21 شوال

21 شوال سنہ 92 ہجری قمری کو مسلمان افواج نے طارق بن زیاد کی قیادت اور کمان میں اندلس کو فتح کیا۔طارق بن زیاد نے تقریبا" بارہ ہزار سپاہیوں کے ساتھ کشتیوں کے ذریعے مراکش اور اسپین کے درمیان سمندر پار کر کے اندلس پر حملہ کیا ۔طارق بن زیاد نے سمندر پار کرنے کے بعد کشتیوں کو جلانے کا حکم دیا تا کہ سپاہیوں کے دلوں میں واپس بھاگنے کا خیال نہ آئے ۔طارق بن زیاد کے اس اقدام کے بعد سپاہی بے جگری سے لڑے اور اسپین کو فتح کرلیا ۔مسلمانوں نے آٹھ صدیوں تک اندلس پر حکمرانی کی اور وہاں پر متعدد ثقافتی اور اقتصادی مراکز قائم کئے ۔یہ سرزمین ایک عرصے تک اسلامی تہذیب کا گہوارہ بنی رہی لیکن نویں صدی ہجری کے اواخر میں یورپی بادشاہوں نے اندلس میں مسلمانوں کی کمزوری اور غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں شکست دی اور اس طرح اندلس میں مسلمانوں کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔

 

 


 

21 شوال 354 ہجری قمری کو مشہور محدث فقیہ اور مورخ ابن حبان کا انتقال ہوا ۔انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے زمانے کے مشہور اساتذہ سے حاصل کی ۔اس کے بعد وہ نیشابور چلے گئے جو اس وقت علم و دانش کاایک اہم مرکز تھا ۔ابن حبان علم حدیث کے ماہر سمجھے جاتے تھے وہ کئی بار مختلف شہروں کے قاضي مقرر ہوئے ۔انہوں نے اپنا کتابخانہ دانشوروں کے استفادہ کے لئے وقف کردیاتھا لیکن ان کی زیادہ تر کتابیں ضائع ہوچکی ہیں ان کی باقی ماندہ کتابوں میں الثّقات ، روضۃ العقلاء و نزہۃ الفضلاء کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے ۔