26 ربیع الاول

26 ربیع الاول سنہ 344 ھ ق کو عالم اسلام کے ایک بہت بڑے محدث ”ابن سماک “نے بغداد میں وفات پائی ۔ان کی تاریخ ولادت اورجائے پیدائش کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کی زندگی کی تفصیلات کے بارے میں معلومات ہیں ۔صرف یہی یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ وہ بغداد میں رہتے تھے ۔انہوں نے متعدد جید علماء سے علم حاصل کیا اور انہوں نے متعدد شاگردوں کو تعلیم دی جو بعد میں صف اول کے علماء میں شمار ہوئے ان میں سے ایک حاکم نیشابوری تھے ۔ابن سماک کی کتابوں میں "الامالی " خاص طور پر قابل ذکر ہے ۔انہوں نے اہل بیت (ع) کی شان میں بھی کتابیں تحریر کی ہیں ۔

 

 

 

26 ربیع الاول سنہ 1330 ھ ق کو مسلمان عالم اور دانشور آیت اللہ ابوالمکارم زنجانی (رح) نے وفات پائی ۔وہ سنہ 1255 ھ ق میں ایران کے شمال مغربی شہر زنجان میں پیدا ہوئے تھے اور ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لئے عراق کے شہر نجف اشرف میں واقع اعلیٰ دینی درسگاہ چلے گئے جہاں معروف اساتذہ جیسے شیخ مرتضیٰ انصاری (رح) سے کسب فیض کیا ۔آیت اللہ ابوالمکارم (رح) نے اپنے والد کی وفات کے بعد زنجان کے لوگوں کے لئے مرجعیت امور دینی و شرعی کے فرائض انجام دیئے اور آئینی تحریک کے دوران دوسرے علما کے ساتھ آمر حکمرانوں سے نبرد آزما رہے ۔ان کی مشہور کتابوں میں مخارج الرّضوان اور مفتاح الظفر قابل ذکرہیں ۔