یکم جمادی الثانی 659 ھ ق کو اندلسی ادیب محدث اور فقیہ ابن سید الناس نس تیونس میں وفات پائی۔ وہ 597 ھ ق میں موجودہ اسپین کے علاقے اشبلیہ کے قریبی علاقے میں پیدا ہوئے تھے اور وہیں اپنی تعلیم کا آغاز کیا ۔ ابن سید الناس برسوں تک درس و تدریس میں مشغول رہے اور بہت سے شاگردوں کی تربیت کی وہ شعرگوئی کی بھی اچھی صلاحیت رکھتے تھے اور ان کے اکثر اشعار رسول اکرم (ص) کی مدح میں ہیں ۔ ابن سید الناس کی کتابوں میں سیرت رسول اکرم (ص) کے بارے میں ان کی ایک کتاب کی طرف خاص طور سے اشارہ کیا جاسکتاہے ۔
65 سال قبل یکم جمادی الثانی 1360 ھ ق کو بزرگ عالم دین آیت اللہ زنجانی نے 51 سال کی عمر میں وفات پائی ۔ انہوں نے جوانی میں فلسفہ ، کلام اور ادبی علوم حاصل کئے اور اس کے بعد عراق کے مقدس شہر نجف چلے گئے ۔ نجف کی بین الاقوامی دینی درسگاہ میں دینی علوم میں تحقیق مکمل کرنے کے بعد وہ درجۂ اجتہاد پر فائز ہوئے ۔ اس کے بعد آیت اللہ زنجانی نے مزید تحقیق اور تبلیغ کے لئے مکمہ مکرمہ ، فلسطین ، شام اور مصر کا سفر کیا ۔ آیت اللہ زنجانی کی کتابوں میں " تاریخ القرآن " ، " زندگی حضرت محمد(ص) " اور " عظمت حسین بن علی (ع) " کتابیں خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔