18 ربیع الاول
18 ربیع الاول سنہ 1 ھ ق کو مسجد الحرام کے بعد دنیا کی سب سے اہم مسجد ، مسجد نبوی کی تعمیر کا مدینے میں آغاز ہوا ۔ حضور اکرم (ص) نے مدینے ہجرت کے فورا´ بعد اس مسجد کی تعمیر کا حکم دیا اور خود بھی اس کی تعمیر میں بھر پور شرکت کی ۔مسجد کی دیواریں پتھر اور اینٹوں سے جبکہ چھت درخت کی لکڑیوں سے بنائی گئی تھی ۔مسجد سے ملحق کمرے بھی بنائے گئے تھے جو آنحضرت (ص) اور ان کے اہل بیت (ع) اور بعض اصحاب کے لئے مخصوص تھے ۔ رسول اکرم (ص) نے مسجد نبوی کو صرف عبادت کی جگہ قرار نہیں دیا تھا بلکہ اس سے لوگوں کی سماجی ، سیاسی ، علمی اور زندگی کے دیگر امور سے متعلق مسائل کے حل کے لئے بھی استفادہ کرتے تھے ۔اسی لئے یہ مسجد مسلمانوں کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔برسوں سے لاکھوں مسلمان مسجد نبوی اوراس کے احاطے میں واقع روضۂ نبوی کی زیارت کے لئے نہایت عقیدت و احترام اور ذوق و شوق کے ساتھ مدینے جاتے ہیں ۔مسجد نبوی کی مختلف ادوار میں تعمیر نو اور توسیع ہوئی ہے ۔
18 ربیع الاول سنہ 1268 ھ ق کو ایران کے ایک مشہورترین اور قابل ترین سیاست داں میرزا تقی خاں فراہانی کا قتل ہوا۔وہ امیرکبیر کے نام سے مشہور تھے ۔وہ ایران کے ایک دیہی علاقے کے رہنے والے تھے ۔ابتدا میں انہوں نے اپنے والد کے ہمراہ محمد شاہ کے زمانے میں وزير اعظم کے دربار میں جگہ بنائي اور چونکہ شروع سے ہی ان میں قابلیت اور ذہانت کے آثار نمایاں تھے لہذا جونیئر وزير اعظم کے سیکریٹری کے عہدے کے لئے منتخب ہوگئے ۔میرزا تقی خاں سنہ 1264 ھ ق میں ناصرالدین شاہ کے اقتدار میں آنے کے ساتھ امیر کبیر ، اور اتابک اعظم کے القاب کے ساتھ ایران کے وزير اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے ۔انہوں نے مختصر مدت میں حکومت کے منتشر شدہ دربار کو منظم کیااور اپنی وزارت عظمیٰ کے 3 سال اور 3 ماہ کی مدت میں اہم سیاسی اور سماجی اصلاحات کیں ۔شکستہ حال نظام کو درست کیا ۔بحریہ کی بنیاد ڈالی ، مختلف القاب و خطابات اور قاجار دربار میں ناروا روایات کو ختم کیا ۔سب سے بڑھ کریہ کہ ایران کے داخلی امور میں اغیار کی بے جا مداخلت کو کم کیا۔مدرسہ دارالفنوں کا قیام اور روزنامہ "وقائع اتفاقیہ" کی اشاعت امیر کبیر کے دیگر اہم معاشرتی اور ثقافتی اقدامات میں سے تھے ۔