7 جمادی الثانی 643 ھ ق کو مصر کے نامور عالم دین بہاؤالدین ابوالعباس نے قاہرہ میں وفات پائی ۔ وہ قاضی اشرف کے نام سے معروف تھے ۔ بہاؤالدین ابوالعباس اپنے والد قاضی فاضل کی طرح قاہرہ میں قاضی کی خدمات انجام دیتے تھے جس کی وجہ سے وہ قاضی اشرف کے نام سے مشہور ہوئے ۔ وہ بلاکے ذہین تھے اور انہوں نے اپنے والد کے طرز تحریر کو اپنایاتھا ۔ قاضی اشرف کو اس زمانے کے بزرگوں سے احادیث سننے اور معتبر احادیث کو محفوظ کرنے کا شوق تھا ۔ قاضی اشرف کی تالیفات میں ان کا لکھا ہوا احادیث کا صرف ایک مجموعہ قلمی نسخے کی صورت میں باقی ہے ۔
7 جمادی الثانی 525 ھ ق کو ابوالفضائل کے لقب سے مشہور چھٹی صدی قمری ہجری کے بزرگ صوفی اور دانشور عین القضاۃ ہمدانی (رح) کو ہمدان میں پھانسی دے کر شہید کردیا گیا ۔ وہ ایک فقیہ ، ادیب ، فاضل اور لطیف ذوق کے مالک شاعر تھے ۔ عین القضات 492 ھ ق میں پیدا ہوئے تھے ۔ وہ کہیں بھی اپنے عقائد کے اظہار سے نہیں ڈرتے تھے ۔ عین القضات کی اسی صاف گوئی اور بے باکی کی وجہ سے حاکم وقت کے حکم پر ان کو 525 ھ ق میں گرفتار کرکے بغداد کی جیل میں قید کردیاگیا۔ کچھ عرصے کے بعد ان کو ہمدان منتقل کردیا گیا اور ان کے مدرسے کے سامنے ان کو شہید کردیا گیا ۔ عین القضات ہمدانی نے بیش بہا کتابیں لکھی ہیں جن میں " تمہیدات " اور " حقائق القرآن " خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔