23 فروردین
23 فروردین سنہ 1281 ھ ش کو معروف ایرانی ادیب اور افسانہ نگار صادق ہدایت پیدا ہوئے ۔ایران میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ یورپ گئے ۔چار سال تک فرانس میں رہے اس دوران انہوں نے فرانس کی سیر کے ساتھ ساتھ اپنے معروف افسانے اور ناول تحریر کئے ۔وہ واپس ایران آئے تو وزارت خارجہ نے انہیں ہندوستان میں سفیر بنا کر بھیج دیا ۔ایران واپس آنے کے بعد انہوں نے فارسی ادب میں یاسیت کی ترویج کے لئے ایک گروہ بھی تشکیل دیا ۔ان کی کتابوں میں زندہ بگور ، سہ قطرہ خون ، سگ ولگرد اور بوف کور شامل ہیں ۔
23 فروردین 1381 ہجری شمسی کو ڈاکٹر یداللہ سحابی کا 97 سال کی عمر میں انتقال ہوا ۔وہ 1284 ہجری شمسی کو تہران میں پیدا ہوئے ۔ابتدائي تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے لئے فرانس چلے گئے اور 1315 ہجری شمسی کو انہوں نے جیالوجی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور ایران واپس آنے کے بعد انہوں نے شہید مدرس اور ڈاکٹر مصدق کا ساتھ دیا ۔1322 ہجری شمسی کو انہوں نے باقاعدہ میدان سیاست میں قدم رکھا اور چار سال ، آٹھ مہینے تک جیل کی صعوبتیں برداشت کیں ۔اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد وہ وزیر مملکت بنے اور پھر اسلامی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی کے پہلے دور کے انتخابات میں کامیاب ہوکر پارلیمنٹ کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔وہ سیاسی کاموں کے ساتھ ساتھ مذہبی اور علمی کاموں میں بھی مشغول رہے ۔ان کی اہم کتابوں میں خلقت انسان قرآن و تکامل اور معرفۃ الارض خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔
23 فروردین 1371 ہجری شمسی کو ایرانی مصنف پروفیسر محسن صبا کا انتقال ہوا ۔انہوں نے ابتدائی تعلیم مدرسہ دار الفنون میں حاصل کی اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لئے فرانس چلے گئے جہاں انہوں نے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ ایران واپس آکر درس و تدریس میں مشغول ہوگئے ۔ڈاکٹر محسن صبا نے بہت سی کتابیں بھی تحریر کیں جن میں کتاب شناسی گل ھای حافظ اور ترجمہ سفرنامہ ھای مختلف کی طرف خاص طور سے اشارہ کیاجاسکتاہے ۔