8 ربیع الاول
8 ربیع الاول سنہ 984 ھ ق کو بزرگ عالم دین عزالدین حسینی نے بحرین میں وفات پائی ۔اس بلند مرتبہ دانشور نے سنہ 918 ھ ق میں جنوبی لبنان کے ایک شہر جبل عامل میں ایک مذہبی گھرانے میں آنکھ کھولی اور بچپن سے ہی دینی تعلیم حاصل کرنی شروع کی ۔عزالدین حسینی اس کے بعد اپنے فرزند شیخ بہائی کے ہمراہ ایران آگئے اور ایران کے شمال مشرقی شہر خراسان میں رہائش اختیار کرلی ۔ انہوں نے اس شہر میں 8 سال تک اپنی رہائش کے دوران مسلسل لوگوں کو وعظ و نصیحت کی اور درس و تدریس میں مصروف رہے ۔چونکہ نماز جمعہ کو واجب عینی جانتے تھے لہذا ہر ہفتے مسلمان نماز جمعہ کے موقع پر ان کی شخصیت سے فیضیاب ہوتے تھے ۔شیخ عزالدین کی تالیفات میں تحفۂ اہل ایمان ، علامہ مجلسی کی ارشاد قلوب پر حاشیہ اور ان کے دیوان کا خاص طور پر ذکر کیا جا سکتا ہے ۔
8 ربیع الاول سنہ 260 ھ ق کو عراق کے شہر سامرہ میں فرزند رسول حضرت امام حسن عسکری (ع) کو شہید کیا گيا ۔ آپ سنہ 232 ھ ق میں مدینے میں پیدا ہوئے تھے ۔آپ کے والد بزرگوار حضرت امام علی نقی (ع) تمام اعلیٰ انسانی فضائل و کمالات سے آراستہ تھے اور آپ کی والدۂ ماجدہ بھی با فضيلت اور دانشور خاتون تھیں ۔اپنے والد کی شہادت کے بعد حضرت امام عسکری (ع) نے امت مسلمہ کی امامت و ہدایت کی ذمہ داری سنبھالی ۔آپ کا دور امامت حضرت امام مہدی (عج) کی ولادت کے باعث نہایت حساس اور مشکل دور تھا کیونکہ عباسی حکومت کے کارندے اس بات پر مامور تھے کہ امام عسکری (ع) کے یہاں لڑکے کی ولادت ہوتو اس کو قتل کردیں مگر خدا کے کرم سے حضرت امام مہدی (عج) کی ولادت ہوئی اور اپنے والد کی شہادت کے بعد لوگوں کی نظروں سے غائب ہوگئے ۔ جب حکم خدا ہوگا تو ظہور فرمائیں گے اور ظلم و جور سے بھری دنیا کو عدل و انصاف سے بھردیں گے ۔فرزند رسول حضرت امام حسن عسکری (ع) نے مسلمانوں کی ہدایت اور اسلامی احکام سے انہیں آگاہ کرنے میں انتہائی موثر قدم اٹھائے ۔ سرانجام عباسی حکومت نے آپ (ص) کو زہر دے کر شہید کردیا ۔