14 ربیع الاول
14 ربیع الاول سنہ 64 ھ ق کو یزید بن معاویہ واصل جہنم ہوا ۔ یزید ایک فاسق و فاجر اور ظالم حکمراں تھا ۔اس نے اپنی عمر کے 37 ویں سال سے تین سال اور 9 ماہ تک حکومت کی ۔یزید نے اپنے دور حکومت میں نہایت ظالمانہ کام کئے جن میں نواسۂ رسول حضرت امام حسین (ع) اور آپ کے وفادار ساتھیوں کا قتل ، مدینۂ منورہ پر وحشیانہ حملہ ، مکّے پر حملہ اور خانۂ خدا کے انہدام کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے ۔یزید عیش و عشرت میں مصروف رہتا اور اسلامی قوانین کا بر سر عام مذاق اڑاتا تھا ۔اس نے خاندان رسول (ص) پرجو ظلم و ستم ڈھائے ان کے باعث مسلمانوں کے درمیان اس کی شخصیت قابل نفرت قرار پائی ۔سنہ 61 ھ ق میں کربلا میں حضرت امام حسین (ع) کی شہادت کے بعد یزید کی فاجر و فاسق حکومت کی قلعی کھل گئی جس سے اہل بیت علیہم السلام کی جد و جہد اس کی حکومت کے خلاف اپنے عروج کو پہنچ گئي ۔
14 ربیع الاول سنہ 325 ھ ق کو معروف ایرانی ادیب اور عربی لغت کے ماہر ابوالحسن احمد بن فارس قزوین شہر کے قریب پیدا ہوئے ۔انہوں نے تعلیم کا آغاز اپنے والد کے پاس کیا ۔ان کو دینی علوم کے حصول کا بہت زیادہ شوق تھااسی وجہ سے انہوں نے ایران اور عراق کے مختلف شہروں کا سفراختیار کیا ۔یہاں تک کہ ان کو فقہ ، حدیث ، نحو ،شاعری اور ادب میں بہت شہرت حاصل ہوئی ۔ابن فارس نے بہت سے شاگردوں کوعلم سے آراستہ کیا ۔ان کے متعدد شاگرد بعد میں ممتاز علماء کی صف میں شامل ہوئے ۔ابن فارس کو متعدد دینی علوم پر عبور حاصل تھا لیکن ان کو زیادہ شہرت ادب اور لغت میں مہارت کی بناء پر حاصل ہوئی۔ سنہ 395 ھ ق میں ری میں ان کا انتقال ہوگیا ۔
14 ربیع الاول سنہ 1019 ھ ق کو محمّد بن حکیم جن کو چینی چانگ جی مای ، کے نام سے جانتے ہیں ، ایران کے شہر اصفہان میں پیدا ہوئے ۔ان کے اجداد کا تعلق سمرقند سے تھا ۔وہ 9 سال کی عمر میں اپنے چچا کے ساتھ چین چلے گئے اور اپنی پوری عمر چین میں اسلامی ثقافت کی تبلیغ و ترویج میں گزاری ۔چانگ جی مای نے تبلیغ کے دوران زيادہ تر مساجد کے احیاء اور تعمیر پر توجہ دی ۔انہوں نے چین ہی میں اپنی دینی تعلیم کا آغاز کیا اور اس کے بعد وہیں فارسی ،عربی اور دینی تعلیم کی تدریس میں مشغول ہوگئے ۔ان کے سینکڑوں شاگرد تھے جن میں سے بہت سے دینی تعلیم کے سلسلے میں اعلیٰ درجے پر فائز ہوئے ۔محمد بن حکیم کی قابل قدر خدمات میں جی نین کی جامع مسجد کی تاسیس کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے ۔