17 ربیع الاول
ہجرت سے 53 سال پہلے 17 ربیع الاول کو اکثر مسلمان علما کے مطابق حضرت محمّد مصطفیٰ (ص) اس دنیا میں تشریف لائے ۔آپ کے والد کا نام عبداللہ تھا جن کا تعلق خاندان بنی ہاشم سے تھا اور آپ (ص) کی والدہ کا نام حضرت آمنہ تھا ۔آپ کی ولادت سے پہلے ہی آپ کے والد کی وفات ہوچکی تھی ۔لہذا آپ کی سرپرستی کی ذمہ داری آپ کے جد امجد حضرت عبدالمطلب نے اپنے ذمے لے لی لیکن دوسال کے بعد حضرت عبدالمطلب کا بھی انتقال ہوگیا ۔ اس طرح حضرت محمّد مصطفیٰ (ص) 8 سال کی عمر میں اپنے چچا حضرت ابوطالب (ع) کے زیر سایہ تربیت پانے لگے ۔آپ نے 12 برس کی عمر سے اپنے چچا کے ہمراہ تجارتی سفر کا آغاز کیا اور بہت زیادہ سچائی اور قابل اعتماد ہونے کی وجہ سے آپ امین کے لقب سے یاد کئے جانے لگے ۔حضور اکرم (ص) جوانی سے ہی عرب کی جاہلیت سے بیزار تھے اور معاشرے سے برائیوں کے خاتمے اور اعلیٰ انسانی اقدار کی بالادستی چاہتے تھے ۔اسی لئے آپ (ص) اکثر اوقات مکّے کے نزدیک غار حرا میں جاکر عبادت میں مشغول رہتے تھے ۔جب حضوراکرم (ص) 40 برس کے ہوگئے تو خداوند عالم کے حکم سے آپ نے اپنی نبوت کا اعلان کیا ۔بعثت کے بعد مکّے میں آپ (ص) سختیوں اور مشکلات سے دوچار ہوئے ، کفار قریش آپ (ص) اور آپ (ص) پر ایمان لانے والوں کو ستاتے تھے لیکن آپ نے نہایت ثابت قدمی اور صبر و حوصلے سے تبلیغ اسلام کا عمل جاری رکھا ۔اس دوران اسلام مکے سے باہر پھیل گیا اور آپ (ص) نے مدینے کی طرف ہجرت کی ۔ مدینے میں حضور اکرم (ص) نے پہلی اسلامی حکومت قائم کی ۔
17 ربیع الاول سنہ 83 ھ ق کو فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق (ع) مدینے میں پیدا ہوئے ۔حضرت امام جعفر صادق (ع) نے اپنی زندگي کے 12 برس اپنے جد امجد حضرت امام سجاد (ع) کے ساتھ اور 19 سال اپنے والد گرامی حضرت امام محمد باقر (ع) کے ساتھ گزارے ۔آپ (ع) نے سنہ 148 ھ ق میں شہادت پائی ۔آپ کا دور ،علم و دانش کی ترقی اور پیشرفت کا دور تھا ،جس میں تفسیر قرآن اور دوسرے مختلف علوم میں بہت زیادہ کام ہوا ۔اس اعتبار سے حضرت امام جعفر صادق (ع) کے لئے ایک بہت اچھا موقع تھا کہ لوگوں کو اسلامی تعلیمات اور دینی حقائق سے آگاہ کریں جس کے لئے آپ (ع) نے مدینہ منورہ میں پہلی عظیم اسلامی درسگاہ کی بنیاد رکھی ۔ امام صادق (ع) کو اسلامی معارف کے ساتھ ساتھ طب ، کیمیا ،الجبرا اور دیگر علوم و فنون میں بھی مکمل مہارت حاصل تھی ۔ہر شعبے کے علم دوست افراد آپ کی خدمت میں آئے اور کسب فیض کرتے تھے ۔آپ ہر شخص کی قابلیت اور صلاحیت کے مطابق اس کے سوالوں کے جواب دیتے تھے ۔آپ نے 4 ہزار شاگردوں کی تربیت کی ۔ ان میں بابائے کیمیا جابربن حیان جیسے دانشور بھی شامل ہیں۔