پارلیمنٹ کے جو اسلامی پارلیمنٹ ہو ، سختی سے مخالف ہیں ، صدر جمہوریہ جو اسلام کا دم بھرے اس کے سخت مخالف ہیں اور بہ طریق اولی ، اسلامی قیادت و رہبری اور ولایت فقیہ کے سو فیصدی مخالف ہیں کیونکہ یہ سب وہ بنیادی نقطے ہیں جو اسلامی نظام کی راہ و روش ، موقف اور حکمت عملی کا تعین کرتے ہیں ۔ ہمارے ملک کی یہ صورت حال وہ صورت ہے کہ اگر اسی طرح پیچھے چلتے جائیں تو صدر اسلام تک اس کی نظیر نہیں ملے گي ۔ اگر یہ ملک مادی  ترقی و تحرک کے میدانوں میں کامیابیاں حاصل کرسکاہے ، اگر علم و ٹکنالوجی اور صنعت میں یہ ملک آگے بڑھاہے اگر یہاں ایک بین الاقوامی سیاست اور قوی و مستحکم سفارتی عمل پایاجاتاہے اگر یہ معاشرے کے اقتصاد کو منظم کرسکاہے ، اگر زمینی سرمایوں کے عظیم ذخائر سے ، وہ معدنی ہوں یا زراعتی یہ ملک بھرپور فائدہ اٹھانے کے قابل بناہے ، اگر مختلف خصوصیات کی حامل ایران کی وسیع سرزمینوں سے جو فوجی اور تجارتی محل وقوع کے لحاظ سے بڑی اہمیت کی حامل ہیں ملک پوری طرح فائدہ اٹھا سکاہے اور مختصر یہ کہ اگر اس نے اپنی تہذیبی روایات کو عالمی ترقیوں کے معیارات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے تو یہ اسلامی نظام کی جامعیت سے صحیح فائدہ اٹھانے کی وجہ سے ہے ۔ در حقیقت یہ سب سے پہلا ملک اور حکومت ہوگی جس نے مادی ترقیاں فضیلت و معنویت کے درخشاں چراغ کی روشنی میں حاصل کی ہیں یہ ایک " نئی تہذیب" بنے گی جس کی تاریخ میں بہت ہی کم مثال مل سکے گی یہ مغربی تہذیب کو چیلنج کرنے اور سختی سے خبردار کرنے والا ایک ممتاز وجود ہے ۔ اگر اس مجموعہ میں آپ نے روحانیت و معنویت کے کردار کا ممتاز  ہونا ثابت کردیا تو دیکھیں گے کہ آپ نے اس تہذیب و ارتقاء کی کس قدر قیمتی خدمت انجام دی ہے ۔ نئے علوم بہت زیادہ قابل ستائش ہیں ، ہمارے جوان جو یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ہم ان کے علم و تحقیق اور تجربوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور تعریف و تشویق کرتے ہیں ۔ آپ نے سنا اور دیکھا ہوگا کہ میں نے یونیورسٹیوں کا دورہ کیاہے اور جوان و رعنا طلبہ اور اساتذہ سے باتیں کی ہیں اور انہیں موجودہ علمی سرحدیں توڑنے کی دعوت دی ہے کہ سرحدوں سے نکلیں ۔ نئے علوم کا انکشاف کریں اور علم کی پیداوار کریں یہ وہ کام ہیں جو ضرور ہونے چاہئے ہم ملک کے حکام اور اس کے فعال و سرگرم دست و بازو کی، ٹکنالوجی ، صنعت و زراعت اور قومی سرمائے کی پیداوار اور صحیح تقسیم کی طرف تشویق و ترغیب کرتے ہیں اور اس راہ میں کوششیں اور سرمایہ کاری کررہے ہیں یہ سب چیزیں لازم و ضروری ہیں شرط یہ ہے کہ بہترین رخ سے انجام پائیں ۔ لیکن اگر آپ (دینی طلبہ اور اساتذہ) کہ جنہوں نے مذہب اور فضیلت و معنویت کی روشنی جلائے رکھنے کا عزم کررکھاہے ، غائب ہوجائیں ، یہ تمام ترقیاں بے قیمت ہوجائیں گی بلکہ اقدار مخالف وسائل میں تبدیل ہوجائیں گی ۔ حوزات علمیہ (اور مذہبی درسگاہوں ) کی اہمیت اسی منزل میں معلوم ہوتی ہے اس زاویے سے آپ کا کام ان تمام کاموں سے جو ہورہے ہیں زیادہ اہم ہے روشن  خیال ، روشن نظر، شجاع ، متقی ، پاک دامن علم و آگھی سے سرشار، خوف خدا رکھنے والے مردم دوست علماء کی ایک جماعت کی موجودگی ترقی کی طرف گامزن معاشرے میں یہ نوید و خوش خبری دیتی ہے کہ یہ ترقیاں گمراہی و تیرگی کی راہ میں ، جو تاریخی عمل و رد عمل میں زوال و انحطاط کا باعث بن جاتے ہیں ، استعمال نہیں ہوں گی یہ آپ جوان طلاب اور دینی علوم کے محصلین کا کردار ہے اس کی قدر کیجئے بہت اہم ہے ۔ یقینا مشکلات آپ کی راہ میں حائل ہیں ، آج ہمارے طلبہ اور علماء بہت سی مشکلات سے دوچار ہیں مادی مشکلیں ہیں ، مقام و حیثیت کی مشکلیں ہیں ، طرح طرح کی سختیاں ہیں محرومیاں ہیں لیکن یہ سب کچھ اس عظیم مقصد کے سامنے زیرو ہے معاشرہ کا کوئی بھی گروہ مشکلات سے جنگ کئے بغیر " ایک مؤثر اور جاوداں کردار نہ تو اداکرسکا اور نہ ہی وجود میں لا سکاہے ۔ انسانی مزاج میں یہ چیز نہیں ہے کہ وہ عیش و آرام اور مکمل آسائش کا حامل ہو اور کسی بلند مقام تک پہنچ جائے ، سختیوں سے گزرنا ضروری ہے ۔ یہ وہی رضائے الہی کی طرف بڑھنا اور ایک معاشرے کی نجات و ترقی میں مؤثر کردار ادا کرناہے ۔ حوزات علمیہ آج اس انداز کا خود کو بناسکتے ہیں کہ حقیقی معنی میں " مؤثر کردار " ادا کریں ۔ حوزۂ علمیۂ قم تقریبا" پچاسی سال قبل تیرہ سو چالیس ہجری میں الحاج شیخ عبدالکریم حائری مرحوم کے ذریعہ وجود میں آیا اور اپنے مؤسس کی رحلت یعنی صرف پندرہ سال بعد بظاہر یہ حوزہ بکھرگیا کیونکہ یہ رضاخان(پہلوی) کی ایجاد کردہ گھٹن اور اقتدار کے اوج کا زمانہ تھا ۔ آقائے عبدالکریم حائری مرحوم کی رحلت کے بعد کئی سو طلبہ جو قم میں تھے ، بھوک ، افلاس اور کوئی ذریعۂ آمدنی نہ ہونے کے سبب موجودہ صورت حال سے خوف زدہ شہر قم سے نکل کر ادھر ادھر پراگندہ ہوجاتے قم کے اطراف میں واقع باغات میں بیٹھ کر علمی مباحثے کرتے اور راتوں کو مدرسۂ فیضیہ یا اپنے گھروں میں واپس جاتے تھے ۔ لیکن ان ہی آوارۂ شہر ، حکمراں مشینری کے اقتدار اور رعب و وحشت کی فضاؤں سے خوف  زدہ ، عزت و حیثیت اور سیاسی و اقتصادی دباؤ میں مبتلا طلبہ کے درمیان سے امام خمینی (رح) کے مثل افراد بھی پیدا ہوئے اور اسی حوزۂ علمیۂ قم کی تشکیل کے صرف چالیس سال بعد یعنی سن تیرہ سو اکیاسی ہجری میں علماء کی تحریک شروع ہوئی یہ چیز بڑے مفہوم کی حامل ہے جب کہ ان چالیس برسوں میں بھی کئی سال بڑی سختیوں کے گزرے ہیں ۔ اپریل سن انیس سو ترسٹھ میں جس وقت مدرسۂ فیضیہ کے حادثے پیش آئے طلاب کو ماڑا پیٹاگیا اور چھتوں سے نیچے پھینک دیاگیا ہم طلبہ امام خمینی کے گھر گئے، میں اس وقت آپ ہی کہ سن کا ایک جوان طالب علم تھا ۔ حوزۂ علمیہ کے خلاف (پہلوی شاہ) محمدرضا کی گھٹن آمیز حکومتی مشینری نے شمشیر کھینچ رکھی تھی ، طلبہ قم کی ارم اسٹریٹ سے گزرتے ہوئے ڈرتے تھے ، یہ میں نے  خود اپنی آنکھوں سے دیکھاہے ، سڑک کے اس سرے سے اس سرے تک شاہی کمانڈوز شمر کی مانند حملے کررہے تھے ، مارتے پیٹتے سروں سے عمامے چھینتے اور لباس پارہ پارہ کردیتے خوف و وحشت اور گھٹن کے اس ماحول میں اس دن امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) نماز مغربین کے بعد گھر واپس گئے ، یہی گھر جو آج قم میں ہے ، طلبہ بھی گئے، میں بھی تھا ۔ امام خمینی(رح) نے رضاخان کے زمانے میں جو گھٹن کی فضا تھی بیان کی کہ کس طرح طلبہ قم سے باہر زندگی بسر کرتے تھے اور کہنے لگے :  اس وقت ہم لوگوں نے اس طرح کی زندگی گزاری ہے ، وہ لوگ ختم ہوگئے ہم موجود ہیں ، اب یہ لوگ ختم ہوجائیں گے تم لوگ یہاں رہوگے ۔ " یہ امام خمینی(رح) کی پیشین گوئی تھی ، وہ پیشین گوئی جو الہی وعدے پر استوار تھی ۔ خداوند متعال نے وعدہ کیاہے اگر کوئی جماعت اس کی راہ میں جہاد و استقامت سے کام لے اور ایمان کی حامل ہو یقینا" اپنے مقصد کو پہنچ کے رہے گی ۔ الہی وعدہ ہے کوئی جھوٹ نہیں ہے ، خدائے متعال انسان کے سامنے راہ کھول دیتاہے اور قدم قدم پر اس کی دستگیری کرتاہے ۔ جب مقصد خدا ہو  " والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا " اس جذبے اور اس ایمان کا اہم ترین فائدہ میدان میں اترآنا اور کوشش و جد و جہد کرناہے ۔ جہاں یہ چیز موجود ہوگی بلاشبہ کامیابی ملے گی ۔ آج ہم اس بے پناہ اور مسلسل جد و جہد کا کہ خداوند متعال نے جس کا اجر قرار دیاہے ، نتیجہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ، اسلامی بنیادوں پر اہلبیت علیہم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں ایک حکومت کی تشکیل (اسی کا نتیجہ ہے ) کیا یہ کوئی مذاق ہے ، کیا کسی کے ذہن میں آتاتھا دنیا پر مادیت کے مکمل اقتدار اور حکمرانی کے دور میں طرح طرح کی سامراجی روشوں اور ہتھکنڈوں اور نئی سامراجیت کے پروپیگنڈوں نیز سیاسی معاشی اور اقتصادی حربوں کے مقابل اور وہ بھی دنیا کے اس قدر حساس علاقے میں اچانک ایک قوی و تناور درخت  سربلند کرتاہے اور وہ بھی اس قدر گہری جڑوں کے ساتھ کہ پچیس سال سے جاری (مشرق و مغرب کے ) طوفانی جھکڑ اس کو اپنی جگہ سے نہ اکھاڑ سکے ، کوئی معمولی چیز نہیں ہے ، عام نگاہوں میں یہ ایک انہونی بات ہے لیکن اسی انہونی چیز کا الہی میزان و معیار پر ہونا حتمی تھا اور ہوگیا ۔ ہم آج ، اپنے آئندہ بیس سالہ پروگرام میں کہہ چکے ہیں کہ بیس سال بعد ہمارے ملک کو مادی ترقی ، سیاسی ترقی ، اور معنوی اور ثقافتی ارتقاء کے لحاظ سے اس نقطے تک پہنچ جاناہے ۔ وہ تلاش و جد و جہد ، جو اس راہ میں کی جارہی ہے وہاں تک پہنچنا یقینی ہے ۔ کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے پھربھی جیسا کہ ہم نے عرض کیا ، یہ پیشقدمی انہی ہدایت ، مذہبی رہنمائی اور علماء کی قیادت میں بھی ہوسکتی ہے اور اس کے بغیر بھی ممکن ہے ۔ اب اگر اس کے بغیر ہوئی تو بھی ہم دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں قرار پاجائیں گے ہم سے سو سال پہلے دو سال پہلے بھی دوسرے لوگوں نے یہ ترقیاں حاصل کی تھیں ، یہ بھی ابھی تازہ طور پر ابوغریب جیل اور دوسرے جیلوں میں اور دونوں بین الاقوامی جنگوں میں سامراج کا نفرت انگیز چہرہ جو دنیا کے سامنے آیاہے آخر یہ بھی تو ترقیاں ہیں !! لیکن یہ ترقیاں اگر دین کی رہنمائی میں ہوں تو اس وقت ، ایک ایسی چیز میں تبدیل ہوجاتی ہیں کہ جس کو دیکھنے سے اب تک دنیا محروم رہی ہے اور تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی ، تہذیب ، علم و دانش ، مادی ترقیاں ، دین و مذہب کی رہنمائی میں تقوے اور فضیلت و معنویت کے ساتھ وہ چیز ہے کہ دنیا نے اس کا ابھی تجربہ نہیں کیاہے ۔ہم کو دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں سرفہرست پہنچناہے آپ دیکھیں ، مذہبی رہنماؤں اور آپ جوانوں کا کردار کس قدر اہم ہے ، اسی جماعت کے درمیان جو یہاں بیٹھی ہوئی ہے اور وہ ہزاروں جوان طلبہ جو قم میں اور دوسرے دینی حوزوں میں آپ کی طرح مصروف ہیں ان میں بالقوت بڑے بڑے علماء موجود ہیں جو آئندہ انشاء اللہ اس کی تاریخ کا مشاہدہ کریں گے ۔ آپ کے درمیان امام خمینی (رح) کی سطح کے افراد ہیں ، مراجع عظام کی سطح کے افراد ہیں ، مذہب کی راہ میں جہاد کرنے والے بڑے مجاہدین اور مذہب و معنویت کی تاریخ میں مستقبل کی بڑی اور نام آور ہستیاں موجود ہیں اگر کوشش کی تو یہی بالقوت وجود ، عملی وجود میں ڈھل جائے گا ۔ جس دن ہمارے معاشرے اور ملک میں سو افراد ، پانچ سو افراد ، ایک ہزار افراد ، امام خمینی (رح) کی مانند شخصیت کے حامل ہوجائیں گے آپ دیکھیں گے اس معاشرے میں کیسی عظیم حرکت نظر آتی ہے  ۔ جس وقت ہمارے معاشرے میں سیکڑوں ایسے افراد موجود ہوں گے کہ جنہیں مذہبی علوم پر تسلط ہومذہبی منطق اور استدلای روشن سے آشنا ہوں  فلسفہ و کلام اور جدید فلسفے پر اس قدر گہری نظر ہو کہ شکوک و شبہات  ایجاد  کرنے  والوں  کا منھ بند رکھ سکیں تو آپ دیکھئے گا   معاشرے میں کیسے عظیم اتفاقات رونما ہوتے ہیں جب اس جماعت کے ہاتھوں ہزاروں علمی مقالے رسالے اور کتابیں عالمی سطح پر مختلف زبانوں میں شایع ہوں گی آپ دیکھیں گے کیسا درخشاں آفتاب اس خطۂ ارض سے بلند ہوکر انسانی دنیا کی فکری فضاؤں میں نور افشانی کرتا نظر آتاہے ۔ یہ سب  کچھ  ہونا  ممکن  ہے ۔ صرف خیال کی باتیں نہیں ہیں ، تصور میں بھی نہ لائیے گا  کہ کھوکلی قسم کی وہ آرزوئیں ہیں جن کا عملی ہونا محال ہے ۔ جی نہیں ! یہ وہ حقیقتیں ہیں جو ہماری دسترس میں ہیں صرف ہاتھ بڑھانے کی ضرورت ہے کہ ان حقیقتوں تک پہنچا اور ان کو اپنے قابو میں لیا جاسکے ۔ اس کام کے لئے ہمت کی ضرورت ہے۔ سنجیدگی سے تعلیم حاصل کیجئے وہی نصیحت جو میں ہمیشہ نوجوان طلبہ کو کیا کرتاہوں ۔ وہ علوم جو آج حوزات علمیہ کے اختیار میں ہیں پڑھئے اور پوری جانفشانی کے ساتھ خود کو مقام تحقیق تک پہنچائیے۔ یونہی بیٹھے بیٹھے ، کسی کد و کاوش کے بغیر برف کا ڈھیر لگا لینے سے انسان محقق ، فقیہ اور فلسفی نہیں ہوجاتا ایک ایک اینٹ برابر سے رکھ کر " ستون " چنتے ہیں پھر آگے بڑھتے ہیں تب کہیں جاکر " اوج" نصیب ہوتاہے ۔ علم و تقوی کے میدان میں آپ کے یہاں نورانیت موجود ہے آپ کے قلوب پاک ہیں اور جانیں پاکیزہ ہیں ۔ آپ ابھی صاف و شفاف ہیں اس شفافیت کی حفاظت کیجئے گناہ سے دور رہئے خدا کے ذکر و توجہ پر زور دیجئے  " فمن شاء اتخذ الی ربہ مابا " جو شخص چاہے خدا کی طرف قدم بڑھائے ،خدا سے خود کو آشنا بنائے اور تقرب حاصل کرے ۔ نماز میں ، اپنے حقیقی معنی میں احساس کرے کہ کسی سے مخاطب ہے اور اس سے بات کررہاہے ، مدد طلب کررہاہے اور اس کی پناہ میں ہے اس سے روشنی اور ہدایت چاہتاہے فضل و رحمت کا خواہاں ہے ایسے شخص کے لئے پہلا مرحلہ گناہوں سے پرہیز ہے پھر واجبات اور نوافل کی ادائگی ہے ۔ آپ سب جواں ہین عظیم سرمایے کے مالک ہیں ذراسا کوشش و ہمت سے کام لیں تو آگے بڑھ جائیں گے ۔ بنابرایں ! علم و تقوی دو بنیادی ستون ہیں ، پاکیزگی ، پرہیزگاری ، پاکدامنی ، علم و آگہی ، روشن نظری ، روشن خیالی ، معاشرے اور دنیا کے مسائل سے واقفیت یہ سب بنیادی ستون ہیں ، ممکن ہے ایک انسان عالم اور پرہیزگار بھی ہو لیکن چونکہ دنیا پر نگاہ نہیں رکھتا سرجھکاکر راستے سے گزرجاتاہے اور یک بیک خود محسوس کرتاہے کہ اصل راستے سے دور نکل آیاہے ہمارے درمیان ایسے افراد رہے ہیں بڑے ہی اچھے انسان ، مومن و مخلص عالم با عمل لیکن اپنے محاذ کی راہ کھوئے ہوئے  ۔ اگر انسان کے پاس قطب نما نہ ہوتو راستہ جلدی بھول جاتاہے ۔ آپ میں زیادہ تر جوانوں نے جنگ کا زمانہ نہیں دیکھا ۔ محاذ جنگ پر انسان جلد راہ گم کرجاتاہے ایک دفعہ سوچتاہے کہ دشمن پر گولیاں چلارہاہے لیکن چونکہ صحیح رخ پر کھڑا نہیں ہوتا بعد میں معلوم ہوتاہے کہ خود اپنی ہی فوج پر گولیاں چلارہاتھا ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں کہ وہ بجائے اس کے کہ اپنی معنوی گولیاں دشمن کی طرف چلائیں اپنی تو پوں کے گولے خود اپنے محاذ کی طرف پھینکنے لگتے ہیں خود اپنے مورچے والوں کو جہاں موقع ملا نشانہ بناتے ہیں ، ہم نے یہ چیز اپنی انقلابی جد و جہد کے دوران بھی دیکھی ہے اور اس کی وجہ بھی صرف یہ تھی کہ حقیقت سے آگاہ نہیں تھے ، غلط فہمیوں کا شکار تھے ، لہذا علم و آگہی حاصل کرنا ضروری ہے ۔ اپنی روشن خیالی اور روشن نظری کی حفاظت کیجئے اور اپنے عزم و ارادہ اور انتھک جستجو کے جذبے کو قوی و مستحکم کیجئے ۔ انشاء اللہ خداوند متعال اپنے فضل و عنایات میں روز بروز اضافہ فرمائے آپ تمام مومن و مخلص جوانوں کو حضرت بقیۃ اللہ (ارواحنا فداہ)  کی نظر خاص کا مرکز قرار دے اور انشاءاللہ ان بزرگوار کا  لطف آپ کے شامل حال رہے اور آپ لوگ آئندہ اسلام و مسلمیں ۔ اور ملک کے امور میں بھرپور کردار ادا کریں ۔

 

                                                                        والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ