9 اردیبہشت
9 اردیبہشت 1370 ہجری شمسی مطابق 29 اپریل 1991 کو ایرانی محقق ڈاکٹر غلام حسین صدیقی نے 78 سال کی عمر میں وفات پائی ۔انہوں نے اپنی تعلیم دارالفنون تہران میں مکمل کی۔پھر وہ مزید تعلیم کے لئے فرانس چلے گئے جہاں فلسفہ اور عمرانیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایران واپس لوٹ آئے اور تہران یونیورسٹی میں تاریخ فلسفہ اور سوشیالوجی کی تدریس میں مشغول ہوگئے وہ ایک عرصےتک یونیسکو کے قومی کمیشن کے رکن بھی رہے ۔ڈاکٹر غلام حسین صدیقی نے کئی کتابیں بھی تحریر کیں جن میں گزارش سفر ہند ، دوسری اور تیسری صدی ہجری قمری میں ایرانی مذہبی جشن اور تصحیح رسالات ابن سینا قابل ذکر ہیں ۔
9 اردیبہشت 1298 ہجری شمسی کو اپنے دور کے عظیم عالم دین اور مرجع تقلید آیت اللہ سید محمد کاظم یزدی نے وفات پائي ۔ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے میرزای شیرازی اور آیت اللہ کاشف الغطاء جیسے جید علماء سے کسب فیض کیا اور پھر تدریس میں مصروف ہوگئے ۔ ان کا شمار نجف اشرف کے مشہور و ممتاز اساتذہ میں ہوتا تھا۔آپ کی اہم ترین تالیفات میں سے عروۃ الوثقیٰ کو عالمی شہرت حاصل ہوئی ۔
9 اردیبہشت 1286 ہجری شمسی کو تہران میں سید حسن کاشانی کی ادارت میں فارسی ہفت روزہ حبل المتین کی اشاعت شروع ہوئی ۔یہ فارسی زبان کا مشہور ترین اخبار تھا جس نے آئینی حکومت کی تحریک کے دور میں ایرانیوں کی بیداری میں اہم کردار ادا کیا ۔البتہ حبل المتین کو پہلی بار سید جمال الدین اسد آبادی کے ساتھی موید الاسلام سید جلال الدین نے ہندوستان کے شہر کلکتہ سے شائع کیا تھا ۔چونکہ یہ ہفت روزہ ایرانی حدود سے باہر شائع ہوتا تھا اس لئے اس کو ایرانی دربار کے ظلم و جور کے ذمہ داروں کے جرائم اوربد عنوانیوں کو برملا کرنے کی پوری آزادی حاصل تھی ۔