یکم شعبان

یکم شعبان سنہ 531 ہجری قمری کو " آل خجند " کے ایک ممتاز خطیب اور اہم فقیہہ " محمّد بن ثابت " کا انتقال ہوا ۔انہوں نے فقہ کی تعلیم اپنے والد " ابوبکر خجندی " سے حاصل کی وہ اپنے دور کے فاضل علماء سے علم حدیث حاصل کرتے رہے ۔کچھ عرصے بعد بغداد کے مدرسۂ نظامیہ میں معلمی اختیار کرلی ۔قابل ذکر ہے کہ آل خجند کا عراق کے ایک علاقے خجند سے تعلق تھا اور ان کا خاندان فقہا و دانشوروں پر مشتمل تھا ۔ پانچویں صدی سے ساتویں صدی ہجری قمری تک اس خاندان کو لوگوں میں بہت شہرت حاصل تھی ۔

 

 

یکم شعبان سنہ 693 ھ ق کو ساتویں صدی ہجری قمری کے معروف فقیہ و ادیب غیاث الدین ابومظفر عبدالکریم بن احمد (رح) نے عراق کے شہر کاظمین میں وفات پائی ۔ وہ سنہ 648 ھ ق میں پیدا ہوئے اورابن طاؤس کے نام سے مشہور تھے ۔انہوں نے 11 سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کرلیا تھا ۔ قرآن حفظ کرنے کے بعد ادبی علوم میں دلچسپی لی اور اپنے دور کے دانشوروں جیسے خواجہ نصرالدین طوسی سے کسب فیض کیا ۔ان کی لکھی کتابیں اب بھی باقی ہیں جو عربی میں ہیں۔

 

 

یکم شعبان سنہ 1266 ہجری قمری کو جید عالم دین " شیخ محمّد حسن نجفی " کا جو صاحب جواہر کے لقب سے معروف ہوئے انتقال ہوا ۔ صاحب جواہر نے اپنے نظریات اورتحقیقات کو بہت سلیس اور دلکش انداز میں پیش کیا ہے ۔ کتاب " جواہر الکلام " اہمیت کے لحاظ سے بہت گراں بہا ہے اس میں تمام فقہی اور فروعی مسائل بڑے مدلّل اور گہرائی و گیرائی کے حامل ہیں ۔انہوں نے یہ کتاب 25 سال کی عمر میں لکھنی شروع کی اور یہ کتاب 5 سال میں مکمل ہوئی ۔