19 فروردین
19 فروردین سنہ 1359 ہجری شمسی کو عراق کے سابق ڈکٹیٹر صدام کے کارندوں نے عظیم فلسفی اور عالم دین آیت اللہ سید محمد باقر الصدر اور ان کی ہمشیرہ بنت الہدیٰ کو جیل میں اذیتیں دینے کے بعد شہید کردیا ۔
آیت اللہ سید محمد باقر الصدر سنہ 1313 ہجری شمسی میں عراق کے شہر کاظمین میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے ابتدائی دینی تعلیم اپنے شہر میں ہی حاصل کی اس کے بعد وہ اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے نجف اشرف چلے گئے ۔ابھی ان کی عمر بیس سال بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ درجۂ اجتہاد پر فائز ہوگئے ۔انہوں نے صرف بائیس سال کی عمر میں اپنی پہلی کتاب غایت الفکر فی علم الاصول الفقہ تحریر کی ۔اس کے بعد انہوں نے دو معرکۃ الآرا کتابیں فلسفتنا اور اقتصادنا تحریر کیں جنہوں نے علمی حلقوں میں تہلکہ مچادیا ۔وہ دین کو سیاست سے جدا نہیں سمجھتے تھے اور علمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی سرگرمیوں میں بھی بھر پور حصہ لیتے تھے اس بنا پر بعث پارٹی والے ان کے وجود کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے تھے ۔آیت اللہ باقر الصدر نے امام خمینی (رح) کی قیادت میں رونما ہونے والے ایران کے اسلامی انقلاب کی حمایت میں اہم کردار ادا کیا جو عراق کی سابق ڈکٹیٹر حکومت کے لئے انتہائي ناگوار امر تھا ۔آخر کار بعث پارٹی کے کارندوں نے انہیں اور ان کی ہمشیرہ کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا اور ان پر تشدد اور ظلم و ستم کی انتہا کردی آخر کار یہ دونوں بہن بھائی 19 فروردین سنہ 1359 ہجری شمسی کو عراق کی بعثی حکومت کی جیل میں تشدد اور ظلم و ستم کے باعث درجۂ شہادت پر فائز ہوئے ۔