یکم رجب
سامعین رجب المرّجب اوراس کے بعد کے دومہینے شعبان المعظّم اور رمضان المبارک انسان کی روحانی تربیت و تعمیر ذات اور خداوند عالم سے قرب حاصل کرنے کے لحاظ سے بہت اہم شمار ہوئے ہیں ۔ماہ رجب کے بارے میں حضور اکرم (ص) نے فرمایا ہے : " ماہ رجب ، خدا کا بڑا مہینہ ہے اور حرمت و فضيلت میں کوئی اور ماہ اس کے پائے تک نہیں پنچتا ،اس مہینے میں کفّار کے ساتھ جنگ حرام ہے ۔رجب خدا کا مہینہ ہے ،شعبان میرا مہینہ اور رمضان میری امّت کا مہینہ ہے ۔" ماہ رجب میں روزہ رکھنے کا بہت زيادہ ثواب ہے ،احادیث و روایات میں تاکید کی گئی ہے کہ رجب المرجب میں روزہ رکھیں اور خداوند عالم سے مغفرت طلب کریں ۔27 رجب مبعث رسول اکرم (ص) کا با سعادت دن ہے جب کہ 13 رجب کو حضرت علی (ع) کی ولادت ہوئی ۔سامعین امید ہے آپ بھی اس بابرکت مہینے کے فیض و ثواب سے زیادہ سے زيادہ مستفیض ہوں گے ۔
یکم رجب سنہ 57 ھ ق کو ایک روایت کے مطابق فرزند رسول (ص) حضرت امام محمد باقر (ع) کی ولادت باسعادت ہوئی ۔آپ (ع) کو باقر کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔باقر کا مطلب ہے علوم کے اسرار و رموز کو شگافتہ کرنے والا اور آپ کو باقر اس لئے کہتے ہیں کہ آپ نے اپنے زمانے کے مشکل اور پیچیدہ علوم کی گتھیوں کو سلجھایا ۔حضرت امام باقر (ع) ہمیشہ انتہائی توجہ اور ظرافت کے ساتھ اپنے دور کے علوم کا تجزیہ و تحلیل کرتے تھے ۔حضرت امام محمد باقر (ع) کی امامت کے زمانے میں سنہ 96 ھ ق سے کہ جو بنی امیہ کی حکومت کے زوال کا زمانہ تھا ۔آپ کو مسلمانوں کی فکری اور ثقافتی بنیادوں کو مستحکم کرنے کا موقع ملا ۔آپ (ع) اور آپ کے فرزند حضرت امام جعفر صادق (ع) کے دور میں بہت سے علوم کو ترقی ملی ۔حضرت امام محمد باقر (ع) اعلیٰ اخلاق کا نمونہ تھے ۔آپ ہمیشہ نیکی ، سخاوت ، غربا کی امداد اور بیمار افراد کی عیادت کی تاکید فرماتے تھے ۔آپ (ع) کے عظیم فرامین اور اخلاقی پند و نصیحت آپ کی عملی زندگي میں جلوہ گر تھے ۔آپ جو بات دوسروں سے کہتے سب سے پہلے خود اس پر عمل کرتے تھے ۔
یکم رجب سنہ 1099 ھ ق کو معروف ایرانی فلسفی اور فقیہ حسین بن محمد نے وفات پائی ۔وہ محقق خوانساری کے نام سے زیادہ مشہور ہیں ۔محقق خوانساری کا شمار دینی علوم کے ممتاز اساتذہ میں ہوتا تھا ۔انہوں نے بہت سے شاگرد پروان چڑھائے ۔محقق خوانساری نے قرآن کریم کا فارسی میں ترجمہ کیاہے اورمعتبر اسلامی کتابوں کی شرحیں بھی تحریر کی ہیں ۔