29 ستمبر

29 ستمبر سنہ 1869 ع کو اردو کے مشہور شاعر نواب مصطفیٰ خان شیفتہ کا انتقال ہوا ۔

وہ سنہ 1806 ع میں دہلی میں پیدا ہوئے ۔شیفتہ کی تعلیم و تربیت نہایت اعلیٰ پیمانے پر ہوئی ۔انہوں نے فن تجوید ، حدیث اور دیگر علوم دہلی کے ممتاز ترین اساتذہ سے پڑھے ۔

سنہ 1857 ع کی جنگ آزادی کے بعد جب مجاہدین کی پشت پناہی کرنے والے افراد کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوا تو شیفتہ بھی مجرم گردانے گئے ، ان پر مقدمہ چلا ، جائیداد ضبط ہوگئی اور سزائے قید سنائی گئی لیکن بعد میں رہائي مل گئی ۔

نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہتے تھے ۔اردو میں شیفتہ اور فارسی میں حسرتی تخلص کرتے تھے ۔ابتدا میں مومن خان مومن کے شاگرد تھے پھر غالب کو کلام دکھانے لگے شیفتہ اچھے شاعر ہی نہیں بلکہ ان کی سخن فہمی کی بھی بڑی دھوم تھی ۔خود غالب کہتے تھے کہ جب تک شیفتہ کوئی شعر پسند نہیں کرتے اسے دیوان میں درج ہی نہیں کرتا ۔

 

 


 

29 ستمبر سنہ 1901 ع کو اٹلی کے معروف ماہر طبیعیات انریکوفرمی روم میں پیدا ہوئے ۔طبیعیات میں ان کا ذوق و شوق بچپن میں ہی ظاہر ہوچکا تھا ۔انہوں نے جرمنی اور اٹلی میں یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد 25 سال کی عمر میں گیسوں کے ذرات میں تحرک کا نظریہ پیش کیا ۔فرمی پہلے شخص تھے جنہوں نے ایٹمی عناصر کے تغییرات پر کام کیا۔ان کا انتقال سنہ 1954 ع میں ہوا ۔

 

 


 

29 ستمبر سنہ 1902 ع کو فرانسیسی مصنف امیل زولا کا انتقال ہوا ۔وہ سنہ 1840 ع میں پیدا ہوئے ان کی زندگی پیرس میں گزری اور انہیں پوری زندگی مشکلات کا سامنا رہا ۔زولا متعدد کتابیں ضبط تحریر میں لائے ۔ان کی پہلی کتاب گدڑی پوش لڑکی تھی ۔

 


 

 

29 ستمبر سنہ 1918 ع کو بلغاریہ نے پہلی جنگ عظیم میں متعدد شکستوں کے بعد امریکی برطانوی اتحاد کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ۔بلغاریہ ، جرمنی ، سلطنت عثمانیہ ، آسٹریا اور ہنگری کا اتحادی ملک تھا اور فرانس ، روس ، برطانیہ اور اٹلی کے خلاف لڑا تھا ۔جنگ مقدونیہ میں بلغاریہ کی ناکامی کے بعد 15 ستمبر سنہ 1918 ع کو یونان میں بلغاریہ اور امریکہ اور برطانیہ کے اتحادی ممالک کے درمیان ایک معاہدہ ہوا اور بلغاریہ جنگ سے باہر ہوگیا ۔اسی سال 11 نومبر کو جرمنی نے بھی ہتھیار ڈال دیئے اور اس طرح امریکی برطانوی اتحاد کی کامیابی کے ساتھ پہلی جنگ عظیم ختم ہوگئی ۔

 

 


 

29 ستمبر سنہ 1992 ع کو افریقی ملک انگولا میں پہلے آزاد انتخابات منعقد ہوئے ۔ان انتخابات میں سنہ 1976 سے اقتدار میں رہنے والی جماعت مپلا (MPLA ) کو کامیابی حاصل ہوئی اور اس جماعت کے سربراہ خوزے ایڈورڈو ڈوس سینٹوس ایک بار پھر ملک کے صدر بنے ۔

واضح رہے کہ سنہ 1975 میں پرتگال سے انگولا کی آزادی کے بعد سابق سوویت یونین اور کیوبا کےحمایت یافتہ گروہ مپلا اورامریکہ اور جنوبی افریقہ کے حمایت یافتہ گروہ یونیٹا (UNITA ) کے درمیان خانہ جنگی شروع ہو‏ئی ۔اگر چہ سنہ 1976 میں مپلا کے ہاتھ میں عنان حکومت آگئی لیکن خونریز جھڑپیں جاری رہیں جن کے باعث جنوبی افریقہ نے بھی بعض اوقات انگولا پر حملہ کیا۔سنہ 1992 کے انتخابات اور سنہ 1994 کے امن معاہدے کے باوجود یہ جھڑپیں ختم نہ ہوئیں ۔آخر کار یونیٹا کے کمزور ہونے اور فروری سنہ 2002 میں اس کے سربراہ جوناس ساویمبی کے مارے جانے سے انگولا کی 27 سالہ خانہ جنگي کا خاتمہ ہوا ۔