تین ستمبر

تین ستمبر سولہ سو اٹھاون کو اولیور کرامویل پیدا ہوا اولیور کرامویل برطانیہ کا معروف سیاستداں اور سیاسی تھا ۔ کرامویل سولہ سو اٹھائیس میں پارلیمنٹ کا رکن بنا ، پارلیمنٹ اور چارلس اول کے درمیان خانہ جنگی کے زمانے میں شاہی فوج کے خلاف افواج کی سپہ سالاری کی اور نمایاں کامیابیاں حاصل کیں ۔سولہ سو انچاس میں اس کے اور دوسرے ججوں کے فیصلے پر چارلس اول کو سزائے موت دے دی گئی اور اولیور کرامویل انگلستان کا مطلق العنان بادشاہ بنا ۔

اس کے عہد میں اتوار کے کھیلوں گھڑ دوڑ اور رقص و موسیقی کے پروگراموں پر پابندی لگادی گئی ۔

 

 


 

3 ستمبر 1813 ع کو معروف فرانسیسی ریاضی دان لوئی دولاگرانژ نے وفات پائي ۔وہ 1736 ع میں اٹلی کے شہر تورین میں پیدا ہوئے تھے ۔لوئی دولاگرانژ کی اہم تصانیف میں " تحلیلی میکانک " قابل ذکر ہے جس کی تصنیف میں 25 برس لگے تھے ۔

 

 


 

3 ستمبر سنہ 1918 ع کو قدیم اسلامی شہر دمشق پر انگریز فوج کا قبضہ ہوا ۔پہلی جنگ عظیم کے دوران یورپی ممالک کا ایک اصل مقصد سلطنت عثمانیہ کو تقسیم کرنا تھا اور بالآخر یہ بڑی طاقت تقسیم ہوگئی ۔سلطنت عثمانیہ کے علاقے یکے بعد دیگرے برطانیہ اور فرانس کے قبضے میں چلے گئے پھر دمشق پر بھی حملہ ہوگیا اور یہ شہر بھی 3 ستمبر سنہ 1918 ع کوہاتھ سے نکل گیا ۔البتہ برطانیہ اور فرانس کے درمیان پہلے ہوئے معاہدوں کی بنیاد پر دمشق سمیت شام پر فرانس کا کنٹرول ہوگیا۔

 

 


 

3 ستمبر سنہ 1943 ع کو اٹلی اور برطانیہ کے اتحادی ممالک کے درمیان دوسری جنگ عظیم میں اٹلی کی شکست کے تاریخی معاہدے پر دستخط ہوئے ۔اس معاہدے کی رو سے اٹلی کے وزير اعظم نے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنا قبول کرلیا۔یوں دوسری جنگ عظیم میں جرمن نازيوں کا ایک اہم اور بنیادی اتحادی ملک جنگ کے میدان سے نکل گیا ۔ہٹلر کے نازی ازم اور موسولینی کے فاشزم کی نظریاتی خصوصیات اور دونوں آمروں کی اقتدار پرستی بھی جرمنی اور اٹلی کے اتحاد میں موثر ثابت ہوئی لیکن جنگ میں اٹلی کی مسلسل شکست کے بعد موسولینی نے اس معاہدے پر دستخط کئے اور باقاعدہ طور پر ہتھیار ڈال دیئے ۔اس معاہدے کے بعد برطانیہ کے اتحادی ممالک نے جرمنی سے اٹلی کی آزادی کے لئے بڑا حملہ شروع کیا اور روم کی آزادی کے بعد اٹلی پر جرمن افواج کا تسلط ختم ہوگیا۔

 

 


 

3 ستمبر سنہ 1971 ع کو قطر نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی ۔یہ ملک انیسویں صدی میں خاندان آل ثانی کے توسط سے ایران سے جدا ہوا تھا ، اس کے بعد سلطنت عثمانیہ کے قبضے میں چلا گیا ۔سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد قطر عملی طور پر برطانوی استعمار کے زير نگیں آگیا اور سنہ 1971 ع تک بدستور برطانیہ کے تسلط میں رہا لیکن اسی سال خلیج فارس کی دیگر جنوبی ریاستوں کے ساتھ مل کر متحدہ عرب امارات کو تشکیل دیا۔بالآخر اسی سال ستمبر میں متحدہ عرب امارات کی فیڈریشن سے نکلنے کے بعد قطر نے آزادی حاصل کرلی ۔