9 صفر

9 صفر سنہ 421 ھ ق کو عظیم مسلمان دانشور مورخ اور مفکر ابوعلی مسکویہ نے وفات پائی ۔ وہ تقریبا´سنہ 320 ھ ق میں ایران کے شہر ری میں پیدا ہوئے ۔ ابوعلی اپنے دور کے تمام رائج علوم کے استاد تھے ۔انہوں نے علم طب ، کیمیا ،تاريخ اور فلسفے میں وسیع تحقیقات انجام دیں ۔ابن مسکویہ کو ارسطو اور فارابی کے بعد معلم ثالث کا لقب دیا گيا ۔ ان کی بہترین کتب میں تہذيب الاخلاق کا نام خاص طور سے قابل ذکر ہے جو عربی زبان میں لکھی گئی ہے ۔ خواجہ نصیرالدین طوسی نے اس کا فارسی میں ترجمہ کیا ہے ، ان کی کتاب تجارب الامم بھی قابل ذکر ہے جو سنہ 372 ھ ق کے اہم واقعات پر مشتمل ہے ۔

 

9 صفر المظفر سنہ 37 ھ ق کو رسول اکرم (ص) کے صحابی اورامیرالمومنین حضرت علی (ع) کے باوفا ساتھی حضرت عمّار یاسر (رض) جنگ صفین میں حضرت علی (ع) کی طرف سے لڑتے ہوئے درجۂ شہادت پر فائز ہوئے ۔ جنگ صفین امیر شام معاویہ نے حضرت علی (ع) سے بیعت کے انکار کے بعد شروع کی تھی ۔ حضرت عمار یاسر ہجرت سے 57 سال قبل پیدا ہوئے تھے ۔آپ کے والد حضرت یاسر (رض) اور والدہ سمیہ (رض) اسلام کے پہلے شہید ہیں ۔ آپ نے رسول اکرم (ص) کے دور میں کفار کے خلاف کئی جنگوں میں حصہ لیا اور اپنی بے پناہ بہادری کی وجہ سے رسول اکرم (ص) کی خاص توجہ کا مرکز بنے ۔ رسول اکرم (ص) نے حضرت عمار کو مخاطب کرکے فرمایا :اے عمار میرے بعد ایک فتنہ برپا ہوگا ۔ جب بھی ایسا ہو تم علی اور ان کی جماعت کی پیروی کرنا کیونکہ حق علی کے ساتھ اور علی حق کے ساتھ ہے ۔اے عمار تم علی کی معیت میں دوگروہوں کے خلاف لڑوگے ۔ بیعت توڑنے والے اور ظالم و ستمکار ۔اس کے بعد ایک باغی گروہ تمہیں قتل کردے گا ۔