9 خرداد
9 خرداد سنہ 1309 ھ ش کو مشہور شاعر ، ادیب اور دانشور سید احمد پشاوری کا تہران میں انتقال ہوا۔وہ ادیب پشاوری کے نام سے مشہور تھے ۔ادیب پشاوری ، پاکستان کےشہر پشاور کے مضافات میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے غزنہ میں اپنی تعلیم کا آغاز کیا اور پھر ایران کے شمال مشرق میں واقع علاقے خراسان اور سبزوار میں اپنی تعلیم مکمل کی اور ملاہادی سبزواری جیسے علماء سے کسب فیض کیا ۔پھر انہوں نے تہران میں سکونت اختیار کی اور ادبی و فلسفی کتابوں کے مطالعے اورشاعری کا سلسلہ جاری رکھا۔
ادیب پشاوری کے فارسی کلام کا دیوان موجود ہے جو شاعری میں ان کی مہارت کا ثبوت ہے ۔
9 خرداد سنہ 1303 ھ ش کو ایران کے مشہور ماہر لسانیات ، ادیب اور طبیب ، میرزا علی اکبر خان نفیسی کاانتقال ہوا ۔میرزا نفیسی ناظم الاطبا کے نام سے معروف تھے ۔انہوں نے ابتدائي تعلیم حاصل کرنے کے بعد فلسفے اورطب کی تعلیم حاصل کی ۔طبی تعلیم انہوں نے تہران کے مدرسہ دارالفنون کے نام سے مشہور سائنس کالج میں مکمل کی۔انہوں نے طب کی بہت سی کتابوں کا فارسی میں ترجمہ کیا۔اس کے علاوہ اس موضوع پر ان کی تالیفات بھی موجود ہیں ۔لیکن میرزا علی اکبر خان نفیسی کی اہم ترین تالیف فرہنگ نفیسی ہے ۔پانچ جلدوں پر مشتمل فارسی کی یہ لغت انہوں نے 25 سال میں تیار کی۔