10 ربیع الاول

10 ربیع الاول ہجرت سے 45 سال قبل رسول اکرم (ص) کے جدّ بزرگوار حضرت عبدالمطلب نے مکّے میں وفات پائی ۔ حضرت عبدالمطلب زمانۂ جاہلیت میں بزرگان قریش میں شمار ہوتے تھے اور قبیلۂ قریش میں اپنی عقل و خرد ،فصاحت و بلاغت اور طرز بیان کے اعتبار سے بہت مشہور تھے ۔ حضرت عبدالمطلب نے خانۂ کعبہ کےانتظام اور زائرین خانۂ خدا کے لئے پانی اور خوراک کا بند و بست کرنے کی ذمہ داری سنبھال رکھی تھی ۔یہ مقدس ذمہ داری انہیں ایک قیمتی ورثے کے طور پر اپنے والد کی طرف سے ملی تھی ۔حضرت عبدالمطلب عہد و پیمان کی پابندی کا احترام کرتے تھے ۔یہی وجہ ہے کہ لوگوں کے درمیان آپ کو خاص احترام حاصل تھا ۔حضرت عبدالمطلب کے فرزندوں میں رسول اکرم (ص) کے والد حضرت عبداللہ اور حضرت علی (ع) کے والد حضرت ابوطالب کا نام خاص طور سے قابل ذکر ہے ۔

 

 

ہجرت سے 28 سال پہلے 10 ربیع الاول کو پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ (ص) اور حضرت خدیجۂ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی شادی ہوئی ۔خویلد کی بیٹی حضرت خدیجہ ایک شریف اور باایمان خاتون تھیں ۔دور جاہلیت میں انہیں طاہرہ کا لقب دیا گيا تھا۔ حضرت خدیجہ رسول خدا (ص) سے شادی کرنے کے بعد زندگی کے تمام مراحل میں آنحضرت کی مونس و غمخوار رہیں ۔حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا وہ پہلی خاتون تھیں جو آنحضرت (ص) کی رسالت پر ایمان لائیں اور اپنی تمام تر قوت و توانائی کے ساتھ دین خدا کی نصرت کے لئے اٹھ کھڑی ہوئیں ۔حضرت خدیجہ اپنے دور کی ثروت مند اور معروف خاتون تھیں ۔انہوں نے نہ صرف دین خدا کی ترویج و اشاعت کے لئے اپنی تمام دولت و ثروت رسول خدا (ص) کے حوالے کردی بلکہ روحانی اعتبار سے بھی دعوت توحید میں رسول خدا کا ساتھ دیا ۔رسول اکرم (ص) کے ساتھ شادی کے وقت ان کی عمر 40 سال تھی اور 25 سال تک آنحضرت کے ساتھ  رہیں ۔ حضرت ابراہیم کے علاوہ رسول خدا کی تمام اولاد انہیں سے تھی ۔