21 فروردین

21 فروردین سنہ 1367 ھ ش کو عراق کی سابق صدام حکومت کے طیاروں نے ایران کے مغربی شہر مریوان پر کیمیاوی حملہ کیا ۔اس حملے میں متعدد ایرانی شہری شہید اور زخمی ہوئے ۔اسی دن صدام حکومت کی فوج نے فاو کے علاقے میں کیمیاوی بم پھینکے ۔اس حملے میں بھی متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے ۔عراق کی سابق حکومت نے سنہ 1367 ھ ش میں کیمیاوی ہتھیاروں کے ذریعے اپنے حملوں میں شدت پیدا کردی جن کی وجہ سے ایران کے سینکڑوں فوجی اور عام شہری شہید جبکہ ہزاروں زخمی ہوگئے ۔لیکن اس کے باوجود عالمی تنظیموں اور یورپی ملکوں نے نہ صرف صدام کے ان غیر انسانی اقدامات پر خاموشی سادھے رکھی بلکہ بعض یورپی ممالک نے کیمیاوی ہتھیاروں کی تیاری کے سلسلے میں صدام حکومت کی مدد بھی کی۔

 

 


 

21 فروردین سنہ 1378 ھ ش کو دہشت گرد تنظیم MKO  کے کارندوں نے تہران میں مسلح افواج کے ڈپٹی چیف علی صیاد شیرازی کو شہید کردیا ۔

علی صیاد شیرازی سنہ 1323 ھ ش کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے ایف اے کرنے کے بعد وہ کیڈٹ کالج میں داخل ہوئے ۔وہ شاہی حکومت کے مخالفین میں سے تھے ۔اسی وجہ سے شاہی حکومت کے کارندوں نے انہیں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا ۔

بہمن سنہ 1357 ھ ش میں انقلاب کی کامیابی کے دوران وہ آزاد ہوئے ۔انہوں نے اپنی زندگی انقلاب اسلامی کے لئے وقف کردی اور انقلاب کے دشمنوں کے خلاف ہمیشہ پیش پیش رہے ۔سنہ 1360 ھ ش میں بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) نے ان کو بری فوج کا سربراہ مقرر فرمایا ۔اس کے بعد وہ مسلح افواج کے ڈپٹی چیف بنے اور 21 فروردین سنہ 1378 ھ ش کو وہ شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے ۔