بارہ فروردین
بارہ فروردین سنہ 1369 ہجری شمسی کو ایرانی محقق استاد حسین عماد زادہ کا انتقال ہوا ۔انہیں تصنیف و تالیف ، تحقیق اور اسلامی ثقافت و معارف کو پھیلانے کا بہت شوق تھا ۔ان کی علمی کاوشوں کا نتیجہ ایک سو بیس کتابیں ہیں جو مختلف اسلامی اور قرآنی موضوعات پر مشتمل ہیں ۔ان میں ترجمہ اور تفسیر قرآن کریم ، تاریخ انبیاء (ع) اور تفصیلی تاریخ اسلام قابل ذکر ہیں ۔
12 فروردین سنہ 1232 ھ ش کو معروف عالم دین آیت اللہ سید محمد ابراہیم ایران کے شہر اصفہان میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے ابتدائی دینی تعلیم اپنے چچا سید محمد باقر خوانساری سے حاصل کی۔پھر اپنے زمانے کے نامور علماء سے اکتساب فیض کیا اور درجۂ اجتہاد پر فائز ہوئے ۔
آیت اللہ خوانساری نے اس کے بعد فقہ واصول کی تدریس کا آغاز کیا اور متعدد شاگردوں کو پروان چڑھایا ۔وہ 12 فروردین سنہ 1292 ھ ش کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ان کو اصفہان میں ان کے چچا کی قبر کے پاس سپرد خاک کیا گیا ۔
بارہ فروردین سنہ 1358 ہجری شمسی کو ایران میں اسلامی جمہوری نظام قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ۔
انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد ،حکومتی نظام کے تعیین کے لئے ریفرینڈم کروایا گیا تھا ۔اس ریفرینڈم میں 2۔98 فیصد ووٹ اسلامی جمہوری نظام کے حق میں ڈالے گئے ۔اس دن کے بعد سے ہر سال بارہ فروردین کو یوم اسلامی جمہوریۂ ایران منایا جاتا ہے ۔بارہ فروردین کا دن ، انقلاب اسلامی کے عظیم دنوں میں سے ایک ہے ۔جس میں ایران کی مسلمان قوم نے شعور اور سیاسی آگہی کی بنا پر اسلامی جمہوری نظام کو منتخب کیا اور یہ تاریخی انتخاب ملّت ایران کی سیاسی زندگی میں ایک نیا موڑ تھا ۔
بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے ایران میں اسلامی جمہوری نظام کے اعلان کی مناسبت سے اپنے پیغام میں فرمایا ۔
مبارک ہو آپ پر ،آپ نے اپنے نوجوانوں کی شہادت اور بڑی مصیبتیں اٹھانے کے بعد اپنے دشمن کو ناکام کردیا اور اسلامی جمہوری نظام کے حق میں ووٹ ڈال کر حکومت عدل الہی کا اعلان کیا ۔ایسی حکومت جس میں سارے لوگ یکساں اور برابر ہیں اور عدل الہی کا نور سب پر پڑرہا ہے اور قرآن و سنت کی رحمت کی بارش سب پر یکسان برس رہی ہے ۔