اسلامی اقدار کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور پیغمبر اسلام (ص) ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفیٰ ( ص) کی شان میں گستاخی کے خلاف عالم اسلام کے دانشوروں ، پروفیسروں ، فنکاروں اور اہم شخصیتوں کا یورپی یونین سے علامتی احتجاج اس ثقافتی دعوے اور اخلاقی فرد جرم پر دستخط کرنے والے ہم لوگوں میں سے زیادہ تر علمی، ادبی اور ثقافتی شعبے سے تعلق رکھنے والی شخصیتیں ہیں، جن کا حکومتوں سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔اس خط میں کہا گیا ہے ہمیں یورپ میں سیاسی دباؤ ڈالنے والے گروہوں، ذرائع ابلاغ اور بعض حکومتوں کے غیر مہذب رویے پر گہرا افسوس اور حیرت ہے اور ہم اسلام دشمنی اور محمدیت (ص) مخالف پروپیگنڈوں کے فسطائی انداز ، اور جھوٹے پروپیگنڈوں پر احتجاج کرتے ہیں اور آپ کو عالمی ضمیر کی عدالت میں اخلاق و منطق ، دو طرفہ آزادی ، سنسر اور توہین اسلام کے بارے میں کھلے عام اور شفاف گفتگو کی دعوت دیتے ہیں۔
ہمیں تشویش ہے کہ یورپ میں اسلام اور مسلمان مخالف تشدد آمیز اور غیر منصفانہ منصوبے پر عمل ہورہا ہے اور اسلام سے ڈرانے اور نفرت پیدا کرنے نیز پیغمبر اسلام (ص) معلم اخلاق و معنویت ، بشریت کو رحمت، معقولیت اور عدل و انصاف کی بشارت دینے والے خدا کے عظیم پیغمبر حضرت محمد بن عبداللہ (ص) کی نورانی شخصیت کے خلاف وحشیانہ ، تشہیراتی اور نفسیاتی جنگ کا آغاز کردیا گیا ہے جو تشہیراتی دہشت گردی ، ثقافتی تشدد اور پوری دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے حقوق کی پامالی کا واضح مصداق ہے، اس کے عالمی سطح پر ایسے نتائج سامنے آسکتے ہیں جس کی نہ پیشگوئی کی جا سکتی ہے اور نہ ہی اسے روکا جا سکتا ہے۔ آزادی بیان کے پس پردہ یہ ثقافتی تشدد اور کینہ توزانہ روش کے تحت نہ صرف پیغمبر اسلام (ص) بلکہ حضرت عیسیٰ ، حضرت مریم، حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم (ع) جیسی نورانی شخصیتوں کو بھی گاہے بہ گاہے نشانہ بنایا جاتا ہے اور فلم، ناول، کارٹون اور مقالوں کے ذریعے زہر افشانی ، نفرت انگیزی اور ثقافتی دہشت گردی کی جاتی ہے ۔بعض یورپی حکام بالخصوص جرمنی کے وزیر خارجہ نے جو اس وقت یورپی یونین کے ترجمان بھی ہیں ، اس شیطانی، غیر اخلاقی اور غیر مہذب کاموں کی حمایت کی ہے اور یورپ کے تمام ذرائع ابلاغ سے مطالبہ کیا ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) کی توہین کریں ۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مسئلہ اتفاقی یا ذاتی نہیں ہے بلکہ اسلام پر حملہ، سرکاری و حکومتی پالیسی میں تبدیل ہوچکا ہے۔
یہ خط اس وجہ سے لکھا جا رہا ہے کہ ہمیں ابھی یقین نہیں کہ یہ یورپی یونین کی جدید اور عام پالیسی ہے یا یورپی حکومتوں کے بعض ترجمانوں اور حکام کا ذاتی نقطہ نگاہ ہے جو صیہونیزم کے دباؤ میں انجام پارہا ہے۔
اگر یہ فرض کرلیں کہ یورپ کا مسئلہ واقعا" آزادی بیان ہے تو بہتر ہے کہ وہ ان چند سوالات کے جوابات دے دیں۔
کیا منطق و اخلاق کے بغیر آزادی ، جھوٹ اور توہین کی آزادی ترقی و پیشرفت کی خدمت کے لئے ہے یا تشدد اور امتیازی سلوک کے لئے ۔ اور کیا اس کے مقابلے میں اپنی اقدار کے خلاف دوسروں کو بھی آپ یہ حق دیتے ہیں یا نہیں ؟ اور نہیں دیتے ہیں تو کیوں؟
کیوں آزاد یورپ جو مسلمان لڑکیوں کے حجاب تک کو برداشت نہیں کرتا اور عورت کے حقوق کو جس میں سب سے پہلے اس کا پردہ، عزت نسوان کی حفاظت اور اس کی عفت کو، حجاب پر پابندی عائد کرکے پامال کیا جاتا ہے ، جو یورپ آزادی بیان کو ہولوکاسٹ، یا قدس کی غاصب صیہونی حکومت کی قانونی حیثیت کے بارے میں سوال کرنے کی بھی اجازت نہیں دیتا، وہ یورپ جس نے اٹھارہویں صدی سے آج تک ، اور گزشتہ پچاس برسوں میں، امریکہ کے ساتھ مل کر مراکش سے لے کر مصر ، فلسطین ، عراق ، افغانستان ، ہندوستان ، ملیشیا اور انڈونیشیا تک کو، اپنی لوٹ کھسوٹ اور قتل عام کا نشانہ بنایا ہے، وہ یورپ جو آزادی اور برابری کی بنیاد پر مذاکرات کے بجائے توہین و تحقیر ، اور فحاشی کے منصوبے پر عمل پیرا ہے کسی طرح نہ صرف انسانی و اسلامی اقدار بلکہ یورپ کی نام نہاد اقدار کو بھی اتنی آسانی سے پامال کررہا ہے؟
اسلام ، توحید ، معنویت ، بھائی چارگی اور امن کی دعوت دیتا ہے ، لیکن کیوں دو صدیوں تک عالم اسلام میں لوٹ مار ، صلیبی جنگوں اور مسلمانوں و تمام انسانیت کے خلاف سیکولر جنگوں کے بعد بھی مغربی حکام کینہ اور دشمنی کو الگ رکھ کر پیغمبر اسلام (ص) کے پیغام کو سننے کے لئے تیار نہیں ہیں اور یورپ کے عوام کو اس کو سننے اور آزادی سے اس کے بارے میں فیصلہ کرنے کے حق کے قائل نہیں ہیں ؟ مغربی ملکوں میں تیزی سے اسلام کے فروغ سے ،ممکن ہے پاپ کو تشویش ہوگئی ہو، اور اس سے مغربی حکومتیں ، صیہونی ذرائع ابلاغ اور سرمایہ کار کمپنیاں ناراض ہوگئی ہوں، لیکن کیا توہین و تذلیل و برا بھلا کہنا اور رائے عامہ میں تشویش پیدا کرنا ، اسلام یا کسی بھی منطقی و اخلاقی مکتب فکر کی مخالفت کرنے کا، صحیح راستہ ہے؟
اگر مغرب کے عیسائی ،اور سیکولر عوام جوق در جوق اسلام قبول کررہے ہیں تو اس کی بنیادوں کی جانب توجہ کرنی چاہئے ۔آپ کے مسئلے کی راہ حل اسلام فوبیا اور خوف و نفرت پھیلانا، نیز حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کے جمال نورانی کے غلط خاکے تیار کرنا نہیں ہے۔
غلط طریقہ کار چاہے وہ فسطائی طاقتوں کی جانب سے اختیار کیا جائے ، چاہے اسٹالن کے ماننے والوں اور لبرلزم کے دعویداروں کی جانب سے، اختیار کیا جائے ، ہر حال میں ناکام رہے گا ۔
جس طرح گوبلز اور ایشوویٹس یا اسٹیلن کے رائج کردہ طریقے نیز سائیبریا کے عقوبت خانے، مادیت کی آئیڈیالوجی کی بقاء کی ضمانت نہ فراہم کرسکے اور اس سے بھی اخلاقیات اور کھوکھلے پن کے بحران کا علاج نہ ہوسکا، اسلام اور مسلمین کے خلاف آج کا گوانتانامو بے اور مغرب کی توہین آمیز زبان مغرب کی جدید کھوکھلی اور مادی آئیڈیالوجی، لبرل سرمایہ دارانہ نظام کے بحران کو حل کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔اگر یورپ اپنے دین اور دینداری کی تاریخ کے سلسلے میں تکلیف میں مبتلا ہے اور قرون وسطیٰ اور پاپ کی حکمرانی اور تفتیش عقائد اور صلیبی جنگیں ، عیسائیوں کے عقوبت خانوں ، علم دشمنی اور ماضی میں دانشوروں کو آگ کے حوالے کردیاجانا یورپ کے ضمیر کو کچوکے لگا رہا ہے تو جان لیجئے کہ اس کی تلافی کا راستہ ہر دین و مذہب کے خلاف جد وجہد نہیں ہے اور اس کا بدلہ دین اسلام سے نہیں لینا چاہئے جو علم و منطق ، عقل و شعور ، انسانی حقوق اور عدل و انصاف کا دین ہے ۔یورپ کی تہذیب جدید کی تاریخ گواہ اور معترف ہے کہ اسے اسلامی تہذیب سے آشنائی اور عالم اسلام کے علوم کے ترجمے ،اسلامی یونیورسٹیوں، کتب خانوں اور ہسپتالوں تک مغرب کی رسائی کے ذریعے جدید علوم میں ترقی نصیب ہوئی۔ سیکورلر یورپ کو سمجھ لینا چاہئے کہ یا گذشتہ صدیوں کے کلیساؤں میں ہونے والے تشدد کی تلافی اسلام کے خلاف تعصب اور دشمنی سے نہیں کرنی چاہئے جس کا یورپ کی تاریخ میں ہونے والے تشدد میں کوئی دخل نہیں ہے ۔
قرآن کریم جو ایک انسان کی جان کو پوری انسانیت کی جان کے برابر سمجھتا ہے اور موسیٰ و عیسیٰ علیہم السلام جیسے تمام انبیاء کا احترام کرتا ہے یا پیغمبر اسلام (ص) کو، جو جسمانی تشدد حتی زبانی تشدد کو گناہ کبیرہ کا حصہ اور بیگناہ کے قتل کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں، ایسا پیغمبر، جو عقل کو، مظہر شیطان نہیں بلکہ حجت الہی اور رسول حق سمجھتا ہے اور اس نے خود مدینہ منورہ میں یہودیوں ، عیسائیوں اور زرتشتیوں کے ساتھ انسانی ہمدردی اور آزادی مذہب کی بنیاد پر برتاؤ کیا اور عظیم اسلامی تہذیب کی داغ بیل ڈالی، چند کارٹونوں ، جھوٹ اور اہانت کے ذریعے کس طرح ختم کیا جا سکتا ہے؟
مسلمان آپ سے درگزر اور پلیولرزم بھی نہیں چاہتے، بس تھوڑی سی تہذیب اور انصاف کے طالب ہیں۔ افسوس کہ بین الاقوامی اداروں نے بھی مایوس کیا ہے، مگر اس سیکولر ہٹ دھرمی، مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام کی آہنی اولیگارشی (طبقہ امراء کی حکومت) دوسروں کو کچلنے اور تسلط پسندی کی روشیں، توہین اور الزام تراشی، جنگ افروزی اور آمرانہ اصول، صرف دو طرفہ انتہا پسندی کو ہوا دے رہے ہیں، اگر آپ کا مقصد دنیا بالخصوص یورپ و امریکہ میں اسلام کے فروغ کو روکنا ہے اور آپ مسلم نوجوانوں میں اسلامی بیداری کو روکنا چاہتے ہیں تو بھی بہتر ہے کہ استدلال ، گفتگو اور اخلاق کا طریقہ کار اختیار کیجئے اور منطق و آزادی بیان ، اور حجاب اسلامی سے یورپ میں موجود مسلمانوں کو بھی فائدہ اٹھانے کا موقع دیجئے اور توہین کے بجائے گفتگو اور مناظرے کی اجازت دیجئے تا کہ ہمارے استدلال کی جنگ ہو فلسطین ، عراق اور افغانستان پر قبضہ ،ایران شام اور دوسری مسلمان قوموں کو دھمکانا ، غیر مساوی جنگ ، غیر منطقی اور غیر اخلاقی روش اور مسلمانوں کی علمی و اقتصادی پیشرفت روکنے سے مغرب کی ہژمونی محفوظ نہیں رہے گی۔ یورپی یونین کی جانب سے سلمان رشدی ، احمقانہ کارٹونوں اور آزادی بیان کی آزادی توہین میں تبدیلی اور سیکولر مقاصد کے لئے صلیبی جنگوں کا تسلسل تشدد اور بھر پور ثقافتی دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں ہے کیا یہ بہتر نہیں کہ دھمکی و توہین کے بجائے عالم اسلام کے نمائندوں کو موقع دیجئے کہ وہ لاکھوں مسلمان اور مسلمان شہریوں کے سامنے پوری آزادی سے اکیڈمیک اور شفاف گفتگو کریں، یورپی شہریوں کے شعور کا احترام کرتے ہوئے انہیں بھی طرفین کی باتیں سننے اور پھر فیصلہ کرنے کی اجازت دیجئے ہماری کم سے کم منطقی درخواست یہ ہے کہ مسلمانوں کے ثقافتی حقوق کا احترام کریں اور یورپ کے عوام کے شعور کا بھی احترام کریں۔
اسلام کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کرنا اور پیغمبر اکرم (ص) کی نورانی شخصیت کی توہین کرنا جو پوری انسانیت کے لئے رحمت ہیں ، ایک طرح سے عالمی سیاست و صحافت کے میدان سے عقائد کی تفتیش ، سیکولر بنیاد پرستی اور عشق و اخلاق و عقل کو حذف کرنا ہے۔
اگر کچھ لوگوں کے لئے جنگ آمدنی کا ذریعہ ہے توہو ، لیکن ہم اسلامی ملکوں کی یونیورسٹیوں کے پروفیسروں اور دانشوروں کے ضمیر کی حیثیت سے یورپی حکومتوں بالخصوص یورپ کی مذہبی شخصیتوں ، سیکولر دانشوروں اور ماہرین سے تقاضہ کرتے ہیں کہ پرتشدد اور جارحانہ روش کو ہر ممکن طریقے سے روکیں اور اسلام کا فروغ روکنے کے لئے مہذب اور انسانی طریقہ اختیار کریں اور مذاکرات و گفتگو کی راہ ہموار کرنے میں مدد کریں ۔
جی ہاں ، دوسری دنیا ممکن ہے، آئیے اس کے لئے تعاون کریں۔