یکم ذیقعدہ
ایک روایت کے مطابق یکم ذیقعدہ کوہجرت سے تین سال 4 ماہ قبل رسول اکرم (ص) کے چچا حضرت ابوطالب (ع) کی وفات ہوئی ۔آپ نے حضور (ص) کے دادا حضرت عبدالمطّلب کی وفات کے بعد حضور (ص) کی سرپرستی کی ذمہ داری سنبھالی۔
حضرت ابوطالب بچپن سے ہی حضور (ص) کو بہت عزيز رکھتے تھے آپ کی بعثت کے بعد بھی آپ کے خلاف قریش کی خفیہ سازشوں اور علانیہ مخالفتوں کے زمانے میں وہ پیغمبر اکرم (ص) کے سب سے بڑے حامی و مددگار تھے ۔قریش میں حضرت ابوطالب کے اثر و رسوخ اور خاندانی وجاہت کی وجہ سے دشمن ، رسول اکرم (ص) کو ایذائیں پہنچانے کی ہمت نہیں کرتے تھے ۔شعب ابی طالب کے محاصرے اوراقتصادی ناکہ بندی کے دوران تین سال تک حضرت ابوطالب نے بڑی استقامت اور پائیداری کا مظاہرہ کیا ۔حضرت ابوطالب کی وفات کے کچھ ہی دنوں بعد رسول اکرم (ص) کی وفادار شریک حیات جناب خدیجۃ الکبریٰ کا بھی انتقال ہوگیا اس بنا پر پیغمبر اکرم (ص) نے اس سال کا نام عام الحزن یعنی سوگ کا سال رکھ دیا ۔
یکم ذیقعدہ 173 ہجری قمری کو اہل بیت رسول (ص) کی ایک عظیم ہستی امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی صاحبزادی حضرت فاطمہ معصومہ کی ولادت ہوئی ۔
حضرت فاطمہ معصومہ اپنے وقت کی زبردست عالمہ اور محدثہ ہونے کے ساتھ ہی ساتھ زہد وتقویٰ میں بھی نمونہ سمجھی جاتی تھیں مامون کے اصرار پر امام علی رضا علیہ السلام کے مدینہ سے طوس چلے آنے کے بعد حضرت معصومہ نے اپنے بھائي امام علی رضا علیہ السلام سے ملاقات کے لئے مدینہ سے خراسان کا سفر کیا لیکن راستے میں ہی بھائي کی شہادت کی خبر کے سبب بیمار پڑگئیں اور قم شہر میں آپ کی وفات ہوئی ۔قم میں آپ کا روضہ خاص و عام کی زیارت گاہ ہے اور آپ کے جوار میں دنیا کا سب سے بڑا حوزہ علمیہ ہے جو اسلام کے صحیح اور حقیقی افکار کی نشر و ترویج کا ایک بڑا مرکز ہے ۔
یکم ذی قعدہ 177 ہجری قمری کو صدر اسلام کے معروف محدث اور دانشور " سنان نخعی کوفی " کا انتقال ہوا ۔آپ سن 95 ہجری قمری میں شہر بخارا میں پیدا ہوئے تھے ۔آپ امیرالمومنین کے مشہور صحابی جناب مالک اشتر (رح) کی اولاد میں سے ہیں ۔
سنان کوفی کا اپنے زمانے کے عظیم فقہا میں شمار ہوتا تھا اور آپ شہر کوفہ کے قاضی بھی تھے ۔