2 آبان

2 آبان سنہ 1372 ہجری شمسی کو آیت اللہ سید احمد میرخانی نے تہران میں وفات پائی ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دینی تعلیم کے حصول کے لئے حوزہ علمیہ قم کا رخ کیا اور آیت اللہ مرعشی نجفی ، سید محمد حجت کوہ کمرہ ای اور سید محمد تقی خوانساری جیسے اساتذہ کے دروس میں شرکت کی ۔آیت اللہ بروجردی کی قم تشریف آوری کے بعد وہ ان کے درس میں بھی شرکت کرنے لگے ۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے دین کی تبلیغ اور کتابوں کی تصنیف کا سلسلہ شروع کیا اور آخری وقت تک اس کام میں مصروف رہے ۔ان کی اہم کتابوں میں آیات الاحکام اور سیر حدیث در اسلام خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔

 

 


 

2 آبان سنہ 1357 ہجری شمسی کو ایران کے شہروں گرگان ، تہران ، قم ، تبریز ،کرمانشاہ اور ہمدان میں شاہ کی حکومت کے خلاف وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔تہران میں اسکولوں میں چھٹی کردی گئی ۔تہران یونیورسٹی میں اجتماع کرنے والے بہت سے طلبہ کو شاہی حکومت کے فوجیوں نے زخمی اور گرفتار کرلیا ۔گرگان شہرمیں ہونے والا احتجاجی مظاہرہ اسلامی تحریک کا اس وقت تک کا سب سے بڑا مظاہرہ تھا اس مظاہرے کے دوران لوگوں نے شہر میں خفیہ پولیس ساواک کے دفتر پر حملہ کیا ۔حوزہ علمیہ قم کے طلبہ اور اساتذہ نے بھی چھٹی کااعلان کرکے مظاہروں میں شرکت کی ۔اس کے علاوہ مختلف سرکاری اداروں اور زندگی کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھی ان مظاہروں میں شرکت کی اور اسلامی تحریک کی کامیابی کی طرف ایک اور قدم آگے بڑھایا۔