ایران اپنے مسلمہ حقوق کے بارے میں کسی سے مذاکرات نہيں کرے گا ۔
قائد انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے زوردے کر کہا ہے کہ اسلامی جمہوريۂ ایران ملت ایران کے مسلّمہ حقوق کے بارے میں کسی سے مذاکرات نہيں کرے گا ۔
تہران میں آج صبح سینی گال کے صدر عبداللہ واد نے قائد انقلاب اسلامی سے ملاقات کی ۔ اس ملاقات میں قائد انقلاب اسلامی نے ایٹمی معاملے کے حل سے متعلق ایران کی عظیم صلاحیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم ایٹمی ٹیکنالوجی تک رسائی اور اس ٹیکنالوجی سے استفادے پر مبنی اپنے مسلمہ حق کے بارے میں کسی سے بھی مذاکرات نہیں کریں گے ۔لیکن اگر ہمارے اس حق کو تسلیم کرلیا جائے تو ہم عالمی نگرانی اور ضمانتوں کے بارے میں مذاکرات کرنے پر تیار ہیں اور ایسے مذاکرات کا راستہ ہموار ہوچکا ہے ۔
قائد انقلاب اسلامی نے عالمی طاقتوں کی جانب سے مذاکرات کے موضوع سے دوسرے ملکوں پر دباؤ ڈالنے کے لئے غلط فائدہ اٹھائے جانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا ہمیں کوئی فائدہ نہیں اور ہمیں ایسے مذاکرات کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے ۔
اس ملاقات میں سینی گال کے صدر عبداللہ واد نے بھی دو طرفہ تعلقات میں توسیع پر زوردیتے ہوئے پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی سے استفادے پر مبنی ایران کے حق کی حمایت کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ معاملہ سفارتی طریقوں سے حل کرلیا جائے گا ۔(27 جون 2006)
عالم اسلام کی مشکلات کو خود حل کرنا ہوگا ۔قائد انقلاب اسلامی
قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے اس بات پر زوردیا ہے کہ اسلامی ممالک اور مسلمان قوموں کو مسلم امہ کے اجتماعی تشخص کے پیش نظر اور اپنے تمام وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عالم اسلام کی مشکلات کو خود حل کرنا ہوگا ۔
قائد انقلاب اسلامی نے آج صبح تہران میں گیمبیا کے صدر الحاجی یحییٰ جامہ اور ان کے وفد سے ملاقات میں اسلامی ملکوں کے حساس جغرافیائی محل وقوع اور عظیم سرمائے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر مسلم امہ اور اس کےتمام وسائل و ذخائر کوایک ساتھ رکھا جائے تو مسلمان اور اسلامی ممالک ہرجگہ قدرت و طاقت محسوس کریں گے اور وہ اپنی مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں ۔
انہوں نے اسلامی حکومتوں اور مسلمان قوموں کے درمیان بین الاقوامی تعاون اور ایک دوسرے کی مدد کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کا اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا اور اسلامی ملکوں کی خود مختاری سامراجی طاقتوں کے راستے میں رکاوٹ بنے گی ۔
حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے اسلامی احکام پر عمل درآمد کے لئے حکومت گیمبیا کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم افریقہ کو ایک دوست کی نظر سے دیکھتے ہیں اورہمیں امید ہے کہ ایران اور گیمبیا کے تعلقات روز بروز فروغ پائیں گے۔
گیمبیا کے صدر نے بھی اس ملاقات میں دنیا میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا اسلامی نظام دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی قدرت و طاقت میں اضافے کا باعث ہے ۔(4 دسمبر 2006 )
ترکی کے وزیر اعظم کی رہبر انقلاب اسلامی سے اہم امور پر بات چیت
قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے عراق کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ امریکی جتنا زیادہ عراق میں رہیں گے اتنا ہی اس دلدل میں دھنستے چلے جائیں گے قائد انقلاب اسلامی نے ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوغان اور ان کے وفد سے اپنے خطاب میں عراق میں بد امنی پیدا کرنے اور بے گناہ لوگوں کا قتل عام جاری رہنے میں امریکہ اور صیہونی حکومت کے جاسوسی اداروں کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس بات پر زوردیا کہ اگر امریکہ کے موجودہ صدر نے امریکی فوجیوں کو عراق سے نہ بھی نکالا تو امریکہ کا آئندہ صدر یقینا" مجبور ہوگا کہ وہ جنگ ویتنام کی مانند امریکی فوجیوں کو شرمندگی کےساتھ عراق سے نکال لے ۔
عراق کی تقسیم کوعلاقے کےلئے ایک بڑا خطرہ قراردیتے ہوئے قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ عراق کے موجودہ حالات سے نکلنے کا واحد راستہ اس ملک کی عوامی حکومت کو مضبوط کرنا ہے ۔انہوں نے لبنان اور مقبوضہ فلسطین کے موجودہ حالات کو امریکہ کی پالیسیوں اور مداخلت کا نتیجہ قراردیا اور موجودہ مشکلات و مسائل کو حل کرنے کے لئے علاقے کے ممالک کے ساتھ ایران کا تعاون جاری رہنے پر زوردیا ۔
قائدانقلاب اسلامی نےترکی کے ساتھ تعلقات میں فروغ کو اسلامی جمہوریۂ ایران کی مستقل پالیسی قراردیتے ہوئے فرمایا کہ ایران اور ترکی مشترکہ سرحدوں اور دینی و ثقافتی مشترکات کے پیش مختلف شعبوں خصوصا" اقتصادی میدان میں اپنے تعلقات کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنا سکتے ہیں۔ ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوغان نے بھی اس ملاقات میں کہا کہ گذشتہ برسوں کے دوران تہران اورانقرہ کے تعلقات نے فروغ پایا ہے اور خاص طور پر اقتصادی شعبے میں ایران کے ساتھ تعلقات کا فروغ اور آئل ریفائنری اور پٹروکیمیکل کارخانے کا قیام ترکی کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے عراق ، لبنان اور فلسطین کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسلامی ملکوں خصوصا" علاقے کے ممالک کے زیادہ سے زیادہ تعاون کی ضرورت پر زوردیا ۔(4 دسمبر 2006)
ایران ، عراق میں قیام امن میں مدد دینے کو اپنا شرعی فریضہ سمجھتا ہے ۔قائد انقلاب اسلامی
عراق کے صدر جلال طالبانی نے آج تہران میں قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی ہے ۔
قائد انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں فرمایا کہ عراق میں بد امنی اور قتل و غارتگری کا جاری رہنا علاقے کے تمام ملکوں کے نقصان میں ہے اور ایران ،عراق میں قیام امن میں مدد دینے کو اپنا شرعی فریضہ سمجھتا ہے ۔
قائد انقلاب اسلامی نے اس بات پر زوردیتے ہوئے کہ عراق میں جاری بدامنی کا مقصد عوامی حکومت کو کمزور کرنا ہے ، فرمایا کہ جولوگ عراق میں اپنے عزائم کی تکمیل میں ناکام رہے وہ دہشت گردوں ، تکفیری عناصر اور سابق بعث پارٹی کے افراد کے ذریعے عراق کی موجودہ صورتحال کو خراب اور کمزور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زوردیتے ہوئے کہ امریکہ ،عراق پر قبضے کو جاری رکھنے میں کامیاب نہیں ہوگا ، مزید فرمایا کہ عراق میں بدامنی کا مسئلہ صرف قابضوں کے عراق سے انخلا اور سکیورٹی کی ذمہ داریاں عوامی حکومت کے حوالے کرنے سے ہی حل ہوگا عراق کے صدر جلال طالبانی نے اس سے قبل بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کےمزار پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی ۔انہوں نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلم بند کئے ۔(28 نومبر 2006)
زیمبابوے کے صدرکی رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے استقامت و پامردی کو زور زبردستی والی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کا صحیح راستہ قراردیا اور فرمایا کہ تسلّط پسند طاقتوں کی حرص و ہوس ان کے مقابلے میں پسپائی اورنرمی کا مظاہرہ کرنے سے ختم نہیں ہوگی ۔حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے تہران میں زیمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے سے ملاقات میں استکباری طاقتوں کے محاذ کے کمزور ہوجانے اور آزادی پسند ملکوں کے محاذ کے استحکام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ استکباری طاقتیں آج بھی کوشش کررہی ہیں کہ جنگ، ملکوں کے در میان اختلافات پیدا کرکے نیز اقتصادی ناکہ بندی اور سیاسی و تشہیراتی دباؤ کے ذریعے ملکوں اور قوموں کی تقدیر اپنے ہاتھ میں لے لیں لیکن قوموں اور آزاد ملکوں کی حکومتوں کی پامردی سے عراق ، فلسطین ، لبنان و افغانستان اور دیگر خطوں میں استکباری طاقتوں اور ان میں سر فہرست امریکہ کی مسلسل شکست کا مشاہدہ کیا جارہا ہے ۔زیمبابوے کے صدر نے بھی اس ملاقات میں اپنے ملک کے لئے ایران کی حمایت کا شکریہ اداکیا ۔(21 نومبر 2006)
لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کی قائد انقلاب اسلامی سے اہم ملاقات
قائد انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے فرمایا ہےکہ لبنان پر حالیہ تنتیس روزہ اسرائيلی جارحیت میں شکست کے بعد ملت لبنان کے دشمنوں کے حوصلے پست ہوگئے ہیں ۔
آپ نے فرمایا لبنان ،امریکہ اور صیہونی حکومت کی شکست کا نقطہ آغازہے ،رہبر انقلاب اسلامی نے آج لبنان کی پارلیمنٹ کے سربراہ نبیہ بری سے ملاقات میں فرمایا کہ تنتیس روزہ اسرائيلی جارحیت کے دوران لبنانی عوام اور استقامت کی کامیابی مسلمانوں کے لئے فخر اور سربلندی کا باعث ہے ۔
آپ نے فرمایا امریکہ اور صیہونی حکومت کے خلاف اسلامی استقامت کےمقابلہ کے دوران جو کچھ ہوا وہ عرب اور عالم اسلام میں بے نظیر ہے اور اس عظیم اور اہم تحریک کے پہلو مستقبل میں مزید واضح ہوں گے ۔
قائد انقلاب اسلامی نے حزب اللہ لبنان اور تحریک امل کو تینتیس روزہ اسرائيل جارحیت کے خلاف کامیابی کا باعث قرادیتے ہوئے اس اتحاد کے جاری رہنے پر تاکید فرمائي ۔
آپ نے علاقے اور دنیا کی سیاسی صورتحال کو نئے دور کا آغاز قراردیتے ہوئے فرمایا کہ آج امریکہ اوراس کی پالیسیاں علاقے اور دنیا میں ناکام ہورہی ہیں اور اس موقع سے مستحکم ارادے اور توکل سے زيادہ سے زيادہ فائدہ اٹھانا چاہئے ۔
لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نےبھی اس ملاقات میں اسرائیل کے خلاف ملت لبنان کی کامیابی کواسلامی استقامت کے بہادر جوانوں کی پائیداری کا مرہون منت قراردیا اور اسرائیلی جارحیت کے دوران صیہونی جرائم پر عالمی اداروں اور مغربی ملکوں کی خاموشی کی مذمت کی ۔
انہوں نے لبنانی عوام کے حق میں ایران کی اخلاقی حمایت کا شکریہ ادا کیا ۔(14 نومبر 2006)
بلاروس کے صدر کی رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات
قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے آزاد ملکوں کے عزم و ارادے میں یکجہتی کو طاقت میں اضافے اور اسے ملکوں کی مصلحتوں اور مفادات کے لئے موثر ہونے کا باعث قراردیا ہے ۔
قائد انقلاب اسلامی نے گذشتہ روز تہران میں بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشنکو سے ملاقات میں کہا کہ بہت سے ملکوں کی جانب سے تسلط پسندوں کے دباؤ کے سامنے ٹک نہ پانے کی بظاہر وجہ یہ ہے کہ ان ملکوں کے حکام کے ارادوں میں یکجہتی نہیں ہوتی اورانہیں رائے عامہ کی حمایت حاصل نہیں ہوتی ۔
قائد انقلاب اسلامی نے دنیا کے مختلف حصوں باالخصوص مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی مداخلت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس کاسبب علاقے کے ملکوں کی کمزوری کو قراردیا اور مزيد کہا کہ البتہ امریکی اس وقت عراق لبنان اور فلسطین سمیت مشرق وسطیٰ میں بری طرح پھنس گئے ہیں ۔
قائد انقلاب اسلامی نے تاکید کی کہ اسلامی جمہوریۂ ایران اوربیلاروس کے درمیان تعاون کے بہت سے میدان موجود ہیں اور حکومت ایران تمام میدانوں باالخصوص اقتصادی اور تجارتی شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے لئے پہلے سے زيادہ آمادگی رکھتی ہے ، قائد انقلاب اسلامی نے کہا کہ اسلامی جمہوریۂ ایران کا کسی بھی ملک سے تنازعہ نہیں ہے لیکن وہ اپنے مستقبل اور مصلحتوں میں پوری دلچسپی رکھتا ہے اس موقع پر بیلاروس کے صدر نے بھی قائد انقلاب اسلامی کے خیالات کی تائيد کی اور ہمہ گیر دو طرفہ تعلقات کے فروغ پر زوردیا ۔(7 نومبر 2006)
امریکہ اور اسرائیل جدید مشرق وسطی کے قیام میں کامیاب نہیں ہوسکتے ۔قائد انقلاب اسلامی
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا امریکہ نے صیہونی حکومت کو لبنان کے ساتھ جنگ کے لیے اتارا تاکہ اپنے زعم میں امریکہ مشرق وسطی کو معرض وجود میں لانے کے لیے بڑا اورعملی قدم اٹھائے لیکن دونوں نے اپنے اندازوں میں لبنانی عوام کو نظرانداز کردیا ۔حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے تہران کے دورے پر آئے وینزوئلا کے صدر ہوگو چاوز سے ملاقات میں نئے مشرق وسطی یا عظیم مشرق وسطی کا منصوبہ پیش کرنے سے امریکہ کا مقصد ایک ایسے مشرق وسطی کا قیام بتایا جہاں کٹھ پتلی حکومتیں ہوں اور صیہونی حکومت کی مرضی چلتی ہو ۔آّّپ نے فرمایا مگر لبنان کے عوام اور حزب اللہ کی جو لبنانی عوام کی مظہر ہے حیرت انگیز اور دلیرانہ استقامت ومزاحمت نے امریکی منصوبے کو خاک میں ملادیا ۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا آج پورا عالم اسلام اور عرب قومیں اور اسی طرح دنیا بھر کی آزاد منش قومیں حزب اللہ لبنان کی حامی ہیں اور امریکہ و صیہونی حکومت کے مقابلے میں حزب اللہ کی دلیرانہ استقامت ومزاحمت کی وجہ سے حزب اللہ کے قائد عرب اور اسلامی دنیا میں انتہائی محبوب شخصیت بن چکے ہیں ۔قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے لبنان میں صیہونی حکومت کے حالیہ جرائم اور مظالم کو جو امریکی حمایت میں انجام پارہے ہیں تاریخ کے بدترین مظالم قراردیا اور فرمایا ان حالات میں نام نہاد متمدن دنیا اور انسانی حقوق وڈیموکریسی کی دعویدار تنظیموں کے دل نہ تو پسیج رہے ہیں اور نہ ہی ان کی زبان سے کوئی اعتراض نکل رہا ہے ۔حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے امریکہ کے موجودہ حکمران ٹولے کو دنیا سے غافلی و بے خبر اور توہّم کا شکار ٹولہ بنایا اور فرمایا البتہ امریکی حکّام ابھی بھی حقیقت کو سمجھنے کی کوششیں نہیں کررہے ہیں اور لبنانی عوام کی طاقت کا اندازہ لگانے سے قاصر ہیں۔ اسی لیے لبنان کے مسائل میں دوسروں کی مداخلت کا الزام لگا رہے ہیں ۔اس ملاقات میں وینزوئیلا کے صدر ہوگو چاوز نے بھی اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ امریکی سامراجی طاقت روبہ زوال اور ختم ہونے والی ہے کہا امریکی طاقت کا خاتمہ شروع ہوچکا ہے اور اس کی واضح مثال لاطینی امریکہ ہے جہاں امریکہ مخالف حکومتوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔
رہبر انقلاب سے نوری المالکی کی ملاقات : عراقی عوام اور حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون کی یقین دھانی
قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے فرمایا ہے کہ اسلامی جمہوریۂ ایران ، عملی طور سے عراقی عوام اور حکومت کی حمایت کرنا اپنا فریضہ سمجھتاہے ۔
قائد انقلاب اسلامی نے آج عراقی وزير اعظم نوری المالکی اوران کے ہمراہ وفد سے ملاقات میں فرمایا کہ عراقی عوام کی سعادت و پیشرفت ایرانی عوام اورعلاقے کی سعادت و پیشرفت ہے آپ نے امید ظاہر کی کہ عراق میں اغیار کی مداخلت ختم ہوجائے گی اور ملت عراق کو اس کا حقیقی مقام حاصل ہوگا ۔قائد انقلاب اسلامی نے فرمایاکہ ملت عراق کے بعض مسائل صدام کی بعثی حکومت کی بنا پر ہیں تو بعض مسائل کاسبب جارحین ہیں۔
آپ نے فرمایا جارحین کے نکلنے سے ملت عراق کی بہت سی مشکلات ختم ہوجائیں گی اس ملاقات میں عراقی وزير اعظم نوری المالکی نے عراقی عوام و حکومت کی حمایت میں ایران کے مواقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ عراق کی خارجہ پالیسی میں دوست اور ہمسایہ ملکوں بالخصوص ایران کے ساتھ تعلقات میں توسیع کواولیت حاصل ہے ۔
انہوں نے اپنے دورہ تہران کو کامیاب قراردیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ طےشدہ معاہدوں پرعمل درآمد سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید فروغ آئے گا ۔
عراقی وزير اعظم نوری المالکی گذشتہ روزاعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ تہران پہونچے تھے ۔(13 ستمبر 2006)
جیبوتی کے صدر کی رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ مشرق وسطیٰ کے علاقے میں سامراجی طاقتوں کے ذریعہ جنگ کی آگ بھڑکانا اپنے اسلحوں کو فروخت کرنے کا ان کا ایک حربہ ہے ۔حضرت آیۃ العظمیٰ خامنہ ای نے جیبوتی کے صدر اسماعیل عمرجیلہ سے ملاقات میں فرمایا کہ مغربی ممالک تیل کا پیسہ ادا کرنے کے بجائے علاقے کے ملکوں کوہتھیار فروخت کرتے ہیں تاکہ علاقے میں ہمیشہ جنگ و خونریزی کا ماحول بنارہے اور ان ملکوں کے گذشتہ 150 برسوں کے کارنامے جنگ و خونریزی کے تعلق سے بہت ہی سیا ہ رہے ہیں.
رہبر انقلاب اسلامی نے اسی طرح فرمایا ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور جوانوں میں خود اعتمادی کا جذبہ پیدا ہونے کے ساتھ علم و سائنس کے میدان میں بے پناہ ترقی ہوئی ہے اور پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کا حصول اس ترقی کا ایک واضح نمونہ ہے اور ایران علم و ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنے خدمات امت مسلمہ کوبھی پیش کرنے کے لئے تیار ہے ۔
اس ملاقات میں جیبوتی کے صدر نے اپنے دورے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے علاقائي اور عالمی مسائل میں دونوں ملکوں کے نظریات کو یکساں قراردیا اور کہا آج اسلامی جمہوریۂ ایران حقیقی اسلام کا علمبردار اور دشمنان اسلام کے مقابلے میں اکیلے ڈٹا ہوا ہے ۔(5 ستمبر 2006)