9 ربیع الثانی
1210 سال قبل 9 ربیع الثانی سنہ 216 ھ ق کو شیخ ابوالبقا عبداللہ بن حسین بغدادی نے وفات پائی ۔وہ عُکبری کے نام سے معروف تھے ۔انہیں تفسیر ،ادب اور فقہ پر مکمل عبور تھا اور دوسرے دینی علوم کی بھی معلومات رکھتے تھے عُکبری نے چیچک کی بیماری کے باعث بینائی سے محرومی کے باوجود متعدد کتابیں تحریر کیں ،جن میں " التبیان فی اعراب القرآن " اور ترکیب ابوالبقا کا نام قابل ذکر ہے ۔
9 ربیع الثانی سنہ 610 ھ ق کو مسلمان طبیب اور دوائیوں کے ماہر نجیب الدین ابو حامد علی بن عمر سمرقندی ہرات پر منگولوں کے حملے کے دوران ہلاک ہوئے ۔وہ بہت حاذق طبیب تھے اور دوائیوں کے سلسلے میں انہوں نے وسیع تحقیقات انجام دیں اور متعدد کتابیں تحریر کیں ۔ان کی اہم ترین کتاب " الاسباب و العلامات " ہے ۔اس کتاب میں بیماریوں کی وجہ اوران کی علامتوں پر بحث کی گئی ہے ۔سمرقندی کی ایک اور گرانقدر کتاب ہے جس کا نام " الاسباب " ہے ۔
9 ربیع الثانی سنہ 1304 ھ ق کو معروف عالم دین اور فقیہ آیت اللہ حاج میرزا عبدالرحیم نہاوندی (رح) نے وفات پائی ۔وہ فقہ اوراصول فقہ میں بے انتہا مہارت رکھتے تھے ۔اسی وجہ سے ایران اورعراق کے زیادہ تر علما و فضلا ان کے علم سے بہرہ مند ہوتے تھے۔ نہاوندی (رح) جوانی میں اپنے آبائی شہر نہاوند سے عراق کے شہر نجف اشرف چلے گئے ،جہاں بڑے بڑے اساتذہ خصوصا´شیخ اعظم مرتضیٰ انصاری (رح) سے کسب فیض کیا اور فقہ اوراصول فقہ میں تیس سال کی تحقیق و تعلیم کے بعد بہت سے شاگردوں کو تعلیم دی اور ان سب نے بلند واعلیٰ مقام حاصل کیا ۔