3 مارچ

3 مارچ سنہ 1992 کو بوسنیا ہرزگوئینا میں ریفرنڈم کے بعد اس ملک کی آزادی کا اعلان ہوا ۔یہاں کی 44 فی صد آبادی مسلمان ہے ۔بوسنیا کی آزادی کے حق میں 99 فیصد ووٹ ڈالے گئے اور اقوام متحدہ میں بھی اسے رکنیت مل گئی ۔بین الاقوامی حلقوں نے بھی اس ملک کی آزادی کی تائید کی ۔لیکن بوسنیا ہرزگوئینا کی طرف سے آزادی کے اعلان کے بعد ، بوسنیا کے صرب باشندوں نے جمہوریۂ صربیکا کی مدد سے بوسنیا کے مسلمانوں کے خلاف انسانیت سوز جنگ کا آغاز کردیا اور آخرکار 43 ماہ کی جنگ کے بعد بین الاقوامی حلقوں کی مداخلت سے سنہ 1995 کے اواخر میں ڈیٹن (daton) صلح معاہدے پر دستخط ہوئے اور جنگ ختم ہوگئی ۔

 

 


 

3 مارچ سنہ 1900 ع کو جرمن موجد کوٹلیب ڈائملر نے وفات پائي ۔نوجوانی کے زمانے میں ہی اسے ایجادات کا شوق پیدا ہوگیا اوراس نے بہت زیادہ مطالعات کئے ۔آخرکار وہ موٹر سائیکل ایجاد کرنے میں کامیاب ہوگیا ۔اسے آٹوانڈسٹری کے بانیوں میں سے شمار کیا جاتا ہے ۔وفات کے وقت اس کی عمر 64 سال تھی ۔

 

 


 

3 مارچ سنہ 1878 کو روس کے ساتھ جنگ میں عثمانی سلطنت کی شکست کے بعد سن اسٹفانو میں روس اور عثمانی سلطنت کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہوئے ۔روس نے عثمانی قلمرو پر حملہ ، بلقان میں سلطنت عثمانیہ کے زير کنٹرول علاقوں میں اپنے مخصوص مفادات کے تحت کیا تھا ۔روس نے اگست سنہ 1877 میں سلطنت عثمانیہ کے زير کنٹرول تین ملکوں صربیا ، بلغاریہ اور رومانیہ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس میں ان تینوں ملکوں کو آزادی دینے کا وعدہ کیاگیا اور اسی بہانے سے اس نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف جنگ شروع کی ۔روسی افواج نے تیزی سے پیش قدمی کی اور سلطنت عثمانیہ نے صلح کی پیشکش کی جس کے بعد سن اسٹفانو معاہدہ ہوا ۔جس کی رو سے صربیا اور رومانیہ عثمانی سلطنت سے الگ ہوگئے اور بلغاریہ کو داخلی خود مختاری حاصل ہوئی ۔

 

 


 

3 مارچ سنہ 1847 ع کو ٹیلی فون کے موجد گراہم بل ایڈنبرا میں پیدا ہوئے ۔

ان کے والد بہروں اور گونگوں کی تعلیم کے ماہر تھے ۔اس لئے انہوں نے بھی اسی شعبۂ تعلیم میں دلچسپی لی اور اپنے والد کا ہاتھ بٹانے لگے ۔

وہ سنہ 1871 میں بوسٹن یونیورسٹی میں پروفیسر بن گئے ۔اسی دوران انہوں نے ایک ایسا آلہ ایجاد کیا جس کے ذریعہ وہ ان لہروں کو دیکھ سکتے تھے ۔جو ہمارے کانوں پر اثر انداز ہوکر آواز کی حس پیدا کرتی ہیں ۔یہی آلہ آگے چل کر ٹیلی فون کی شکل میں سامنے آیا۔

 

 


 

3 مارچ سنہ 1707 کو مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے وفات پائی ۔اورنگ زیب نے سنہ 1658 سے سنہ 1707 تک ہندوستان پر حکومت کی ۔اورنگ زیب کا اصل نام محی الدین محمد تھا ۔وہ مغل بادشاہ شاہ جہان اور ممتاز محل کے تیسرا بیٹا تھا ۔اورنگ زیب کو عربی فارسی ہندی اور ترکی زبانوں پر عبور حاصل تھا ۔سنہ 1658 میں اورنگ زیب نے اپنے بڑے بھائی دارا شکوہ کو شکست دی اور باپ کو نظر بند کرکے تخت پر قبضہ کرلیا۔اورنگ زیب نے اپنی طویل تخت نشینی کے دور میں زیادہ تر وقت مختلف جنگی کارروائیوں میں گزارا ۔