7 ربیع الاول
7 ربیع الاول سنہ 242 ھ ق کو چوتھی صدی ہجری کے مشہور عالم ، شاعر اورادیب علی بن محمد تنوخی نے 64 سال کی عمر میں جنوبی عراق کے شہر بصرے میں وفات پائی ۔ وہ موجودہ ترکی کے مشرق میں واقع انطاکیہ میں پیدا ہوئے تھے ۔نوجوانی کے دور میں وہ بغداد چلےگئے اور وہیں سکونت اختیار کرلی ۔نحو ،لغت ، ریاضي کے علاوہ ادبی علوم میں بھی تنوخی کا شمار اس وقت کی معروف شخصیات میں ہوتا تھا ۔وہ فقہ ،اصول فقہ اور حدیث کے میدان میں بھی نابغۂ عصر سمجھے جاتے تھے ۔ تنوخی اس زمانے کے تمام مروجہ علوم حاصل کرکے بصرہ لوٹ آئے اور قضاوت کے کام میں مشغول ہوگئے ۔اس بنا پر انہوں نے قاضی تنوخی کے نام سےشہرت پائی ۔وہ بہترین خطیب بھی تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے عراق کے بڑے علما کےدرمیان بہترین خطیب کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔ تنوخی نے ایک دیوان کے علاوہ کئی کتابیں یادگار کے طور پرچھوڑی ہیں اور ان میں ”کتاب العروض“ کا نام قابل ذکر ہے ۔