29 خرداد

29 خرداد سنہ 1356 ھ ش کو ایران کے معاصر ادیب اور دانشور ڈاکٹر علی شریعتی کا لندن میں انتقال ہوا ۔وہ سنہ 1312 ھ ش میں شمال مشرقی ایران میں واقع شہر سبزوار کے قریب ایک علمی اور مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے ۔انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم ادب میں حاصل کی اور ساتھ ساتھ شاہی حکومت کے خلاف سیاسی جد وجہد بھی شروع کی ۔ اس کے کچھ عرصے کے بعد مزید تعلیم کے لئے فرانس چلے گئے اور سوربن یونیورسٹی سے تاریخ مذاہب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل  کرکے واپس ایران آگئے ۔اس زمانے میں انہوں نے اپنی جد وجہد کو تہران کی ارشاد امام بارگاہ میں تقریروں اوربحث و مباحثے کے ذریعے جاری رکھا ۔ڈاکٹر شریعتی کو حضرت امام خمینی (رح) سے لگاؤ اور انسیت تھی اور ان کا شمار سرگرم محققین میں ہوتا تھا ۔ان کی جملہ تصانیف میں " اسلام اور انسان " ، " تاریخ تمدن " ، " حج " اور " فاطمہ، فاطمہ ہیں " خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔

 


 

29 خرداد سنہ 1309 ھ ش کو مجاہد عالم دین آیت اللہ مرزا علی غروی ایران کے شہر تبریز میں پیدا ہوئے ۔بچپن میں ہی والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا ۔لیکن اس کے باوجود آپ نے چودہ سال کی عمر میں حوزہ علمیہ قم میں داخلہ لے لیا ۔قم میں پانچ سال تک دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ عراق کے مقدس شہر نجف اشرف تشریف لے گئے اور وہاں آیت اللہ سید ابوالقاسم خوئی اور میرزا باقر زنجانی جیسے جید علماء سے کسب فیض کیا ۔آپ نے حصول علم کے ساتھ ساتھ تدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا ۔آپ نے متعدد کتابیں بھی تحریر کیں جن میں سے التنقیح خاص طور پر قابل ذکر ہے جو بارہ جلدوں پر مشتمل ہے ۔آپ حضرت امام حسین (ع) کے روضے کی زيارت کرکے واپس آرہے تھے کہ بعثی درندوں نے آپ کو شہید کردیا۔شہادت کے وقت آپ کی عمر 68 سال تھی۔