یکم ربیع الاول

یکم ربیع الاول بعثت کے تیرہویں سال رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے مکے سے مدینے کی طرف اپنی تاریخی ہجرت کا آغاز کیا ۔ یہ ہجرت مسلمانوں کی تاریخ کے یقین کا آغاز بن گئی اور تمام تاریخی واقعات و حوادث اسی تاریخ کے مطابق قلمبند کئے جانے لگے ۔ ہجرت کے پہلے سال اسلام اور مسلمانوں کو عظیم کامیابی نصیب ہوئی اور مدینہ میں اسلامی احکام کی بنیاد پر ایک خود مختار حکومت تشکیل پائی اسی عظیم کامیابی کی وجہ سے اس سال کو ہجری تاریخ کا مبدا قرار دیا گیا ہے ۔پیغمبر اسلام (ص) کی ہجرت سے تاریخ بشریت میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا اور پیغمبر اسلام (ص) اور مسلمانوں نے مکے کے سخت اور تکلیف دہ ماحول سے نکل کر مدینے کی آزاد فضا میں قدم رکھا۔مدینے کے مسلمانوں نے بھی بہت زیادہ جوش و خروش کے ساتھ پیغمبر اسلام (ص) اور مہاجرین کا استقبال کیا ۔کچھ ہی عرصے بعد ہجرت کی برکت سے اسلام ایک سیاسی و فوجی قوت میں تبدیل ہوگیا اور یہی چیز ایک عظیم اسلامی تمدن کا باعث بنی ۔قابل ذکر ہے کہ رسول خدا (ص) ہی نے سب سے پہلے اپنی ہجرت کو تاریخ کا مبدا قرار دیا اور قبیلوں ، عرب کے سرداروں اور معروف شخصیات کے نام اپنے مکتوبات میں اسی تاریخ کا ذکر کیا ۔

 

یکم ربیع الاول سنہ 65 ھ ق کو حضرت امام حسین (ع) اور آپ کے ساتھیوں کے خون کا انتقام لینے کے سلسلے میں” توابین“ تحریک کا آغاز ہوا ۔کوفے کے لوگوں نے اس سے قبل حضرت امام حسین (ع) کو دعوت دی تھی کہ آپ کوفہ تشریف لائیں اور یزيد کی ظالم حکومت کے خلاف تحریک کی قیادت کریں ۔حضرت امام حسین (ع) نے ان کی دعوت قبول کرتے ہوئے کوفہ کا سفر اختیار کیا لیکن راستے میں آپ کربلا کے میدان میں شہید ہوگئے ۔کوفے کے لوگوں کو حضرت امام حسین (ع) کا ساتھ نہ دینے پر شدید ندامت ہوئی اور انہوں نے سلیمان بن صرد کی قیادت میں ایک جماعت تشکیل دی اور بڑی شجاعت کے ساتھ دشمن کے بڑے لشکر کا مقابلہ کیا ۔اس جماعت کے اکثر افراد شہید ہوگئے ۔