2 ستمبر

2 ستمبر 1666 عیسوی کو لندن میں مہیب آتش زدگی شروع ہوئی جو چار دن تک جاری رہی اور اس سے شہر کا ایک بڑا حصہ جل کر خاکستر ہوگیا ۔

2 ستمبر 1666 عیسوی کو چارلس دوئم کا شاہی بیکر جون فیرینر (John Farynor ) اپنا ایک تندرو بجھانا بھول گیا جس نے رات کے تقریبا" دو بجے پوری بیکری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔بدقسمتی سے ہوا تیز تھی اس لئے آگ تیزي سے پھیلنا شروع ہوئی ۔تندرو تیز ہوا کے باعث آگ بجھانے کی تمام کوششیں بے کار ثابت ہوئیں ۔4 ستمبر کو آگ بمشکل بجھائی جاسکی ۔اس آتش زدگی میں 3200 مکان جل کر راکھ ہوئے اور 80 ہزار افراد بے گھر ہوگئے جبکہ صرف آٹھ افراد ہلاک ہوئے ۔

 

 


 

2 ستمبر سنہ 1890 ع کو اردو کے مشہور صحافی اور اخبار " کوہ نور " کے بانی  منشی ہرسکھ رائے کا انتقال ہوا ۔ ان کو صحافت کا شوق شروع سے ہی تھا ۔پہلے انہوں نے میرٹھ کے ایک اخبار " جام جمشید " کی ادارت کے فرائض سنبھالے پھر 34 سال کی عمر میں لاہور چلے گئے اور یہیں سے 14 جنوری سنہ 1850 ع کو اخبار کوہ نور کا اجرا کیا ۔پہلے یہ اخبار ہفتہ وار تھا پھر ہفتے میں دو بار نکلنے لگا اور اس کے بعد ہفتے میں تین بار اس کی اشاعت ہونے لگي۔

منشی ہرسکھ رائے ایک باذوق اور جہان دیدہ صحافی تھے ۔انہوں نے اپنے اخبار کو خبروں تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ اس اخبار میں ادبی معلومات ، غزلیات اور ادبی مقالے و غیرہ بھی شائع ہوتے تھے ۔انہوں نے اردو کی ترویج کے لئے ایک ہفتہ وار مشاعرے کی بنا بھی ڈالی جس میں شرکت کرنے والے شعرا کی منتخب غزلیں بھی اخبار میں شائع ہوتی تھیں ۔

 

 


 

2 ستمبر 1917 عیسوی کو اردو کے ایک معروف مرثیہ نگار شاعر پیارے صاحب رشید کا انتقال ہوا ۔ ان کا اصل نام سید مصطفیٰ تھا ۔وہ 16 فروری 1847 کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے اور اپنی عرفیت پیارے صاحب سے مشہور ہوئے ۔ان کا تعلق لکھنؤ کے ایک مرثیہ گو خاندان سے تھا ۔اردو مرثیہ کے سب سے بڑے شاعر میر ببر علی انیس ان کے حقیقی نانا تھے ۔ میر انیس ان سے بے حد محبت کرتے تھے اور اکثر مجالس میں اپنے ہمراہ لے جاتے تھے ۔مرثیہ نگاری میں پیارے صاحب رشید کا سب سے بڑا کارنامہ ساقی نامہ اور بہار یہ مضامین کا اضافہ ہے ۔انہوں نے مرثیے میں ان مضامین کا اضافہ کچھ اس طرح کیا کہ مرثیت بھی برقرار رہی اور ادبیت میں بھی بیش بہا اضافہ ہوا ۔انہیں ان کے عہد میں زبان کا سب سے بڑا ماہر سمجھا جاتا تھا اور لوگ ان کے کلام کو بطور سند پیش کرتے تھے ۔

 

 


 

2 ستمبر سنہ 1945 ع کو جاپان کی طرف سے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے کے بعد دوسری جنگ عظیم ختم ہوگئی ۔اس جنگ میں اتحادی افواج کے ہاتھوں جاپان کی مسلسل شکست اورہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکہ کے ایٹمی حملے کے باعث جاپان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہونا پڑا ۔اس واقعے کے بعد پوٹس دیم کانفرنس میں مقرر کردہ شرائط کی بنیاد پراتحادی افواج نے جاپان پر قبضہ کرلیا اور پورے جاپان کی کمان امریکی جنرل مک آرتھر کے ہاتھ میں دے دی گئی ۔سنہ 1951 ع میں دنیا کے 49 ممالک نے جاپان کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کئے لیکن ایک سال بعد جاپان کو دوبارہ اپنا اقتدار واپس مل گیا ۔

 

 


 

2 ستمبر سنہ 1945 ع کو ویتنام نے آزادی حاصل کی ۔ویتنام 19 ویں صدی عیسوی میں فرانسیسی سامراج کے زيرتسلط تھا لیکن سنہ 1940 ع میں دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی کے ہاتھوں فرانس کی شکست کے بعد جاپان فرانس پر مسلط ہوگیا اوریہ تسلط دوسری جنگ عظیم کے اختتام تک جاری رہا ۔اسی دوران جنوبی ایشیا میں ہوشی مینہ کی قیادت میں چلنے والی تحریک آزادی نے کامیابی حاصل کرکے ویتنام پر اپنا کنٹرول کرلیا اور سنہ 1945 ع میں 2 ستمبر کو ویتنام میں جمہوریت کا اعلان ہوگیا ۔اس کے چند ماہ بعد ہوشی مینہ عہدۂ صدارت کے لئے منتخب ہوئے ۔

سنہ 1946 ع میں فرانس نے پھر ویتنام پر حملہ کردیا اور اس طرح ویتنام اور فرانسیسی سامراج اور پھر امریکی جارحین کے درمیان طویل جنگ شروع ہوئی ۔ویتنام کے لوگوں کی جد وجہد اور مزاحمت کے سبب سنہ 1954 ع میں فرانس کو اور سنہ 1975 ع میں امریکہ کو شکست ہوئي اور ویتنام ایک بار پھر آزاد ہوگیا۔