19 ربیع الثانی

1023 سال قبل 19 ربیع الثانی سنہ 403 ھ ق کو محدث ، فقیہ اور دانشور علی بن خلف قیروانی قابسی نے وفات پائي ۔وہ تیونس کے علاقے قیروان کے رہنے والے تھے اور سنہ 324 ھ ق میں پیدا ہوئے تھے ۔علی بن خلف قیروانی قابسی کو فقہ اور اصول فقہ کے بارے میں بہت علم تھا ۔وہ جوانی میں بینائی سے محروم ہوگئے تھے لیکن اس کے باوجود وہ بے شمار حدیثوں کے حافظ تھے ان کی کتابوں میں فقہ سے متعلق " الممہد " کتاب قابل ذکر ہے ۔

 

 

763 سال قبل 19 ربیع الثانی سنہ 663 ھ ق کو معروف ایرانی منجم ، فلسفی اور ریاضي داں اثیر الدین ابہری (رح) کا انتقال ہوا ۔وہ معروف مسلمان حکما اور علما جیسے فخر رازی (رح) اور کمال الدین ابن یونس (رح) کے شاگردوں میں سے تھے ۔ابہری (رح) نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں گزارا ۔ایک صاحب نظر ہونے کی وجہ سے انہیں منطق ، ریاضي اور نجوم کے حوالے سے بڑی اہمیت حاصل تھی ۔ابہری (رح) نے بہت سی بہترین کتب یادگار کے طور پر چھوڑی ہیں جن میں "اصلاح اصول اقلیدس " اور " ہدایت الحکمہ " کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے ۔

 

246 سال قبل 19 ربیع الثانی سنہ 1180 ھ ق کو آيت اللہ حاج محمد ابراہیم خراسانی (رح) ایران کے شہر اصفہان میں پیدا ہوئے ۔ان کا شمار اصفہان کے مشہور فاضل علما میں ہوتا ہے ۔آيت اللہ ابراہیم خراسانی (رح) کرباسی کے نام سے معروف تھے ۔انہوں نے اپنی تعلیم کا آغاز اصفہان سے ہی کیا اور عراق کی مشہور دینی درسگاہ حوزہ علمیۂ نجف اشرف میں اپنی تعلیم کو مکمل کیا ۔آيت اللہ کرباسی (رح) اپنے شہر واپس آکر درس و تدریس میں مشغول ہوگئے اور ساتھ ہی تصنیف و تالیف کا سلسلہ بھی جاری رکھا ۔وہ ایک متقی اور پرہیز گار شخص تھے ۔ انہوں نے بیش بہا کتابیں اور تحقیقی مقالے یادگار کے طور پر چھوڑے ہیں جن میں اشارات الاصول اور مناسک حج کا نام قابل ذکر ہے ۔آيت اللہ کرباسی (رح) نے سنہ 1261 ھ ق میں اصفہان میں وفات پائی ۔