عید غدیر کے دن قائد انقلاب اسلامی کا خطاب
(2007)
عید غدیر کے
دن قائد انقلاب اسلامی حضرت
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے شہر قم کے ہزاروں باشندوں سے خطاب میں عید
غدیر کی مبارک باد پیش کی اور واقعہ غدیر کو اسلام کی عظمت جامعیت اور
دور اندیشی کا ثبوت قراردیا۔
قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ بے شک
ملت ایران اپنے ایٹمی حقوق سے ہرگزدستبردار نہیں ہوگي اور حکام کو بھی
کوئي حق نہیں ہے کہ وہ اس عظیم کامیابی کو نظر اندازکریں۔
قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایٹمی
انرجی ایرانی سائنس دانوں کی زحمتوں کا نتیجہ اور ملت ایران و عالم
اسلام کے لۓ فخر کا باعث ہے،آپ نے فرمایا اگر بعض عرب اور اسلامی
حکومتیں یہ تصور کرتی ہیں کہ امریکہ و برطانیہ کے ساتھ متحدہوکر اور
بائيکاٹ کرکے صیہونی حکومب کو راضی اور مطمئن کرسکتی ہیں تو یہ ان کی
سیاسی غلطی ہے ۔
قائد انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ
العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
غدیر خم میں حضرت علی علیہ السلام کو خدا کے حکم سے اپناخلیفہ و جانشین
منصوب فرمایا جوکہ ہرلحاظ سے ممتازو بے نظیر شخصیت کے مالک تھے اور اس
دن خدانے دین کو مکمل اور نعمتوں کا اتمام کیا ،انہوں نے کہا اس طرح
رسول اکرم صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم نے امت کو اپنے بعد کا راستہ
دکھادیا ۔
قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ حضرت
علی علیہ السلام تقوی،دین داری،دین کی مطلق پابندی،غیر خدا اور غیر راہ
حق کو نظر میں نہ لانے،راہ خدا میں کسی کی پرواہ نہ
کرنے،علم،عقل،تدبیر،طاقت،اور عزم و ارادے کا مظہرتھے اور ایسی شخصیت کو
غدیر کے دن اپنا جانشین معین کرنا تاریخ میں امت اسلامی کی رہبری کے
معیار کو ظاہرکرتاہے
ولی امر مسلمین آیت اللہ العظمی خامنہ
ای نے فرمایا کہ غدیر جیسے اہم واقعے کو مسلمانوں کے درمیان اختلافات
اور ان کی کمزوری کا بہانہ نہیں بننا چاہیے اور دشمن مسئلہ غدیرکو
مسلمانوں کے درمیان برادرکشی جنگ اور خونریزی کا پیش خیمہ بنانا چاہتا
ہے اور اس سے کم پر راضی نہیں ہوگا بنابریں شیعوں کوچھوٹے سے چھوٹا
کوئي ایسا کام یا بات نہیں کرنا چاھیے جس سے اس سازش کو سہاراملے اسی
طرح برادران اھل سنت کو بھی ہوشیار رہنا چاہیے تاکہ دشمن تعصبات اور
مذھبی جذبات سے غلط فائدہ نہ اٹھاسکے۔
قائد انقلاب اسلامی نے عراق افغانستان
لبنان اورفلسطین میں امریکہ کی شکست اور امریکی حکام کی جانب سے اس
شکست کے اعتراف کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ فرمایا کہ ان ناکامیوں کے پیش
نظر امریکہ کی سربراہی میں سامراجی طاقتوں نے روزافزوں بڑھتی ہوئي
اسلامی بیداری کی لہرکا مقابلہ کرنے کے لۓ کہ جس کا سرچشمہ ایران میں
اسلامی جمہوریہ کاقیام ہےشیعہ سنی اختلافات پھیلانےکی کوششیں شروع کردی
ہیں،لھذا عالم اسلام بالخصوص اسلامی علماءاوردانشوروں کو چاہیے کہ
معاشرے کے مختلف طبقوں کو آگاہ کرنے کی ھمت کریں اور مسلمانوں کے
درمیان اتحاد و برادری پرتاکید کریں ۔
قائد انقلاب اسلامی نے انقلاب اسلامی
کی کامیابی کے آغازسے ہی دشمن کی جانب سے علاقائي ممالک کو اسلامی
جمہوریہ ایران سے ڈرانے کی سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ فرمایاکہ
اسلامی ملکوں بالخصوص علاقے کےملکوں کے سربراہوں اور سیاست دانوں کو
معلوم ہوکہ اسلام کی سربلندی اور اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت ان کی
طاقت اور دلجمعی کا باعث ہوگي قائد انقلاب اسلامی نے اسلامی حکومتوں کی
کمزوری کو امریکہ کی منہ زوری کا بنیادی سبب قراردیا اور تاکید فرمائي
کہ امریکہ ہمیشہ صیہونی حکومت کو باج دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں بعض
عرب حکومتوں سے باج لیتا ہے لھذااگر یہ حکومتیں عوام کی عظیم طاقت
پربھروسہ کریں توکبھی بھی باج دینے پر مجبورنہیں ہونگی۔قائدانقلاب
اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای فرمایا کہ بعض تجزیے خبریں
اورعلامتیں دکھائي دیے رہی ہیں کہ بعض عرب ممالک برطانیہ کے ساتھ مل کر
ایران کے خلاف اتحاد بنارہی ہیں آپ نے فرمایا یہ اتحاد ایسی دونحس ونجس
حکومتوں کے ساتھ مل کر ایسی ملت کے خلاف کوشش کرنا ہے جواسلام کی عزت
وسربلندی کا باعث رہی ہے اور اس راہ میں عظیم قربانیاں دی ہیں بنابریں
عرب حکومتوں کو دشمنوں کی اس خطرناک چال سے ہوشیار رہنا چاہیے ۔
قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا اگر ایسا
اتحاد معرض وجود میں آبھی جاتاہے تو اس کا کوئي فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ
مسلط کردہ جنگ کے دوران اس سے بڑا اور طاقتوراتحاد بن چکاتھا جس نے
صدام جیسے روسیاہ اوربد عاقبت کو اپنا آلہ کار بناکر ایران کی سرزمین
کے ایک حصہ پر قبضہ کروایا اورپورے آٹھ برسوں تک اپنی تمامترکوششیں
بروے کارلے آیا لیکن آخرکار ایران کا ایک بال بھی بیکا نہ کرسکا اور اب
بھی اسلامی نظام کے خلاف ان کی کوئي سازش کامیاب نہیں ہوگي ۔آپ نے
فرمایا مختلف میدانوں میں منجملہ سائنسی اور ٹکنالوجیکل میدانوں میں
ایران کی ترقی کا تعلق عالم اسلام سے ہے اور ایٹمی انرجی جو ایرانی
سائنس دانوں کی زحمتوں کا نتیجہ ہے ملت ایران اور عالم اسلام کے لۓ فخر
کا باعث ہے آپ نے فرمایا اگر بعض عرب اور اسلامی حکومتیں یہ سمجھتی ہیں
کہ امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ متحدہوکر اور بائيکاٹ کرکے صیہونی حکومت
کو راضی اور مطمئن کرلیں گي تو یہ ان کی سیاسی غلطی ہے ۔
قائد انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے
ایٹمی انرجی کے بارےمیں فرمایا کہ بے شک ملت اریان اپنے حق سے دست
بردار نہیں ہوگي اور حکام کو بھی کوئي حق نہیں ہے کہ اس عظیم کامیابی
کونظراندازکریں آپ نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں قم کے باشندوں کے زمانہ
قدیم سے ولایت کا پیرو ہونے اور شاہ کی حکومت کے خلاف1977
میں ان کے قیام کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ فرمایاکہ اس
تاریخی دن قم کے عوام اور جوانوں نےانقلابی تحریک میں پیش پیش رہتے ہوۓ
بڑاکام کردکھایاکہ جس کے جاری رہنے سے عظیم اسلامی انقلاب کامیاب ہوا ۔
قائد انقلاب اسلامی نے انقلاب اسلامی
کے مختلف مراحل میں اھل قم اور اس شہر کے حوزہ علیمہ کے کردار کو اھم
قراردیتے ہوۓ کہا کہ قم نے ہمیشہ ہرمیدان میں انقلاب کی ھدایت میں
مرکزی کردار اداکیا ہے ۔
جشن
مولود کعبہ، قائدانقلاب اسلامی کا عظیم الشان عوامی اجتماع سے خطاب
قائد
انقلاب اسلامی حضرت آ یت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نےصیہونیوں
اور عالمی منہ زور طاقتوں کے مقابلہ میں ایران کی استقامت کو امام
علی علیہ السلام
کے راستے کی پیروی کا مظہر بتایا اور فرمایا کہ ایران کا ہر فرد
اور ہر
حکومتی عہدیدار اس راہ
کی مکمل معرفت حاصل کر کے اور امام خمینی کی جدوجہد کی تاسی کرتے
ہوۓ امیرالمومنین کے راستے پر گامزن رہےگا۔ قائد انقلاب اسلامی نے
انصاف پسندی اورستمگروں کے مقابلے میں استقامت و پامردی کو حضرت
امام علی کی جملہ خصوصیات میں قرار دیا اور ایران کی عظیم قوم کی
امنگوں کی تکمیل کے لیے اس راستے پر گامزن رہنے پر زور دیا۔ قائد
انقلاب اسلامی نے آج تہران میں عوام کی مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے
والے ہزاروں افراد سے ملاقات میں حضرت علی
علیہ
السلام کے یوم ولادت با سعادت کی امت
اسلامیہ اور بالخصوص ایرانی عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوۓ فرمایا
کہ حضرت علی علیہ السلام
تمام انسانوں سے متعلق ہیں۔آپ نے فرمایا کہ جس چیزنے تمام مسلمانوں
کو خواہ وہ شیعہ ہوں یا سنی یا دیگر اد یان کے پیروکار حتی آپ کے
دشمن سب کو آپ کے سامنے سرتسلیم خم کرنے پر مجبور کیا ہے وہ آپ کی
عظمت و بلندی کمال ہے۔(28 جولائی 2007)
تیرہ رجب کو
معاشرے کے مختلف طبقات سے خطاب کرتے ہوے قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ
العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ سنی اور شیعہ جان لیں کہ ان دونوں کے درمیان
اختلافات ڈالنا امت اسلامی کے خلاف دشمن کا ایک حربہ ہے ۔
بسم اللہ
الرحمن الرحیم
تیرہ رجب کو حضرت امرالمومنین علی ابن ابیطالب علیہ السلام کے یوم ولادت
باسعادت کے موقع پر قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ
ای نے معاشرے کے مختلف طبقات سے خطاب فرمایا جو حسب ذیل ہے ۔
امت اسلامی ملت ایران اور آپ سب حضار کی خدمت میں امیرالمومنین امام
المتقین ستارہ آسمان عدل و انصاف و انسانیت حضرت علی ابن ابیطالب علیہ
الصلاۃ و السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے مبارکباد پیش کرتا ہوں آپ
حضرات نے زحمت کی اور ملک کے مختلف علاقوں سے یہاں تشریف لاۓ اور اس باعظمت
جشن میں شرکت کی ۔
حضرت امیرالمومنین علیہ الصلاۃ والسلام، تاریخ بشریت و اسلام کے اس مرد
بزرگ سے محبت کرنا نہ صرف شیعہ اور مسلمانوں کی خصوصیت ہے بلکہ دنیا کے
سارے آزاد منش انسان اس میں مسلمانوں کے شریک ہیں آپ کو معلوم ہے کہ وہ
افراد جو مسلمان نہیں ہیں اس عظیم شخصیت سے محبت کرتے ہیں ان کے بارے میں
کتابیں لکھتے ہیں اور شعر کہتے ہیں ،یہ بڑی غلط سوچ ہوگي اگر امیرالمومنین
علی ابن ابیطالب علیہ السلام کی ذات والا صفات کو مسلمانوں کے درمیان
اختلافات کا وسیلہ قراردیا جاۓ آپکی شخصیت ایسی عظیم ہےکہ تمام مسلمان اور
تمام اسلامی فرقے اپنے سارے وجوداور دل و جان کی گہرائیوں سے آپ سے محبت
کرتے ہیں اس محبت و عشق کا سرچشمہ وہ ممتازصفات و فضائل و کمالات ہیں کہ جن
کے سامنے ہر انصاف پسند انسان فروتنی سے سر خم کرتا ہوا نظر آتا ہے یہی قدر
جامع اور قدر مشترک ہے ۔
خالص ایمان، فداکارانہ جھاد،امرونھی الھی کے سامنے تسلیم محض ہونا ،خدا کی
مطلق اطاعت وبندگي ،دنیوی زرق و برق و مادی امور سے بے اعتنائی ،عوام الناس
کے لۓ رحم دل انصاف پسند اور عادل ہونا ،مظلوموں کمزوروں اور ستمدیدہ افراد
کے لۓ جذبہ رحمت کا حامل ہونا ،دشمنان دین کے مقابل پر عزم و استقامت ہونا
،ہرطرح کے حالات و سختیوں اوردشواریوں میں دینی فریضہ انجام دینا یہ ایسے
حکمت آمیز کلمات ہیں کہ ماضی، دور حاضر اور کل کے انسان کو ان کی ضرورت ہے
امیرالمومنین علیہ السلام کا نہج البلاغہ انسان کے لۓ ہمیشہ مشعل راہ ہے ۔
یہ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کی ظاہری شخصیت ہے جسے ہماری کوتاہ
بیں آنکھیں دیکھ اور محسوس کرسکتی ہیں اور اس کے خوبصورت پہلووں کا ادراک
کرسکتی ہیں ،معنوی قدسی اور ملکوتی پہلووں کودرک کرنا قدیسین و صدیقین کا
خاصہ ہے ہماری آنکھوں میں وہ تاب کہاں کہ وہ اولیاء خدا و مقربان درگاہ حق
کی طرح حقائق ولایت کو درک کرسکیں آج ایسی ہی شخصیت کی ولادت کا دن اور عید
ہے ۔
آسمان تاریخ بشر پر ہرستارے کا طلوع ہونا انسانوں کے لے عید ہے عالم بشریت
کی ہرممتاز شخصیت کی ولادت کا دن اول سے لیکر آخر تک، جس نے انسان کو سعادت
کی راہ دکھائي اور اس راہ میں جدوجھد کی انسانوں کے لۓ عید کا دن ہے
مسلمانوں کے لۓ یہ عید ہمیشہ کے لۓ ہے ۔
ہمیں دیکھنا ہےکہ صدیاں گذرنے کے بعد ہم کس طرح سے یہ عید مناتے ہیں صرف
حضرت علی علیہ السلام کا نام لینااور خود کوان کی طرف منسوب کرنا ہی کافی
نہیں ہے ہم تاریخ کی بزرگ شخصیتوں دینی پیشواؤں انبیاء و اولیاء کو محض
تاریخ کی یادگارشخصیتیں نہیں سمجھتے ہیں بلکہ ان حضرات کی ذوات سراسر سبق
آموز، نمونہ عمل اور زندگي میں ہرہر قدم پر رھنمائي کرنے والی ہیں یہ بات
سب سے اھم ہےکہ ہم ان سے کیا سبق حاصل کرتے ہیں آج امت اسلامی کو وجود
مبارک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت امیرالمومنین علیہ
السلام کی ذات مبارک نیزراہ روشن الھی کے دیگر بزرگوں سے کیا سبق حاصل کرنا
چاہیے؟یہ سب سے اھم ہے، ہمیں اس نقطہ نگاہ سے حضرت امیرالمومنین علیہ
السلام کی ذات مبارک پر نظر ڈالنی چاہیے ۔
جو چیزمسلم ہے وہ یہ ہے کہ ان بزرگوں نے خدا اور اسکے دین کی راہ میں اپنی
زندگی وقف کردی تھی" اشھد انک جاھدت فی اللہ حق جھادہ و عملت بکتابہ و
اتبعت سنن نبیہ صلی اللہ علیہ وآلہ " میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ نے خدا کی
راہ میں جھاد کرنے کا حق ادا کیا خدا کی کتاب پر عمل کیا اور سنت رسول صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کی ۔
یہ عبارت ہم امیرالمومنین اور دیگر ائمہ علیھم السلام کی زیارتوں میں پڑھتے
ہیں یہ جھاد ہمیشہ ہماری ذمہ داری ہے علمی جھاد ،عملی جھاد ،جنگ اور امن کے
زمانے میں جھاد ۔نفس سے جھاد ۔بیرونی دشمن سے جھاد ،مال سے جھاد جان سے
جھاد زبان سے جھاد یہ سب سبق ہیں ہروہ کام جو دین وامت کی پیشرفت کے لۓ
انجام دیا جاتاہے وہ جھاد ہے امت اسلامی کی عام پیشرفت کے لۓ جو تعلیم حاصل
کی جاتی ہے جھاد ہے امت اسلامی کے درمیان محبت و ہم فکری اور اتحاد
پیداکرنے کے لۓ جو کوششیں کی جاتی ہیں وہ بھی جھاد کے زمرے میں شامل ہیں
،نفس کی شیطانی خواہشوں سے مقابلہ کرنا بھی جھاد ہے ،زبان و دل اور عملی
طور سے خدا دین و قرآن کے دشمنوں سے دشمنی رکھنا خداکی راہ میں جھاد ہے یہ
امیرالمومنین علیہ السلام اور اولیاء دین خدا کے سکھاۓ ہوۓ سبق ہیں جھاد
صرف میدان جنگ سے مخصوص نہیں ہے اور امت اسلامی راہ خدا میں جھاد کو فراموش
کرکے آج کی افسوس ناک صورتحال سے دوچار ہوچکی ہے ۔
امت اسلامی تاریخ کے ایک بڑے دور میں علم تہذیب و تمدن، اخلاق و انسانی
اقدار کو بڑھانے میں سب سے آگے تھی آج یہی امت تفرقہ کا شکار ہے
کمزوروپسماندہ ہوچکی ہے کفار و دشمنان دین اس کی سیاست اور زندگی کے امور
میں مداخلت کررہے ہیں اس پر ظلم ڈھارہے ہیں اور وہ اپنا دفاع کرنے سے عاجز
ہے عالم اسلام کی یہ کمزوری اور انحطاط راہ خدا میں جھاد کو فراموش کرنے کی
وجہ سے ہے ہماری مراد یہ نہیں ہے کہ امت نے میدان جنگ میں دشمن کا مقابلہ
کیوں نہیں کیا ہے ؟گرچہ جنگ بھی جھاد کی ایک قسم ہے، ہمارا یہ کہنا ہےکہ ہم
دشمن کو پہچاننے سے کیون غافل ہوچکے ہیں ؟دشمن کی سازشوں اور مکاریوں سے
کیوں غافل ہوچکے ہیں ؟ کیوں دشمن کے فریب میں آجاتے ہیں ؟
آج تیرہ رجب اور عید کا دن ہے لیکن ہمیں دل سے عید کی خوشی محسوس نہیں
ہورہی ہے کیونکہ امت اسلامی کاپیکر لہولہان ہے لبنان کو دیکھیۓ وہاں کیا
ہورہا ہے فلسطین کو دیکھیۓ وہاں کیا ہورہا ہے عراق کو دیکھیۓ افغانستان پر
نگاہ ڈالیۓ یہ سب دیکھنے کے بعد امت اسلامی خوش نہیں رہ سکتی یہ سب ہماری
کمزوریاں ہیں ۔
ان ہی دنوں امت اسلامی دو تلخ حادثوں سے روبرو ہوئی ہے ان میں سے ہرایک امت
کو غور و فکر کرنے پر وادار کرسکتاہے امت اسلامی کو چاھیے کہ خود کو ملامت
کرے اور توبہ کرے ان دوحادثوں میں سے ایک لبنان وفلسطین میں جاری المناک
واقعات ہیں ایک مہینہ ہورہا ہےکہ صیہونی آدم خوار وحشی درندہ لبنانی عوام
پر قہر ڈھارہا ہے ،مجاھد فی سبیل اللہ حزب اللہ سے منہ کی کھارہا ہے لیکن
قانا میں مسلمان بچوں پر اور دیگر علاقوں پر بمباری کررہاہے راہ خدامیں
جھاد کرنے والے مجاھدین سے مقابلہ نہیں کرسکتا ان سے شکست کھارہاہے اس کا
بدلہ بچوں مظلوم نہتے لوگوں، گھروں اور شہری تنصیبات پر بمباری کرکے نکال
رہا ہے یہ ایک عظیم مصیبت ہے ایسی ہی وحشیانہ کاروائياں غزہ اور فلسطین کے
دیگر علاقوں میں بھی انجام دی جارہی ہیں یہ وہ المیہ ہے جس سے سارے
مسلمانوں کو ہوشیاراور بیدار ہوجانا چاہیے سامراج اور دنیاے کفر نہ صرف
خاموش ہے بلکہ ایسا رویہ اپنایا ہواہے کہ جس سے جارح اور ظالم کی حوصلہ
افزائي ہوتی ہے امریکہ ایک طرح سے، خبیث برطانیہ دوسری طرح سے، بعض طاقتیں
کسی اور طرح سے، اقوام متحدہ بھی مکمل ناتوانی اور عاجزی سے اس ظلم و ستم
کے خاموش تماشائي بنے ہوۓ ہیں اور اس کے ساتھ انسانی حقوق تہذیب و تمدن اور
دہشت گردی سے مقابلہ کے بلند بانگ دعوے بھی کرتے ہیں ان سیاہ دل منافقین کو
شرم بھی نہیں آتی یہ نہایت عبرت ناک امور میں سے ایک ہے ۔
یہ مسئلہ جو لبنان اور خاص کر اس ملک کے اھل تشیع کے لۓ پیدا کیا گیا ہے
تمام قوموں ملکوں اور اسلامی فرقوں کے لۓ پیش آسکتاہے بڑی طاقتوں سے کوئي
امید نہیں رکھی جاسکتی اسلامی امت میں خود اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت ہونی
چاہیے اسے اپنے وجود کا خود تحفظ کرنا چاہیے ۔
یہ بات بارہا دیکھی گئي ہےکہ سامراجی طاقتیں جب مسلمانوں کا مسئلہ درپیش
ہوان کے خلاف ہونے والے ہرطرح کے جرم سے چشم پوشی کرلیتی ہیں یہ بات
بوسنیااور کوسوو میں دیکھی گئي ،عراق و افغانستان میں دیکھی گئي اور آج
لبنان کی باری ہے فلسطین بھی برسوں سے اسی صورتحال سے دوچار ہے ان کے نزدیک
شیعہ سنی عرب و عجم میں کوئي فرق نہیں ہے جہاں بھی ان کا زور چل جاے اور
انہیں کوئي رکاوٹ محسوس نہ ہو اور جھان ان کے خلاف مزاحمت نہ ہو اپنے پیر
جمالیتے ہیں اسلامی امت کو یہ سمجھنا اور درک کرنا چاہیے اور خود کو طاقتور
بناناچاہیے یہ ان دو المیوں میں سے ایک ہے جو واقعا عبرت ناک ہے اور مسلمان
اس سے غافل نہیں رہ سکتا ۔
دوسرا المیہ جو اس سے بھی ہولناک ہے اسلامی حکومتوں کے درمیان تفرقہ ہے آپ
دیکھ رہے ہیں کہ تقریبا ایک مہینے سے دشمنان اسلام مسلمانوں کے ایک گروہ پر
ظلم وستم ڈھارہے ہیں یہ کوئي معمولی جنگ بھی نہیں ہے بلکہ اس میں ہرطرح کے
جنگی جرائم کا ارتکاب کیا جارہا ہے بے گناہ عوام کا قتل عام کیا جارہا ہے
ممنوعہ اورغیر قانونی ہتھیار استعمال کۓ جارہے ہیں لیکن اسلامی حکومتیں
بالخصوص بعض عرب حکومتیں ہاتھ پر ہاتھ دھرے خاموش تماشائي بنی ہوئي ہیں یہ
غلطی نھایت نقصان دہ ہے یہ حکومتیں امریکہ اور سامراجی طاقتوں کے تحفظات کا
خیال رکھ رہی ہیں لیکن سامراج موقع پڑنے پران کاخیا ل نہیں رکھے گا دشمن
البتہ سرگرم عمل ہے اور شیعہ سنی کا مسئلہ اسلامی امت کو شکست دینے کے لۓ
دشمنوں کا ایک اھم ترین حربہ رہا ہے شیعہ اورسنی دونوں جان لیں، سب لوگ
ایران میں اور دنیاے اسلام میں جان لیں شیعہ سنی کا اختلاف امت اسلامی کے
خلاف دشمن کا ایک حربہ ہے دشمن ہر طرح سے اس حربے سے استفادہ کرتاہے جب
فلسطین کے سنی مسائل میں گرفتار ہوتے ہیں تو یہ نعرے لگاے جاتے ہیں اور
پروپگینڈا کیا جاتاہے کہ یہ لوگ سنی ہیں اور تم لوگ شیعہ ہو اس طرح مدد
کرنے سے روکا جاتاہے اور آج جب لبنان کے شیعہ مصیبت کا شکار ہیں تو ایک
گروہ سے کہا جاتاہے کہ آپ سنی ہیں یہ لوگ شیعہ ہیں ان کی مدد نہ کریں ،دشمن
نہ شیعہ کوخاطر میں لاتا ہے اور نہ سنی کو وہ درحقیقت اسلام کا مخالف ہے ۔
تفرقہ عالم اسلام کی سب سے بڑی مصیبت ہے یہ تفرقہ قوموں کو ایک دوسرے سے
جداکردیتا ہے دلوں میں فاصلے پیداکردیتاہے اس وقت دشمن یعنی اسرائيل و
امریکہ کی جاسوس تنظیمیں عراق میں کچھ لوگوں کو اکسارہی ہیں کہ عراق میں
شیعوں کے خلاف کہ جن کی اکثریت ہے اوراس وقت حکومت میں بھی ان کی اکثریت ہے
جدوجھد اور ان کا مقابلہ کریں بدامنی پھیلائيں ،دشمن بدامنی کے سہارے عراق
میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانا چاھتا ہے امریکہ کو عراق میں رہنے کے لۓ بہانے
کی ضرورت ہے اور یہ بہانہ بد امنی ہے امریکہ عراقی حکومت کو ضروری کاموں سے
روکنے کے لۓ ملک میں بدامنی پھیلاتا ہے تاکہ اسی بہانے عراق میں باقی رہ
سکے ،اختلافات کو دشمن ہوادیتا ہے، شیعہ کو سنی کے خلاف اور سنی کو شیعہ کے
خلاف اس بری طرح بدظن کردیتا ہےکہ بے پناہ مشترکات کے باوجود بھی ایک دوسرے
کے قریب نہیں آسکتے یہ دشمن کا کام ہے ہم اس حقیقت کو کیوں نہیں سمجھتے ہیں
؟مرحوم آیت اللہ بروجردی رضوان اللہ علیہ اور مصر میں بعض بزرگ علماء اھل
سنت کے زمانے کو کئی دھائياں گذرچکی ہے کہ اس وقت یہ فکر پیدا ہوئي تھی کہ
آئيں اختلافات کو کم کریں سنی سنی رہے اور شیعہ شیعہ رہے ہرایک اپنے عقائد
پر قائم رہے لیکن آپس میں متحد رہیں قرآن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کی زبانی ا س زمانے کے عیسائیوں سے کہا جارہا ہے کہ "تعالوا الی کلمۃ
سواء بیننا و بینکم الا نعبدالااللہ ولانشرک بہ شیئا "اس صورتحال میں
مسلمان فرقے جن کا خدا ایک، پیغمبر ایک، قرآن ایک، قبلہ ایک اور عبادت ایک
ہے اوریہ سارے مسلمانوں کے مشترکات اور مسلمات ہیں اس کے باوجود بعض مسائل
کو اختلافات کا سبب قراردیتے ہیں کیا یہ خیانت نہیں ہے ؟کیا یہ خود غرضی
اور غفلت نہیں ہے ؟جو بھی اس سلسلے میں قصور وار ہوگا اسے خدا کے سامنے
جواب دینا ہے خواہ شیعہ ہو یا سنی ہو ۔
آج حزب اللہ کا دفاع کرنا عالم اسلام پر واجب ہے ہم چشم بصیرت سے مسئلہ کا
جائزہ لے رہے ہیں ہمارے لۓ واضح ہےکہ سامراج کیا کررہا ہے ہم فلسطین کے
مسئلہ میں بھی اسی استقامت سے ڈٹے ہوے ہیں جس طرح سے لبنان، عراق یا
افغانستان کے مسئلے میں ڈٹے ہوۓ ہیں ،ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکی سامراج
برطانیہ جیسی بعض خبیث یورپی حکومتوں کے ھمراہ جو کہ علاقے میں بدنام اور
سیاہ روترین حکومت ہے اورظالم و سفاک صیہونیون کے ساتھ مل کر علاقے سے
اسلام کی بیخ کنی کرنا چاھتا ہے کیونکہ وہ دیکھ رہا ہےکہ اسلام اس کے
ناجائز مفادات کے سامنے رکاوٹ ہے ۔
اس علاقے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قیام اور اسلام کا پرچم بلند ہونے کے
بعد سامراج کی سمجھ میں آگيا کہ اسلام زندہ ہے آج اسلامی رجحانات اور اسلام
کی راہ میں جھاد کرنے کے جذبات تمام اسلامی ملکوں اور شمال سے لیکر جنوب کے
ساحلوں تک زندہ ہوچکے ہیں ،شمالی افریقہ، مشرق وسطی،ایشیاء ،مشرقی ایشیاء
کے باشندے اور جہاں کہیں بھی مسلمان بستے ہیں اپنے اسلامی تشخص اور عزت و
وقارکی بازیابی کی کوشش کررہے ہیں دشمن ان جذبات کو ختم نہیں کرسکتا لیکن
کوشش ضرور کرتا ہے ہمیں بیدار رہنا چاہیے ہوشیار رہنا چاہیے آج آپ لبنان
میں اسلامی استقامت وجھاد کا ایک نمونہ دیکھ رہے ہیں، یہ وہی صیہونی حکومت
کی بے رحم فوج ہے جسے کبھی ناقابل شکست تسلیم کیا جاتاتھا اور اس نے چھ
دنوں میں تین اسلامی ملکوں کی فوجوں کو شکست دیدی تھی لیکن آج آیک مہینہ
ہونے کوآیا ہےکہ بھر پور طاقت اور امریکہ کی تمام تر فوجی امداد کے باوجود
ایک مومن و مجاھد گروہ کہ ہاتھوں جو لاتاخذ فی اللہ لومۃ لائم کا مصداق ہے
پے درپے شکست کھارہی ہے یہ اس بات کی علامت ہے کہ امت اسلامی اگر خدا سے لو
لگاے رکھے تو دشمنان اسلام کو شکست دے سکتی ہے ۔
پروردگار امت اسلامی کو دشمن کے شر سے محفوظ رکھ پروردگار ہمیں دشمنان
اسلام کے مقابلے اپنے فرائض سے آگاہ کر،اپنی راہ میں کما حقہ جھاد کرنے کی
ہم سب کوتوفیق عطا فرما،خدایا مسلمانوں کے دلوں کو آپس میں نزدیک کر انہیں
متحد کردے، پروردگار لبنان کے مظلوم عوام کو سنگ دل و بے رحم اور قسی القلب
دشمن کے شر سے محفوظ رکھ، خدایا حزب اللہ کے مجاھدین کی حفاظت فرما انہیں
نصرت وکامیابی عطا کر ،خدایا عالم اسلام کی عزت میں اضافہ فرماحضرت بقیۃ
اللہ ارواحنا لہ الفداء کی پاکیزہ دعائیں ہمارے شامل حال کراور آپ کے ظہور
میں تعجیل فرما۔
عید غدیر کے موقع پر
قائدِ
انقلاب اسلامی کا خطاب
قائدِ
انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سیّد علی خامنہ ای نے عید غدیر کے موقع پر
مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کے اجتماع سے جو خطاب کیا ہے ،
ذرائع ابلاع نےاس کو بہت کوریج دی ہے۔ امریکی منہ زوری اور خطرات کے مقابلے میں
ایرانی عوام کی مسلسل مزاحمت اور ثابت قدمی ، قومی مفادات کا تحفّظ اور ایران
اور یورپی یونین کے درمیان ایٹمی پروگرام سے متعلق مذاکرات میں ایران کی جانب
سے منطق و تدبیر سے کام لیا جانا قائدِ
انقلاب اسلامی کی تقریر کے وہ اہم نکات ہیں جن پر سیاسی حلقوں اور ذرائع ابلاغ
نے اپنی توجہ مرکوز کی ہے۔ گذشتہ پچیس سالوں سے امریکہ وسیع پیمانے پر ایران کے
خلاف اپنی پالیسیاں جاری رکھے ہوئے ہے ، اِسی
چیز کے پیش نظر قائدِ
انقلاب اسلامی نے ملّتِ
ایران کے ایمان ، قوت ارادی اور اتحاد اور عوام اور حکام کے درمیان وحدت کو
عالمی سامراج کی سازشوں کے مقابلے میں ثابت قدمی کی اہم وجوہات قرار دیا ہے۔
ایران کے مقابلے ميں امریکہ کی ناکامیوں سے اِس
بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ایرانی عوام کا اتحاد اور ثابت قدمی دشمنوں کی
سازشوں کے ناکام ہونے کا باعث بنی ہے۔ موجودہ صورتحال میں عالمی سامراج کا ایک
مقصد دہشت گردی ، انسانی حقوق اور ایٹمی پروگرام جیسے امور کو بہانہ بنا کر
ایران اور یورپی یونین کے تعلقات ميں بگاڑ پیدا کرنا ہے۔ حالانکہ امریکہ انسانی
حقوق کی وسیع خلاف ورزي اور حقیقی دہشت گردی کی حمایت کرنے کی بناء پر اِن
امور کے بارے ميں اظہار خیال کا حق نہيں رکھتا ہے۔ تجربے سے اس بات کا پتہ چلتا
ہے کہ جب بھی یورپی یونین نے امریکہ کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو ترجیح دی ہے
، اُس وقت ایران کے ساتھ اِس
کے تعلقات خراب ہوئے ہيں اور اِس
کے بر خلاف جب بھی یورپ والوں نے امریکہ کی توسیع پسندی کے خلاف ثابت قدمی کا
مظاہرہ کیا ہے تو عالمی نظام میں اُن کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے کیونکہ وہائٹ ہاؤس
کے حکام کی جنگ پسندانہ اور مداخلت پر مبنی پالیسیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر
امریکی حکام کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا ہے اور بُش حکومت عالمی سطح پر تنہا
ہوکر رہ گئی ہے۔ امریکی حکومت نےتمام ذرائع بروئے کار لا کر ایران میں جدید
ٹیکنالوجی کے داخلے کو روکنے کے پوری کوشش کی لیکن ملتِ
ایران نے اپنی قومی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے بہت علمی ترقی کی ہے اور
ایٹمی توانائی تک بھی رسائی حاصل کر لی ہے، اور یہی چیز امریکی حکام کے لئے
تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی حکام ایران اور یورپی یونین
کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں روڑے اٹکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اِن
مسائل کے پیشِ
نظر قائد انقلاب اسلامی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران اپنے قومی مفادات کے
حصول کے لئے عقل ، منطق اور تدبیر کی بنیاد پر یورپی کے ساتھ ایٹمی پروگرام سے
متعلق مذاکرات ميں سنجیدہ ہے ، اِس
لئے اب اس بات کی ضرورت ہے کہ یورپ بھی ایران کے ساتھ مذاکرات اور اپنے وعدوں
کے بارے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تاکہ باہمی تعاون میں توسیع کے لئے دو طرفہ
اعتماد حاصل ہوسکے قائدِ
انقلاب اسلامی کی تقریر سے اِس
حقیقت کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اگر ایران نے محسوس کیا کہ یورپی یونین ایران کے
ساتھ مذاکرات اور اپنے وعدوں ميں سنجیدہ نہيں ہے اور صرف وقت ضائع کررہی ہے تو
پھر ایران بھی یورپی یونین سے کئے اپنے وعدوں پر عمل کرنے کا پابند نہيں ہوگا۔