3 شہریور

3 شہریور سنہ 1320 ھ ش کو دوسری جنگ عظیم کے دوران اتحادی ممالک کی فوجوں نے ایران پر قبضہ کرلیا۔اس سال سوویت یونین کی طرف نازی جرمنی کی فوج کی پیش قدمی سے امریکہ ، فرانس اور برطانیہ کو شدید تشویش لاحق ہوگئی تھی کیونکہ سوویت یونین پر جرمنی کے غلبے کی صورت میں مشرق وسطیٰ اور مشرق بعید میں مغرب کےمفادات خطرے میں پڑجاتے اور جنگ میں جرمنی کی فتح کا امکان بہت زیادہ ہوجاتا ۔اسی بنا پر مذکورہ تینوں ملکوں نے فیصلہ کیا کہ ایران کے راستے سوویت یونین کو ہتھیار اور غذا پہنچائی جائے ۔ایران کے غیر جانبدار رہنے کا اعلان کرنے کے باوجود 3 شہریور سنہ 1320 ھ ش کو صبح سویرے سوویت یونین کی فوج نے شمال مغرب اور مشرق سےاور برطانوی فوج نے جنوب کی طرف سے ایران پر فضائی ، زمینی اور بحری حملہ کردیا ۔ایران کے مطلق العنان حاکم رضا خاں کی نااہلی کی وجہ سے متعدد فوجی مراکز تباہ ہوگئے اور ایران کی بحریہ خلیج فارس میں غرق ہوگئی ۔برطانیہ اور سوویت یونین کی فوجوں نے بیس دن کی لڑائی کے بعد تہران پر قبضہ کرلیا ۔لندن اور ماسکو کے اتفاق سے رضاخاں کو حکومت سے بے دخل کرکے جلاوطن کردیا گیا اور اس کے بیٹے محمد رضا کوتخت پر بٹھا دیا گيا ۔