19 ستمبر

19 ستمبر 1893 کو خواتین کو پہلی مرتبہ حق رائے دہی ملا ۔نیوزي لینڈ کی خواتین کو الیکٹورل ریفارم ایکٹ کے ذریعے رائے دہی کا حق دیا گیا اور انہوں نے اپنا یہ حق پہلی مرتبہ 28 نومبر 1893 کو ہونے والے انتخابات میں استعمال کیا جس میں 90 ہزار خواتین نے ووٹ ڈالے ۔

خواتین کو حق رائے دہی دینے کے سلسلے میں نیوزی لینڈ کی تقلید کرنے والا پہلا ملک آسٹریلیا تھا جس نے 1902 میں خواتین کو یہ حق دیا اس کے بعد تو پھر یہ سلسلہ چل نکلا ۔بر صغیر کی خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق پہلی مرتبہ 1926 میں ملا جب صوبائي اسمبلیوں کے انتخابات میں خواتین نے اپنا یہ حق استعمال کیا۔

 

 


 

19 ستمبر سنہ 1907 ع کو انسانی تاریخ میں پہلی بار حرارت اور توانائي پیدا کرنے والا مادہ حاصل کرنے کے لئے مصنوعی تیل بنایا گیا ۔یہ حرارتی مادہ اسکاٹ لینڈ کے کیمیادان جیمزیانگ نے بنایا تھا ۔جیمز یانگ کے پاس ایک کوئیلے کی کان اورایک لیباریٹری تھی اور انہوں نے کوئیلے کا تصفیہ کرکے مصنوعی تیل بنایا ۔

 

 


 

19 ستمبر 1960 کو سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کے صدر محمد ایوب خان اور ہندوستان کےوزير اعظم جواہر لعل نہرو نے کراچی میں دستخط کئے ۔

اس معاہدے میں طے پایا تھا کہ دریائے سندھ کے تین مشرقی معاون دریاؤں ستلج راوی اور بیاس کے پانی پر ہندوستان کاحق ہوگا اور دو مغربی معاون دریاؤں چناب اور جہلم اورخود دریائے سندھ کے تمام تر پانی پر پاکستان کا حق ہوگا ۔معاہدے میں یہ بھی طے پایا کہ ستلج راوی اور بیاس سے پاکستان کے جس علاقے کی آبپاشی ہوتی ہے اس سے متبادل نہرین نکالنے کا انتظام کیا جائے گا ۔دریائے جہلم پر منگلابند اوردریائے سندھ پر تربیلا بند تعمیر کیاجائے گا اور مجموعی طور پر پانچ بیراج ایک سائفن اور آٹھ الحاقی نہریں بنائی جائیں گی سندھ طاس معاہدے پر 19 ستمبر 1960 کو دستخط ہوئے ۔

 

 


 

19 ستمبر سنہ 1991 ع کو کویت اور امریکہ نے ایک فوجی معاہدے پر دستخط کئے ۔یہ معاہدہ کویت پر عراق کا قبضہ ختم ہونے کے چھ مہینے بعد ہوا اور کویتی حکام کے مطابق یہ معاہدہ کویت پر عراق کی آئندہ فوجی جارحیت کو روکنے کی غرض سے کیا گیا ۔اس فوجی معاہدے کی رو سے امریکہ کو کویتی بندرگاہیں استعمال کرنے اور کویت میں اپنی فوج تعینات کرنے کا حق حاصل ہوگیا۔کویت نے سنہ 1992 ع میں برطانیہ اور فرانس کے ساتھ بھی اسی طرح کا معاہدہ کیا۔اس کے بعد خلیج فارس کے جنوبی ممالک بحرین ، قطر ، عمان اور متحدہ عرب امارات نے بھی امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ فوجی معاہدہ کیا لیکن مذکورہ ممالک کی امید کے برخلاف یہ معاہدے خلیج فارس کے علاقے میں بدامنی اور غیر ملکی افواج کی موجودگی میں اضافے کا باعث بنے ہیں ۔