2 ربیع الاول
دو ربیع الاول 630 ہجری قمری کو عالم اسلام کے عظیم محدث ادیب اور مورخ ابن اثیر جزری نے شہر موصل میں وفات پائی ان کا لقب عزّالدین تھا ۔وہ 555 ہجری قمری میں موجودہ عراق کی مشہور ندی دجلہ کے اطراف میں واقع ایک آبادی میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے اپنی عمر کا ابتدائی حصہ موصل بغداد اور شام میں گزارا ۔ابن اثیر نے اس کے دوران مختلف دینی علوم حاصل کئے اور زيادہ دیر نہیں گزری تھی کہ وہ علم لغت میں اپنے زمانے کے اساتذہ میں شمار ہونے لگے ۔ انہوں نے اس کے بعد خطیب موسیٰ جیسے اپنے زمانے کے ممتاز اساتذہ سے فقہ و حدیث کی تعلیم حاصل کی ۔مشہور مسلمان مورخ ابن خلّکان نے 626 ہجری قمری میں حلب شہر میں ابن اثیرسے ملاقات کی اور ان کی انتہائی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے : ابن اثیر حدیث کے حافظ تھے اور اس کے علاوہ مختلف واقعات کی تاریخ بھی انہیں یاد تھی نیز عربوں کے نسب پر بھی انہیں عبور حاصل تھا ۔ابن اثیر کی مشہور ترین کتاب الکامل فی التاریخ ہے جو تاریخ کامل کے نام سے مشہور ہے ابن اثیر کی ایک اور مشہور کتاب ”اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ“ ہے جو چھ جلدوں پر مشتمل ہے ۔
2 ربیع الاول سن 1260 ھ کو تیرھویں صدی ہجری کے عظیم فقیہ اور اہل قلم آیت اللہ سید محمد باقر شفتی نے وفات پائی وہ سن 1180 ہجری کو ایران کے ایک دیہات میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد 20 برس کی عمر میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے عراق کے شہر نجف چلے گئے ۔آیت اللہ سید محمد باقر نے آیت اللہ سید محمد مہدی ”بحرالعلوم “ کی مانند اپنے دورکے نامور علما کے درس خارج میں شرکت کی پھر ایران واپس آگئے اورقم میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا کچھ عرصے بعد انہوں نےاصفہان میں رہائش اختیار کرلی ۔آیت اللہ سید محمد باقر کی اپنی ایک اہم لائبریری بھی تھی جس میں بے نظیر قلمی نسخے موجود تھے کہاجاتا ہے کہ انہوں نے خود اپنے خرچ سے ایک مسجد بھی بنوائی تھی جو صفوی دور کے بعد اصفہان میں بنائی جانے والی بہترین مسجد سمجھی جاتی ہے اور ان کی رحلت کے بعد انہیں اسی مسجد میں دفن کیا گيا ۔