28 تیر

 28 تیر ماہ 1274 ہجری شمسی کو ایران کے معروف عالم دین دانشور اور مصنّف استاد سید محمد تقی مدرّس رضوی مشہد مقدس میں پیدا ہوئے انہوں نے مشہد اور تہران میں دینی اور مروجّہ تعلیم کے مختلف مراحل طے کئے اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہوگئے ۔ تہران یونیورسٹی کے قیام کے بعد استاد محمد تقی مدرس رضوی معقول و منقول فیکلٹی اور آرنس فیکلٹی میں پڑھانے لگے ۔ تاریخ بخارا ، مجمل التواریخ ، احوال و آثار خواجہ نصرالدین طوسی اور تصحیح آثار علوی ان کی اہم تصانیف ہیں ۔ استاد محمد تقی مدرّس رضوی 91 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ۔

 


 

 28 تیر 1333 ھ ش کو عظیم عالم دین آیت اللہ محمد حسین کاشف الغطاء (رح) نے وفات پائی ۔ وہ عراق کے شہر نجف اشرف میں علمی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بزرگ اساتذہ ، جیسے ملامحمد کاظم المعروف آخوند خراسانی (رح) سے کسب فیض کیا اور تھوڑے ہی عرصف میں علمی مدارج کو طے کرلیا ، آیت اللہ محمد حسین کاشف الغطاء (رح) نے زندگی بھر دینی طالب علموں کی تربیت کی ۔ انہوں نے اسلامی علوم کی نشر و اشاعت کی غرض سے بعض مسلم ممالک کا سفر کیا ۔ وہ سیاسی امور میں شرکت اور حکومت سے متعلق مسائل پر توجہ کو شرعی فرائض میں شمار کرتے تھے ۔ اسی بناپر ان کا عراق کی قومی تحریک میں اہم کردار رہاہے ۔ آیت اللہ کاشف الغطاء (رح) نے پہلی جنگ عظیم کے آغاز پر غاصب برطانوی افواج کے خلاف عراقی عوام کی تحریک آزادی میں فعال کردار ادا کیا ۔ انہوں نے بہت سی کتابیں بھی لکھیں جن میں " حواشی عین الحیات " ،  " السیاستہ الحسینیہ " اور شعری دیوان خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔

 


 

 28 تیر 1359 ھ ش کو ایرانی ادیب اور عالم استاد جلال الدین ہمائی (رح) نے وفات پائی ۔ وہ 1278 ھ ش میں ایران کے مرکزی شہر اصفہان کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے 5 سال کی عمر سے اپنے والد سے تعلیم حاصل کی اور فقہ میں درجۂ اجتہاد پر فائز ہوئے ۔ انہیں ادب ، فلسفہ ، اصول فقہ اور علم فلکیات میں بھی بہت مہارت حاصل تھی ۔ استاد ہمائی (رح) نے نہ صرف اپنی تعلیم کے دوران بلکہ بعد میں بھی بہت سے شاگردوں کی تربیت کی ۔ وہ ایک فعال عالم تھے ۔ انہوں نے بہت سے کتابیں چھوڑی ہیں جن میں " تاریخ ادبیات ایران " ،  " صناعات ادبی " اور " مثنوی ولدنامہ " اہم ہیں ۔