2 صفر

2 صفر سنہ 121 ھ ق کو حضرت امام زين العابدین (ع) کے فرزند حضرت زید (ع) شہید ہوئے ۔انہوں نے بنی امیہ کے ظلم وستم کا مقابلہ کرنے اور انقلاب امام حسین (ع) کے ثمرات کے تحفظ کے لئے بنی امیہ کی حکومت کے خلاف تحریک چلائی اورایک دلیرانہ جنگ کے بعد شہر کوفہ میں شہید ہوئے ۔قابل ذکر ہے کہ سنہ 61 ھ ق کے واقعۂ کربلا کے بعد مسلمانوں میں حق پسندی کا جذبہ بیدار ہوا ۔وہ بنی امیّہ کی ظالم اور فاسق و فاجر حکومت کے خلاف جد و جہد کے لئے بے تاب رہتے تھے اور جہاں انہیں کوئی رہبر ملتا تھا حکومت کے خلاف تحریک شروع کردیتے تھے ۔چنانچہ اس جانگداز واقعے کے بعد متعدد انقلابی تحریکیں سامنے آئیں جن میں صرد خزاعی کی قیادت میں توابین کی تحریک اور امیر مختار کی قیادت میں خون حسین (ع) کے انتقام کی تحریک کا نام لیا جا سکتا ہے ۔ان تمام انقلابی تحریکوں کا مقصد بنی امیہ کی ظالم حکومت کا خاتمہ کرنا تھا ۔

 

2 صفر سنہ 745ھ ق کو مسلمان شاعر اور ادیب ابوحیان غرناطی کا مصر میں انتقال ہوا ۔وہ سنہ 654 ھ ق کو اندلس میں پیدا ہوئے تھے ۔انہوں نے تعلیم حاصل کرنےکے لئے بہت سے شہروں کا سفر کیا اورمتعدد اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمّذ طے کیا ۔ وہ سنہ 679 ھ ق میں مصر گئے اورعمر کے آخری حصّے تک وہیں درس و تدریس اور تالیف و تصنیف میں مصروف رہے۔ان کو قرآنی علوم ، حدیث اورفقہ میں بہت مہارت حاصل تھی البتہ ان کو اصل شہرت علم نحو میں مہارت کی بنا پر ملی ۔ علم نحو میں وہ سیبویہ سے بہت متاثر تھے ۔ ابوحیان کی کتابوں سے پتہ چلتا ہےکہ انہیں فارسی ،ترکی اور افریقہ کی علاقائی زبانوں سے بھی آگاہی حاصل تھی ۔ وہ اپنی عمر کےآخری حصّے میں نابینا ہوگئے تھے ۔ان کی کتابوں میں تذکرۃُ النّجاۃ اور دیوان شعر خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

 

2 صفر سنہ 762 ھ ق کو مسلمان منجم اورریاضي دان ابن دریہم نے وفات پائی ۔انہوں نے علم و دانش کے حصول میں بہت محنت کی ۔ابن دریہم نے قرآن کریم کی قرائت ، فقہ اور ریاضي کے علوم اپنے زمانے کے عظیم اساتذہ سے حاصل کئے ۔انہوں نے مصر میں حدیث کا علم حاصل کیا ۔ کچھ عرصے کے بعد وہ شام چلے گئے ۔ وہاں انہوں نے تدریس کا آغاز کردیا ۔انہوں نے متعدد کتابیں بھی تحریر کیں ان میں سے صرف چند قلمی نسخے ہی موجود ہیں۔ان قلمی نسخوں میں قصیدہ ”فی مدح الرسول“ بھی شامل  ہے ۔