9 ذی الحجہ

9 ذی الحجہ 60 ہجری قمری کو حضرت امام حسین (ع) کے سفیر حضرت مسلم ابن عقیل (ع) کوفہ میں شہید ہوئے ۔

حضرت مسلم ، حضرت امام حسین (ع) کے چچا زاد بھائي تھے ، آپ نہایت مدّبر اور صاحب فضل و تقویٰ تھے ، چنانچہ حضرت امام حسین (ع) نے آپ (ع) کو اپنا نمائندہ بنا کر کوفے بھیجا تا کہ اس شہر کے باشندوں کی وفاداری کا اندازہ لگا کر آپ (ع) کو حالات سے آگاہ کریں ۔کوفے کے باشندوں نے ہزاروں خطوط کے ذریعے حضرت امام حسین (ع) کو کوفہ تشریف لے جانے کی دعوت دی تھی تا کہ یزید ملعون کی ظالم حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں ۔

ابتدا میں کوفہ والوں نے حضرت مسلم (ع) کا پرتپاک استقبال کیا اور امام حسین (ع) کے ساتھ وفاداری کا اظہار کیا، لیکن بعد میں وہ ظالم و جابر والی کوفہ عبیداللہ بن زیاد کے خوف کی وجہ سے راہ حق سے بھٹک گئے اور اس کے جھوٹے وعدوں پر یقین کرتے ہوئے انہوں نے جہل و نادانی اور بزدلی کا مظاہرہ کیا اور حضرت مسلم ابن عقیل (ع) کو تنہا چھوڑدیا ۔

بالآخر حضرت مسلم (ع) ابن زیاد کے کارندوں کے ساتھ بہادرانہ انداز میں لڑتے ہوئے گرفتار ہوئے پھر مظلومانہ انداز میں شہید کردئے گئے ۔

 

 


 

9 ذی الحجہ سنہ 1365 ہجری قمری کو مسلمانوں کے عظیم مرجع اور عالم دین آیت اللہ العظمیٰ سید ابوالحسن اصفہانی کا انتقال ہوا ۔انہوں نے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد نجف اشرف کا رخ کیا اور وہاں کے ممتاز اساتذہ سے کسب فیض کرنے کے بعد درجۂ اجتہاد پر فائز ہوئے ۔آیت اللہ العظمیٰ اصفہانی اپنے وقت کے سیاسی حالات سے پوری طرح آگاہ تھے ۔انہوں نے عراق میں برطانوی سامراج کے خلاف جد وجہد میں بھی بھر پور حصہ لیا جس کے باعث عراقی حکومت نے انہیں جلاوطن کرکے ایران بھیج دیا ۔وہ اپنا وقت کبھی بھی ضائ‏ع نہیں کرتے تھے اور مطالعے میں مصروف رہتے تھے ۔انہوں نے بہت سے شاگردوں کی تربیت کی ۔آیت اللہ العظمیٰ سید ابوالحسن اصفہانی کی کتابوں میں وسیلۃ النجاۃ خاص طور سے قابل ذکر ہے ۔

 

 


 

 

9 ذی الحجہ سنہ 538 ہجری ق کو علم لغت اور حدیث کے ماہر اور مفسّر قرآن جاراللہ زمخشری کی وفات ہوئی ۔اس فقیہ اور ادیب نے لمبی مدت مکہ معظمّہ میں گزاری ۔اسی بنا پر انہیں جاراللہ یعنی خدا کا ہمسایہ کہا جاتا ہے ۔

اس زمانے کے علماء زمخشری کا بہت احترام کرتے تھے جو ان کی علمی عظمت کی دلیل ہے ۔انہوں نے بہت سی کتابیں چھوڑی ہیں جن میں تفسیر کشّاف اور مقدمۃ الادب خاص اہمیت کی حامل ہیں ۔