31تیر
31تیرماہ 1334 ہجری شمسی کو معاصر ایرانی تاریخ کے ایک منجھے ہوئے سیاستدان اور آمر حکمران احمد قوام المعروف قوام السلطنہ کا انتقال ہوا ۔ قوام السلطنہ نے قاجاری بادشاہ ناصرالدین شاہ کے دور میں دفتری ملازمت شروع کی اور بعد میں وزیر اعظم کے دفتر کے انچارج بنے وہ مجموعی طور پر پانچ مرتبہ وزیر اعظم بنے ، نیز سیستان اور خراسان صوبوں کے گورنر بھی رہے ۔ قوام السلطنہ سید ضیاء الدین طباطبائی کے بعد دو مرتبہ وزیر اعظم بنے ، لیکن اس دور کے وزیر دفاع رضاخان پہلوی کے خلاف سازش کے جرم میں جیل میں بند ہوئے قید سے رہائی کے بعد وہ یورپ چلے گئے ، کچھ برسوں کے بعد ایران واپس آئے لیکن رضاخان پہلوی کے دور سلطنت میں سیاست اور سرکاری امور سے دور رہے ، ان کی معزولی کے بعد وہ 1324 اور 1331 ہجری شمسی میں پھر وہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے ۔ 1331 ہجری شمسی میں معزول شاہ ایران اور وزیر اعظم ڈاکٹر مصدّق کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے ، شاہ نے ڈاکٹر مصدق کے سامنے ایک طاقتور حریف کے طور پر قوام السلطنہ کو وزیر اعظم نامزد کیا ، جنہوں نے معمولی اکثریت کے ساتھ پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ بھی حاصل کیا لیکن چار دن بعد آیت اللہ کاشانی کی قیادت میں چلنے والی عوامی تحریک کے دباؤ پر ان کو استعفے دینا پڑا ۔ اس کے بعد ایک عرصے تک قوام السلطنہ چھپے رہے ، پارلیمنٹ نے ان کی جائیداد کی قرقی کا آرڈر دیا 31 تیرماہ 1334 ہجری شمسی کو 83 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا ۔
31 تیر 1162 ھ ش کو زار روس نے خلیج فارس تک رسائی حاصل کرنے کے پیٹر اعظم کے وصیت نامے پر عمل درآمد کے لئے جارجیا کو ایرانی قلمرو سے الگ کرنے کی غرض سے پہلا قدم اٹھایا ۔ انہوں نے جارجیا کے حاکم آراکلی خاں کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کیا جس کی رو سے جارجیا کا انتظام روس کے ہاتھ میں چلاگیا اور اس پر ایران اور سلطنت عثمانیہ سے براہ راست تعلقات رکھنے پر پابندی لگ گئی ۔ اسی کے ساتھ روسی حکومت نے جارجیا کے حاکم کی حفاظت کی ذمہ داری خود سنبھال لی اور فورا" ایک لشکر جارجیا بھیج دیا ۔ اس معاہدے نے ایرانی عوام میں بے چینی پیدا کردی ۔ اس کے باوجود نادرشاہ افشار کے جانشینوں نے جو اقتدار کی جنگ اور داخلی مشکلات سے دوچار تھے ، اس معاہدے کے خلاف کسی بھی قسم کے رد عمل کا اظہار نہیں کیا ۔