|
رمضان کے پہلے جمعے میں تہران مرکزی نماز جمعہ رہبر انقلاب اسلامی کی امامت میں قائد انقلاب اسلامی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مشرق وسطی کے علاقے میں ایران کے اسلامی انقلاب کو ناکام کرنے اور کچلنے کا استکباری منصوبہ ناکام ہو گیا ہے ۔حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آج تہران کی نماز جمعہ کے خطبوں میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ آج علاقے میں امریکی پالیسیوں کی ناکامی کی واضح علامات اور نشانیاں دکھائی دے رہی ہیں ، فرمایا کہ ایران کے اسلامی انقلاب پر حملہ کرنے والے حتی امریکہ کی مانند طاقتور ملک روز بروز ناکامی اور شکست کے قریب ہوتے جا رہے ہیں ۔قائد انقلاب اسلامی نے یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ امریکیوں نے گیارہ ستمبر کے واقعات کو اپنے ناجائز مفادات کے حصول کے لیے ایک بہانہ قرار دیا ، فرمایا کہ اس واقعہ کے بعد امریکہ نے جو اقدامات کیے ان کا مقصد اسرائيل کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک نئے مشرق وسطی کا قیام اور اسلامی جمہوریہ ایران کا محاصرہ اور بائیکاٹ کرنا تھا۔قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اسی مقصد کے تحت عراق پر لشکر کشی کی ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کا محاصرہ کرنے کے مقصد سے عراق میں ایک پٹھو حکومت قائم کرنے میں امریکہ کی ناکامی فلسطین میں حماس کی حکومت کو ختم کرنے میں امریکی کوششوں کا بے نتیجہ رہنا اور لبنان کے خلاف تینتیس روزہ جنگ میں صیہونی حکومت کی شرمناک شکست ، تسلط پسند طاقتوں خصوصا امریکہ کی پالیسیوں کی ناکامی کی علامات ہیں ۔قائد انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا کہ امریکہ کے موجودہ صدر اور ان امریکی حکام پر جنہوں نے عراق پر قبضے میں کردار ادا کیا ، مستقبل قریب میں بے شمار جرائم کا ارتکاب کرنے کی بنا پر بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔انہوں نے عراق میں بدامنی کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے عراق پر قبضے کا نتیجہ قرار دیا۔قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر ہر قسم کا دباؤ ایران کے مزید مضبوط ہونے کا باعث بنے گا۔(14 ستمبر 2007)
بسم اللہ الرحمن الرحیم تہران کی مرکزی نماز جمعہ قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی امامت میں اداکی گئی قائد انقلاب اسلامی نے روزہ دار ومومن نمازیوں کے عظیم مجمع سے خطاب میں علاقے کے حقائق کو توڑمڑوڑ کرپیش کرنے اور فلسطین و عراق میں عوام کو ایک دوسرےکے مقابل صف آرا کرنے کی امریکی اور صیہونی سازشوں کی وضاحت کی آپ نے فرمایا کہ عالمی یوم قدس ان تفرقہ انگیزسازشوں کے مقابل امت اسلامی کے لۓ صدائ احتجاج بلند کرنے اور مزاحمت کرنے کا دن ہے ۔ قائد انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے دوسرے خطبے میں عالمی یوم قدس کو مسلمان قوموں کے لۓ یوم استقامت اور صیہونیوں اور ان کے حامیوں کے ظلم و بے انصافی کے خلاف صداۓ احتجاج بلند کرنے کا قراردیا اور فرمایا دنیا میں جہان کہیں بھی مسلمان ہیں یہ دن مناتے ہیں اور ایران کی عظیم قوم بھی خدا کے فضل و کرم سے ہرسال کی طرح اس سال بھی یہ دن مناۓ گی ۔ ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے علاقے کے حالات کی تجزیہ کرتے ہوۓ صیہونی حکومت کے ساتھ تینتیس روزہ جنگ میں حزب اللہ لبنان اور ملت لبنان کی کامیابی کو تاریخی اور بے نظیر واقعہ قراردیا ،آپ نے فرمایا کہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد مسلمان قومون نے ایک بار پھر دیکھا کہ ظلم و ستم کے مقابل ایمان کے ساتھ استقامت و پائداری کامیابی ساتھ لیے کرآتی ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ لبنانی استقامت کی کامیابی پر امت اسلامیہ کو خوشی ہوئي ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہےکہ سارا عالم اسلام حزب اللہ کی کامیابی میں خود کو شریک سمجھتا ہے آپ نے فرمایا کسی کو اس بات میں ذرہ برابر شک نہیں ہےکہ اس جنگ میں اسرائيل کی غیر قانونی حکومت امریکہ اور اس کے علاقائي آلہ کاروں کو شکست فاش ہوئی ہے ۔ قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ حزب اللہ اور ملت لبنان کی عظیم کامیابی سے یہ سبق اور عبرت حاصل ہوتی ہےکہ مسلمان قومیں اس سنت الھی اور رازپر گہراعقیدہ رکھتی ہیں کہ دشمن پر کامیابی حاصل کرنے کا واحد راستہ استقامت ہے البتہ اس کے لۓ شرط یہ ہےکہ قومیں استقامت کے نتايج وخطروں سے نہ گھبرائيں ۔ قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ لبنان کی حالیہ جنگ نے علاقے کے حالات بدل کررکھ دیۓ ہیں آپ نے کہا ان گہری تبدیلیوں کے آثارممکن ہے لمبی مدت میں ظاہرہوں تاہم کسی کو شک نہیں ہےکہ علاقے کے حالات بدل چکے ہیں ۔ قائد انقلاب اسلامی نے لبنان میں شکست فاش کا تدارک کرنے کے لۓ امریکہ اور صیہونی حکومت کی سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا کہ پچاس سال سے مغربی ممالک غیرقانونی صیونی حکومت کو سرسے پیر تک مسلح فوج کے سہارے قائم رکھنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن یہ فوج لبنان میں ایک عوامی گروہ کے مقابل کہ جس کے پاس محدود وسائل و ذرایع ہیں ناکام ہوگئي اور صیہونی فوج کی اس شکست فاش سے اسرائيل اوراس کے حامیوں کے حوصلے بری طرح پست ہوئے ہیں اسی بناپر امریکہ اور صیہونی حکومت علاقائي ممالک میں مخاصمانہ منصوبوں پر عمل کرکے اپنی اس آبروریزی کا بدلہ نکالنا چاہتے ہیں ۔ قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ لبنان میں مختلف میدانوں میں حزب اللہ کو ترقی کرنے سے روکنا امریکہ و اسرائيل کی ان سازشوں میں سے ہے جن کے ذریعے وہ لبنان میں اپنی شکست کا تدارک کرنا چاہتے ہیں آپ نے فرمایا کہ امریکہ واسرائيل اقوام متحدہ کی محافظ امن فوج کو جو اسرائيل کے حملوں سے لبنانی عوام کی حفاظت کے لۓ آئي ہیں حزب اللہ و ملت لبنان کے مقابل صف آرا کرنا چاہتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ لبنانی عوام خواہ وہ کسی بھی مذھب و عقیدے کےحامل کیوں نہ ہوں اور لبنان کی شیعہ سنی اور عیسائي شخصیتیں حزب اللہ کو اپنے ملک کے لۓ فخر کا باعث سمجھتی ہیں اور اس بات کی ہرگزاجازت نہیں دیں گی کہ یہ سازشیں کامیاب ہوں لیکن بہرحال سب کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔ قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آے دن فلسطینی باشندوں کے قتل عام اور حماس کی حکومت کو گرانے کی کوششوں کو بھی امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے اپنی شکست کا تدارک کرنے کی کوشش قراردیا اور انتباہ دیا کہ صیہونی اور ان کے حامی فلسطین کے حقائق یعنی جارحین کے خلاف فلسطینی قوم کی استقامت کو فلسطینوں کی داخلی جنگ میں تبدیل کرنے کی سازش کررہے ہیں آپ نے فرمایا تمام اسلامی قوموں کو ان سازشوں کے مقابل ہوشیارھنا چاہیے ۔ قائد انقلاب اسلامی نے آج عالم اسلام کی اہم تریں ضرورت اتحاد ہے اور امریکہ عراق میں بھی عوامی گروہوں کو ایک دوسرے کے سامنے صف آرا کرنے کی کوشش کررہا ہے ،آپ نے فرمایا کہ اسلام کے د شمن بالخصوص لبنان میں شکست کھانے کے بعد دھشتگردوں کی حمایت کرکے عوام کے درمیان خانہ جنگی کی آگ بھڑکانے اور شیعہ سنی اختلافات کو ہوادینے کی کوشش کررہے ہیں اسی طرح عراق میں لوگوں کو ایک دوسرے سے بدظن کرکے عراق کی موجودہ صورتحال یعنی جارحین کے خلاف عوامی جدوجھد کو عوام کے خلاف عوام کی لڑائي میں تبدیل کردیں ،آپ نے فرمایا کہ انگریز تفرقہ انگيزشازشوں میں ماہر ہیں اور انہوں نے امریکہ کو بھی اس کی تعلیم دے دی ہے لیکن حقیقت یہ ہےکہ عراق میں شیعہ سنی صدیوں سے آپس میں پرامن زندگی گذاررہے تھے اوراب بھی اتحاد و یکجھتی کے ساتھ جارحين کا مقابلہ کررہے ہیں ۔ قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکی اور صیہونی ذرایع ابلاغ میں ھلال شیعہ کے بارے میں پروّگینڈے اھل تشیع کے حصول اقتدارسے اھل سنت کوڈرانے کے لۓ کۓ جارےہیں آپ نے کہا دشمنان اسلام یہ بھی ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ ایران کوبھی ہمسایہ ملکوں سے خطرے لاحق ہیں تاکہ امت اسلامی میں تفرقہ انگيز پالیسیوں کو آگے بڑھاسکیں ۔ قائد انقلاب اسلامی نے تمام اسلامی قوموں کی بیداری و ہوشیاری پر تاکید فرماتے ہوۓ کہا کہ اگر اسلامی امت کو گذشتہ چند برسوں سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کوجاری رکھنا ہے تو اسے دشمنوں کی سازشوں کے مقابل بھرپور طرح سے ایسے ہوشیاررہنا ہوگا جیسے کہ ایرانی عوام و حکام داخلی سطح پر تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد بیرونی سطح پر بھی اپنی تمامتر کوشیش کرتے ہیں تاکہ دشمنان اسلام اپنی سازشوں میں کامیاب نہ ہوجائيں ۔ قابل ذکر ہے قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے نمازجمعہ کے پہلے خطبےمیں تقرب خدا اور پرہیزکاری حاصل کرنے کے لۓ ذکر و یاد خدا تقوی کی پابندی نیز ماہ مبارک رمضان کے فیوض و برکات سے بھرپوراستفادہ کرنے پر تاکید فرمائی آپ نے فرمایا کہ یہ ماہ عظیم دعا اور خدا سے رابطہ کرنے کا سنہرا موقع ہے آپ نے فرمایا دعا کا اہم ترین نتیجہ روح عبودیت کی تقویت اور احساس بندگی میں بالندگی آنا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ خدا کی بندگی اور عبودیت کے مقابل خود غرضی اور انانیت جسی صفات ہیں اور دعا خدا،انسان ،اور نیچر کے مقابل ان صفات کو زائل کرنے کا اثررکھتی ہے جس کے ن تیجے میں کائنات اور انسان زندگی کا ماحول نقصانات سے محفوظ رہتا ہے ۔ آپ نے عوام بالخصوص جوانوں کو دعابالخصوص ائمہ معصومین علیھم السلام سے نقل شدہ دعاوں کے روحانی اور معنوی اثرات وبرکات سے بہرہ مند ہونے کی نصیحت فرمائي آپ نے کہاکہ خدا کے نزدیک استجابت دعا کے لۓ کوئي قید وشرط نہیں ہے بلکہ یہ انسان کے اعمال ہیں جو استجابت دعا میں رکاوٹ بنتے ہیں اوریہ مسئلہ بھی معارف دعا میں سے ہی ہے ۔ قائد انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت کے بارے میں گفتگوکرتے ہوے کہا کہ آپ ایک کامل انسان و مسلمان تھے اور آپ کی ذات اقدس تمام انسانوں کے لۓ نمونہ عمل ہے قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ حضرت علی علیہ السلام نے دامن رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تربیت پائي تھی اور رسول اسلام کے قریبی ترین افراد میں شمارہوتے تھے اور آپ سخت تریں حالات میں بھی ہمیشہ اسلام اور اس کے رسول کی حمایت کرنے میں پیش پیش رہاکرتے تھے ۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی مختصر مدت کی حکومت کوتاریخ بشری میں تدبیر امور کے لحاظ سے معجزہ اور بے نظیرحکومت حکومت عدل مطلق ،حکومت شجاعت اور ساتھ ہی ساتھ مظلوم مطلق بھی قراردیا آپ نے فرمایا امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام مظہرعدالت و شجاعت و تدبیر انصاف اور انسانی حقوق کی پابندی اور خدا کے مقابل عبودیت کے مظہرتھے ۔
|
|
|
تہران ، نماز عید رہبر انقلاب اسلامی کی اقتداء میں رھبر انقلاب اسلامی حضرت آیتہ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اسلامی ملکوں میں عوام اور مختلف تنظیموں کے درمیان تفرقہ ڈالنے کیلئے امریکی سازشوں کو بے نقاب کرتے ہوئے علاقے کی مشکلات کا حل قومی اتحاد میں مضمر قرار دیا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے آج عید الفطر کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مختلف فلسطینی تنظیموں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو کامیابی کا ایک اہم ترین عنصر قرار دیا اور فرمایا فلسطینی گروپ، لبنانی عوام اور ملت عراق کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن کے ان منصوبوں سے غفلت برتیں کہ جو دشمن نے ان کے درمیان تفرقہ اندازی کے لئے تیار کئے ہیں۔ رھبر انقلاب اسلامی نے دنیا کی مسلمان اقوام کو خبردار کیا کہ وہ علاقے اور اسلامی ملکوں میں امریکی اور صیہونی حکومت کے مفادات پر نظر رکھیں ، آپ نے فرمایا کہ مسلمان اقوام کو ہوشیار رہنا چاہیے کہ امریکہ اور صیہونیوں کے نئے غدارانہ منصوبوں کی کامیابی کی سمت حرکت نہ کریں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا! آج جو چیز لٹیروں اور حریصوں کے لئے کامیابی تصور کی جاتی ہے وہ صرف بعض ملکوں کے نقصان میں ہی نہیں ہے بلکہ اس کا نقصان سبھی اسلامی ملکوں کو پہنچے گا رھبر انقلاب اسلامی حضرت آیتہ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے مشرق وسطی کے لئے امریکی پالیسیوں کو انتہائی مکارانہ بتایا ہے اور فرمایا حزب اللہ لبنان کی فتح اور صیہونی حکومت کی شکست کے ساتھ ہی مشرق وسطی کے لئے امریکی پالیسی ناکام ہوگئي ہے اور اس کے ساتھ ہی امریکہ اور صیہونی حکومت کچھ مراعات کھو دینے کے بعد پسپائي اختیار کر چکے ہیں۔ ولی امر مسلمین حضرت آیتہ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے رھبر کے انتخاب اور انتخاب کے بعد رھبر کے عمل کی نگرانی کے لئے ماہرین کی کونسل مجلس خبرگان کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور انتخابات کے عمل میں عوام کی شرکت کو روکنے کے لئے مغربی ذرائع ابلاغ کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ماہرین کی کونسل مجلس خبرگان کے گزشتہ مرحلے کے انتخابات کے موقع پر بھی بیرونی ذرائع ابلاغ نے عوام میں مایوسی پیدا کرنے کے لئے سرتوڑ کوششیں کیں تاہم ھمارے عوام نے دشمن کے مرضی کے برخلاف، ان انتخابات میں بھر پور شرکت کی۔
|
|
ایٹمی پالیسیوں کے بارے میں قائد انقلاب اسلامی کا نقطۂ نظر قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللّہ العظمی خامنہ ای نے تہران کی نماز جمعہ کے خطبوں میں ایٹمی سرگرمیوں کے سلسلے میں اسلامی جمہوریۂ ایران کی پالیسیوں کے اصول میں ، توازن کے تحفظ ، منطق ، مفاہمت ، مذاکرات اور اعتماد کو مضبوط بنانا شمار کیا ، اس کے ساتھ ساتھ آپ نے تاکید فرمائی کہ بحالی اعتماد کی پالیسی دو طرفہ ہونی چاہیے ۔ قائد انقلاب اسلامی نے وضاحت فرمائي کہ اگر مغرب خاص طور پر یورپ ایران کی طرف سے اطمینان حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے ایران کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئيں ۔ قائد انقلاب اسلامی کی جانب سے ، توازن ، منطق ، مفاہمت اور اعتماد کو مضبوط بنانے جیسے اصول پر تاکید خارجہ پالیسی میں اسلامی جمہوریۂ ایران کی اسٹریٹیجک کی حیثیت رکھتی ہے ۔ یہ اصول ، خاص طور پر ایٹمی سرگرمیوں کے سلسلے میں ایران کی بنیادی حکمت عملی کوبھی واضح کرتا ہے ۔ اعتدال و توازن کا مطلب ان اقدار کی پابندی ہے جن میں زور زبردستی او یک طرفہ نظریات کومسلط کئے جانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اسی بنا پر ملت ایران اپنی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں امریکہ اور یورپ کی زور زبر دستی اور تسلط پسندانہ پالیسیوں کو تسلیم نہیں کرتی اور اس کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں یورپ کا رویہ سامراجی دور کی پالیسیوں کی تکرار ہے جس کا زمانہ اب ختم ہو چکا ہے اور یورپ کو چاہیے کہ وہ اپنا طلبکارانہ لہجہ تبدیل کردے لیکن قائد انقلاب اسلامی کے بیانات میں دوسرا اہم نکتہ ، مفاہمت اور بحالی اعتماد ہے، حقیقت یہ ہے کہ مغرب اور عالمی صیہونیزم کے سیاسی حلقے القا کے ذریعے یہ کوشش کرتے ہیں کہ ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کی غلط تصویر دنیا کے سامنے پیش کریں تا کہ ایران کو اس کے جائز حق سے باز رکھا جاسکے یہ حلقے یہ جھوٹا پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ عالمی برادری ان کے القائي نظریات پر متفق ہے ، تا کہ اپنے اہداف کو آگے بڑھا سکیں ، جبکہ دنیا کا عام مطالبہ اور اتفاق ان ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف ہے جس کے پھیلاؤ کا مرکز امریکہ بعض یورپی ممالک اور صیہونی حکومت ہیں ان حقائق کے پیش نظر قائد انقلاب اسلامی ایران کے خلاف عالمی اتقاق کے سلسلے میں مغربی ذرائع ابلاغ کے پروپیگنڈوں کو ایک دھوکہ اور تشہیراتی فریب سمجھتے ہیں ، اسی کے ساتھ آپ نے وضاحت کی کہ اگر ایران کے خلاف عالمی اتفاق بھی ہوجائے جب بھی ملت ایران اپنے حق سے دست بردار نہیں ہوگی ،لیکن بہت سی قومیں اور حکومتیں ایٹمی بحث میں ملت ایران کی حامی ہیں ، مسلمہ امر یہ ہے کہ ایران اپنے ایٹمی موقف میں شفاف اور واضح موقف کا حامل ہے اور وہ مذاکرات اور بحالی اعتماد پر یقین رکھتا ہے ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایران اپنے حقوق سے صرف نظر کرے گا ، ملت ایران نے اپنے نوجوانوں کی سعی و کوشش کے سہارے ایٹمی ٹیکنالوجی سمیت جدید ترین ٹیکنالوجی حاصل کرنے کا باعث افتخار راستہ طے کر لیا ہے ، اور بقول قائد انقلاب اسلامی، مستقبل قریب میں ایرانی نوجوان اپنی صلاحیتوں سے ایٹمی بجلی گھر بھی بنالیں گے ۔ |