9 مئی

9 مئی سنہ 1454 ع کو اطالوی ملاح امریکو وسپوس پیدا ہوئے ۔ان کو جوانی سے  ہی سمندری سفر کا شوق تھا ۔انہوں نے چار مرتبہ ایک ایسی انجانی سرزمین کا سفر کیا جس کا اس زمانے تک کوئی نام نہیں تھا۔بعد میں انہی کے نام پر اس سرزمین کا نام امریکا پڑگیا۔یہی وجہ ہے کہ بعض افراد کا کہنا یہ ہے کہ امریکہ کو درحقیقت وسپوس نے دریافت کیا ہے ۔ان کے سفروں کی تفصیلات کو ایک جرمن جغرافیہ دان مولر نے 1507 میں شائع کیا۔مولر نے اپنی کتاب میں یہ تجویز پیش کی کہ اس نئے بر اعظم کا نام امریکو وسپوس کے نام پر امریکہ رکھا جائے ۔سنہ 1512 ع میں امریکو وسپوس کا انتقال ہوگیا۔

 

 


 

9 مئی سنہ 1653 ع کو دنیا کی ایک خوبصورت ترین عمارت اور ہندوستان میں اسلامی فن تعمیر کے اعلیٰ ترین نمونے تاج محل کی تعمیر کا کام مکمل ہوا ۔تاج محل کی تعمیر بائیس سال میں مکمل ہوئی ۔

یہ عمارت ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے تاریخی شہر آگرے میں واقع ہے ۔یہ خوبصورت عمارت محل بادشاہ ، شاہجہاں نے اپنی ملکہ ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کرائي تھی ۔

ہرسال دنیا کے ہزاروں سیاح اس عمارت کو دیکھنے کے لئے آگرے کا سفر کرتے ہیں ۔

قابل ذکر ہے کہ اس عمارت کی تعمیر کے لئے شاہجہاں نے دنیا کے بہترین معماروں کو بلایا آخر کار تاج محل کی تعمیر کی ذمہ داری ،ایران کے فن تعمیر کے ممتاز استاد عیسی اصفہانی کو سونپی اور فن تعمیر کے اس ماہر استاد نے بائيس سال میں ایسی عمارت بنا کردی جس کی خوبصورتی و زیبائي اور فن معماری کی باریکیاں آج بھی سیاحوں کو مبہوت کردیتی ہیں ۔

 


 

9 مئی سنہ 1805 کو مشہور جرمن ادیب ،شاعر اور ڈرامہ نویس ، فریڈرک شیلر (SHILLER ) کا انتقال ہوا ۔فریڈرک شیلر کو بچپن سے ہی لکھنے اور شعر کہنے کا شوق تھا ۔بعد میں وہ معروف جرمن شاعر  گوئٹے سے متعارف ہوئے اور جرمن ادب میں نیا سبک ایجاد کیا۔

رہزنوں کا ڈرامہ فریڈرک شیلر کی پہلی تخلیق ہے جو استبدادی حکومت کے خلاف ان کا مشہور ترین ڈرامہ شمار ہوتا ہے ۔اس ڈرامے کی اشاعت کے بعد فریڈرک شیلر کی تحریروں پر پابندی لگ گئی ۔فریڈرک شیلر کی دیگر تخلیقات میں "میری اسٹیورٹ" ہالینڈ کے زوال کی تاریخ اور تیس سالہ جنگ کی تاریخ کا نام لیا جا سکتا ہے ۔

 

 


 

9 مئی سنہ 1866 ع کو بر صغیر کے نامور سیاستدان ، ماہر تعلیم اور مصلح گوپال کرشن گوکھلے پیدا ہوئے ۔ان کا تعلق ایک معمولی برہمن خاندان سے تھا ۔بمبئی میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے درس و تدریس کے پیشے سے وابستگي اختیار کی۔

سنہ 1899 میں گوکھلے بمبئی کی قانون ساز مجلس کے رکن منتخب ہوئے اور سنہ 1902 ع میں مرکزي قانون ساز مجلس کے رکن بنے ۔گوپال کرشن گوکھلے نے مرکزی قانون ساز مجلس کے رکن کی حیثیت سے ،تقسیم بنگال ، سالٹ ٹیکس اور لارڈ کرزن کی تعلیمی پالیسی پر شاندار تقاریر کیں اور حکومت برطانیہ کی اس پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا جس کے ذریعے ہندوستانیوں کو اعلیٰ ملازمتوں سے دور رکھا جارہا تھا ۔

سنہ 1905 ع میں انہوں نے سرونٹس آف انڈیا سوسائٹی قائم کی ۔گوکھلے ہندوستان کی آزادی کے بھی خواہش مند تھے اور اس مقصد کے لئے رائے عامہ ہموار کرنے کی غرض سے انہوں نے لندن اور جنوبی افریقا کے دورے کئے ۔

گوکھلے کا انتقال 19 فروری سنہ 1915 میں ہوا ۔

 

 


 

9 مئی 1992 کو آرمینیا کی فوج نے جمہوریہ آذربائیجان پر حملہ کردیا۔آرمینیا آذربائيجان کے قرہ باغ علاقے کواپنے ساتھ ملحق کرنا چاہتا تھا یہ حملہ بھی جمہوریہ آذربائیجان کو کمزور کرنے اور قرہ باغ کے علیحدگی پسندوں کی پوزیشن کو مضبوط بنانے کی غرض سے انجام دیا گيا۔اس حملے کے دوران آرمینیا کے فوجیوں نے آذربائیجان  کے تقریبا" 20 فیصد علاقے خصوصا" شوشا اور لاچین کے اسٹرٹیجک علاقوں پر جو آرمینیا کو قرہ باغ سے ملاتے ہیں قبضہ کرلیا۔1993 میں دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کے باوجود جمہوریۂ آذربائیجان کا یہ علاقہ بدستور آرمینیا کے قبضے میں ہے اور قرہ باغ کا دیرینہ مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا ہے ۔