30 ستمبر
30 ستمبر سنہ 1985 کو ریکٹر اسکیل کے موجد چارلس ریکٹر کا امریکہ میں انتقال ہوا ۔ان کی عمر 75 سال تھی ۔ریکٹر اسکیل کے ذریعے زلزلے کی شدت معلوم کی جاتی ہے ۔چارلس ریکٹر نے ایک اور محقق کے ساتھ مل کر زلزلوں کی ان سے نکلنے والی توانائی کی مقدار اور ان کی لہروں کے دائرے کے مطابق ایک سے لے کر نودرجے تک تقسیم بندی کی اور اسے ریکٹر اسکیل کا نام دیا۔اس سے قبل دانشور زلزلوں کی درجہ بندی ان کے ظاہری اثرات سے کیا کرتے تھے جو دقیق اور قابل قبول نہیں تھی ۔
30 ستمبر سنہ 1966 کو بوٹسوانا نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی ۔بوٹسوانا پر سنہ 1885 میں برطانوی استعمار نے قبضہ کیا ۔سنہ 1920 سے بوٹسوانا کے عوام کی تحریک آزادی میں تیزی آنا شروع ہوئی اور آخر کار سنہ 1966 میں اسے آزادی حاصل ہوئی اور وہاں جمہوری حکومت قائم ہوئی ۔
بوٹسوانا کا رقبہ چھ لاکھ تین سوبہتر کلومیٹر ہے اور یہ براعظم افریقہ کے جنوب میں واقع ہے ۔جنوبی افریقہ ، زیمبابوے اور نمیبیا اس کے پڑوسی ممالک ہیں ۔
30 ستمبر سنہ 1947 کو پاکستان اقوام متحدہ کا رکن بنا ۔26 جون سنہ 1945 کو سان فرانسیسکو میں 51 ممالک کے نمائندوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کئے اور یوں 24 اکتوبر 1945 ع کو اقوام متحدہ کا باضابطہ قیام عمل میں آگیا۔سان فرانسسکو میں جن 51 ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کئے ان میں ہندوستان بھی شامل تھا چنانچہ 1947 ع میں پاکستان اورہندوستان آزاد ہوئے تو ہندوستان کوتو اس بین الاقوامی تنظیم کی رکنیت ورثے میں ملی لیکن پاکستان کےلئے رکنیت کا یہ مرحلہ ابھی باقی تھا لہذا قیام پاکستان کے فورا" بعد حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ میں رکنیت کی درخواست دے دی اور 30 ستمبر 1947 ع کو پاکستان اقوام متحدہ کا رکن بن گیا ۔پاکستان کئی مرتبہ سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بھی رہا ہے ۔
30 ستمبر سنہ 1938 کو جرمنی میں تاریخی " میونخ کانفرنس " منعقد ہوئی ۔اس کانفرنس میں جرمنی اور اٹلی کے سربراہ ہٹلر اور مسولینی اورفرانس اور برطانیہ کے وزرائے اعظم ایڈورڈ ڈالاڈیہ اور نوبل چیمبرلین نے شرکت کی ۔میونخ کانفرنس کے انعقاد کا مقصد جرمنی اور چیکوسلواکیہ کے اختلافات حل کرنے کے لئے کوئی راستہ تلاش کرنا تھا ۔اس کانفرنس کا نتیجہ چیکوسلواکیہ کا کچھ علاقہ جرمنی میں شامل ہوجانے کی صورت میں سامنے آیا۔اس سلسلے میں ہونے والے معاہدے نے یورپ کے بعد کے واقعات پر اثرات ڈالے اور اسی طرح مغربی حکومتوں کی استعماری ماہیت کو آشکار کیا۔اس کے علاوہ اس کانفرنس میں ہٹلر کو یہ بھی اندازہ ہوگیا کہ یورپ اس کی توسیع پسندی کے سامنے زیادہ مزاحمت کا مظاہرہ نہیں کرے گا ۔دوسری جنگ عظیم اور سنہ 1945 میں جرمنی کی شکست کے بعد چیکوسلواکیہ نے اپنا علاقہ واپس لے لیا ۔
30 ستمبر سنہ 1444 کو مشہور اطالوی ماہر تعمیرات اور آرٹسٹ ڈوناٹوبرامینٹ پیدا ہوئے ان کے دور میں اطالوی فن تعمیر اور مجسمہ سازي کا فن ترقی کی منازل طے کررہا تھا ۔انہوں نے اپنے دو ہم وطنوں مائیکل آنژ اور رافائل کے ساتھ مل کر تاریخی کلیسا سن پیٹر کی عمارت کی تعمیر نو کی ۔انہوں نے میلان شہر میں سینٹ میری گرجا گھر تعمیر کیا ۔ڈوناٹو برامینٹ نے سنہ 1514 میں وفات پائي ۔