یکم صفر
یکم صفر سنہ 37 ہجری قمری کو عراق میں دریائے فرات کے کنارے صفّین کے مقام پر امیرالمؤمنین حضرت علی (ع) اور امیر شام معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان لڑی جانے والی جنگ آخری مرحلے میں داخل ہوئی ۔جب معاویہ نے دیکھا کہ شامی فوج شکست کی دہلیز پر پہنچی ہے انہوں نے عمروبن عاص کے مشورے سے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ قرآن مجید کے نسخوں کو نیزوں پرچڑھائیں تاکہ لوگوں کو دھوکہ دے کر جنگ سے روک سکیں ، حضرت علی (ع) نے اپنی فوج کو اس چال سے آگاہ کیا لیکن اس کے باوجود سپاہیوں کے ایک گروہ نے دشمن کے دھوکے میں آکر لڑنے سے انکار کردیا ۔اس گروہ کو خوارج کہتے ہیں۔چنانچہ خوارج کے دباؤ اور حالات کے تناظر میں جنگ کا فیصلہ کرنے کے لئے دونوں طرف سے ایک ایک حکم یا منصف مقرّر کیا گيا واضح رہے کہ امیر شام معاویہ نےحضرت علی (ع) سے بیعت کرنے سے انکار کیا اور حضرت عثمان کےخون کا انتقام لینے کے بہانے حضرت علی (ع) سے جنگ کا آغاز کیا تھا۔
یکم صفر 61 ہجری کو خانوادۂ رسول (ص) کے اسرا کا قافلہ یزيدی حکومت کے مرکز دمشق میں داخل ہوا۔ لشکر کوفہ و شام کربلامیں حضرت امام حسین (ع) اور آپ (ع) کے اصحاب و انصار کو شہید کرنے کے بعد امام زين العابدین (ع) سمیت خاندان رسالت کی خواتین اور بچوں کو اسیر کرکے پہلے کوفہ بعد میں شام لے گیا ۔شام میں خاص طورپر دربار یزید میں حضرت امام زين العابدین (ع) اورحضرت زینب کبری (ع) نے یزيدی حکومت کے جرائم کو بے نقاب کیا اور کربلا میں انقلاب حسینی کے پیغام کو بیان کرتے ہوئے لوگوں کو حقائق سے آگاہ کیا ۔ شام کے باشندوں کو جب یزید ستمگر کے مظالم کا علم ہوا ،تو ان میں سخت بے چینی پیدا ہوئی ،یہاں تک کہ یزيد کوان مظالم سے دامن تہی کرکے والی کوفہ عبیداللہ بن زیاد کومورد الزام ٹھہرانا پڑا اسی طرح حالات سے مجبور ہوکر یزید نے کچھ عرصہ اہل بیت (ع) کے اسیروں کو قید میں رکھنے کے بعد مدینۂ منوّرہ واپس کردیا ۔