12 ربیع الاول

ہجرت سے 53 سال پہلے 12 ربیع الاول کو بعض مورخین کے مطابق حضرت محمد مصطفیٰ (ص) اس دنیا میں تشریف لائے لیکن بعض دیگر معتبر روایات کے مطابق 17 ربیع الاول کو آپ کا یوم ولادت قرار دیا گیا ہے ۔اسی بات کے پیش نظر اسلامی جمہوریۂ ایران میں 12 سے 17 ربیع الاول تک کے ایام کو ہفتۂ وحدت کا نام دیا گیا ہے ۔ اس پورے ہفتے میں دنیا کے مسلمان ،اسلامی جمہوریۂ ایران کی اس تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے رسول اکرم (ص) کے یوم ولادت کا جشن بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں ۔

 

 

12 ربیع الاول سنہ 241 ھ ق کو مسلمان عالم دین احمد بن حنبل نے بغداد میں وفات پائی ۔وہ سنہ 164 ھ ق میں بغداد میں ہی پیدا ہوئے تھے ۔انہوں نے بغداد اور دوسرے شہروں میں امام شافعی جیسے علماء سے کسب فیض کیا ۔احمد بن حنبل کی اہم کتاب مسند کے نام سے موجود ہے جو کثیراحادیث پر مشتمل ہے اور انہوں نے ان احادیث کو اپنے زمانۂ حیات میں محنت سے جمع کیا ۔

 

 

12 ربیع الاول سنہ 1284 ھ ق کو ہندوستان کے عالم دین سید محمد دلدار علی کا انتقال ہوا ۔وہ سلطان العلماء کے نام سے معروف تھے ۔انہوں نے اپنے والد اوراپنے دور کے فقہا کے پاس عصری علوم حاصل کئے اور 19 سال کی عمر میں اعلیٰ علمی درجات تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ۔سلطان العلما اپنے دور کے ممتاز فقہا اور متکلمین میں شمار ہوتے تھے ۔ان کے اہم تحریری آثار میں علم فقہ پر احیاء الاجتہاد اور شرح زبدۃ العقول کا نام لیا جا سکتا ہے ۔

 

 

12 ربیع الاول سنہ 1304 ھ ق کو ایرانی شاعر ، محقق اور زبردست اہل قلم مرزا محمد تقی بہار پیدا ہوئے ۔ان کا لقب ملک الشعرا تھا ۔انہوں نے علم نحو اور علم ادب حاصل کرنے کے بعد ادیب نیشابوری جیسے اساتذہ کی شاگردی کا شرف حاصل کرتے ہوئے دنیائے علم و دانش میں قدم رکھا اور اپنی ذاتی صلاحیت اور قوت حافظہ کی وجہ سے اس دور کے حالات و واقعات کی وسیع معلومات جمع کیں ۔مرزا بہار آئینی تحریک کے دوران انقلابیوں کی صف میں شمار ہوتے تھے ۔انہوں نے سنہ 1328 ھ ش کو مشہد میں اخبار نوبہار شائع کیا ۔ اس اخبار کواس دور کے آمروں کی طرف سے کئی بار بند کیا گيا ۔ملک الشعرا ایک سیاسی شخصیت کے بھی مالک تھے اور کئی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن بھی رہے لیکن پھر انہوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور درس و تدریس کا آغاز بھی کیا ۔وہ کئی برس تک یونیورسٹی میں پڑھانے کے علاوہ ادبی آثار کی اشاعت اور علمی کتب کی تدوین میں مشغول ہوگئے ۔