2 مئی

2 مئی 1941 کو عراق اور برطانیہ کے درمیان جنگ شروع ہوئی ۔اس جنگ کے شروع ہونے کی وجہ عراق کے تیل کے کنوؤں پر برطانوی قبضے اور عراق کے داخلی امور میں برطانوی مداخلت کا جاری رہنا تھا۔

واضح رہے کہ پہلی عالمی جنگ کے خاتمے اور سلطنت عثمانیہ کی تقسیم کے بعد عراق برطانیہ کے زیر انتظام آگیا تھا۔برطانیہ نے امیر فیصل کو عراق کا بادشاہ بنادیا ۔لیکن آہستہ آہستہ عراق میں سیاسی پارٹیاں سرگرم عمل ہوئیں اور عراق کی آزادی و خود مختاری کے لئے کوششیں شروع کردیں ۔عراق کے ایک علیحدگی پسند رہنما رشید عالی گیلانی نے دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمنی کی حمایت کی امید پر برطانوی استعمار کے خلاف جنگ شروع کردی اورزمام حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی ۔لیکن انہیں جرمنی کی امداد نہ ملی ۔برطانیہ نے علیحدگی پسندوں کو شکست دینے کے بعد ایک بار پھر عراق پر قبضہ کرلیا ۔رشید عالی بھی شکست کے بعد عراق سے فرار ہوگئے ۔

 


2 مئی 1911 کو برصغیر کے مشہور عالم سید علی بلگرامی کا انتقال ہوا ۔وہ 10 نومبر 1851 کوپٹنہ میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے پٹنہ کالج سے گریجویشن کیا اور پھر سول سروس کا امتحان پاس کیا ۔بعد میں وہ یورپ چلے گئے جہاں انہوں نے ارضیات ، معدنیات ، کیمیا ،طبیعیات ،حیاتیات اور میکانیات کی تعلیم حاصل کی ۔وہ کئی زبانیں جانتے تھے جن میں عربی ،فارسی ،انگریزی ،جرمن، فرانسیسی ،سنسکرت، بنگالی ،تیلگو ،مراہٹی ،گجراتی اور ہندی شامل ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ ہندوستان میں اتنے علوم اور اتنی زبانوں پر کامل دسترس رکھنے والا کوئی اور نہیں گزرا ۔1893 میں انہیں حکومت ہند کی جانب سے شمس العلماء کا خطاب ملا ان کی اہم کتابوں میں بابر نامہ ، علم اللسان ، طلسم اعضائے انسانی ، نجوم الفرقان اور مغارات الورا شامل ہیں ۔

 


 

2 مئی سنہ 1613 ع کو میخائیل رومانوف کے بر سر اقتدار آنے کے ساتھ روس پر رومانوف خاندان کے 304 سالہ عہد حکومت کا آغاز ہوا ۔روس پر پولینڈ کے حملے کے تین سال بعد ایک روسی سردار نے پولینڈ کے فوجیوں کو شکست دے کر ماسکو کو پولینڈ سے آزاد کرالیا اور میخائیل رومانوف تخت نشین ہوا ۔اگرچہ رومانوف خاندان کے دور حکومت میں روس میں توسیع ہوئی لیکن یہ ملک زیادہ اقتصادی ترقی نہ کرسکا ۔

آخر کار روس کے عوام نے سیاسی اور اقتصادی مشکلات کے پیش نظر سنہ 1917 ع میں اس خاندان کے آخری بادشاہ " نیکلای دوم " کے خلاف آواز بلند کی اور اس کی حکومت کا خاتمہ کردیا۔اس کے بعد روس میں سوشلسٹ حکومت قائم ہوگئی ۔

 

 


 

2 مئی سنہ 1519 ع کو اٹلی کے معروف مصور اور مجسمہ ساز لیونارڈو ڈاونچی نے وفات پائی ۔وہ سنہ 1452 ع میں پیدا ہوئے ۔مختلف فنون میں ان کی بے پناہ صلاحیت بہت جلد ظاہر ہوگئی ۔ڈاونچی نے اٹلی کے مختلف شہروں کی سیاحت کے بعد فرانس کا رخ کیا اور وہاں وہ لوئی دوازدہم کے دربار میں مصور کے فرائض انجام دینے لگے ۔وہ اپنے وطن کے مشہور مصور اور مجسمہ ساز مائیکل آنژنو کے ہم عصر تھے ۔ان دونوں مصوروں نے نشاۃ ثانیہ کے عہد میں فن کی بہت خدمت کی ۔

ڈاونچی کو انجنیرنگ اور ریاضی میں بھی مہارت حاصل تھی ۔