29 مارچ
29 مارچ سنہ 1210 ع کو ایک بزرگ عالم اہلسنت امام فخر الدین رازی نے وفات پائي ۔وہ رے میں پیدا ہوئے تھے ان کے والد ضیاء الدین ابوالقاسم اپنے شہر کے خطیب تھے اس لئے بیٹے کا لقب ابن الخطیب ہوگیا ۔امام فخرالدین رازی نے الفارابی کا غائر مطالعہ کیا اور ابن سینا کی کتاب اشارات اور عیون الاخبار کی شرحیں بھی لکھیں ۔ان کی لکھی ہوئی کتابوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ان میں سے " اساس التقدیس فی علم الکلام " ، " التفسیر الکبیر " اور " المعالم فی اصول الدین " کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے ۔
29 مارچ سنہ 1573 ع کو فرانسیسی بادشاہ شارل نہم نے پروٹسٹنٹ عیسائیوں کے حق میں تاریخی حکم جاری کیا جو حکم آزادی کے طور پر معروف ہے ۔اس حکم کی رو سے فرانس کے پروٹسٹنٹ عیسائیوں کو اپنی مذہبی رسومات انجام دینے کی آزادی حاصل ہوگئی ۔
29 مارچ 1676 ع کو سلطنت عثمانیہ کو پولینڈ کے خلاف جنگ میں فتح حاصل ہوئی ۔اس جنگ کے نتیجے میں عثمانیوں نے یوکراین کے کچھ علاقوں پر قبضہ کرلیا جو اس وقت پولینڈ کا حصہ تھے ۔یہ جنگ 1671 ع میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب پولش فوج نے بغاوت کی اور سلطنت عثمانیہ نے اس کی حمایت کی تھی ۔
اگر چہ عثمانی فوج کو جنگ لمبرگ میں پولش افواج سے شکست اٹھانا پڑی تھی لیکن بالآخر عثمانیوں کو فتح حاصل ہوئی ۔
29 مارچ سنہ 1893 ع کو تحریک پاکستان کے ایک مشہور راہنما ،شاعر اور ادیب میاں بشیر احمد لاہور میں پیدا ہوئے ۔ان کے والد جسٹس میاں شاہ دین ہمایوں برصغیر کی ایک معروف علمی و ادبی شخصیت شمار ہوتے تھے ۔میاں بشیر احمد نے گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کرنے کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی کارخ کیا اور بی اے آنرز اور بیرسٹری کے امتحانات پاس کئے ۔
وطن واپسی کے بعد میاں بشیر احمد نے کچھ عرصے تک بیرسٹری کی ۔پھر تین برس تک اسلامیہ کالج لاہور میں اعزازی لیکچرار رہے ۔سنہ 1922 میں انہوں نے مشہور ادبی جریدہ ہمایوں جاری کیا جو 35 برس تک جاری رہا اور اس نے اردو زبان و ادب کی گراں قدر خدمات انجام دیں ۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے تین سال تک ترکی میں پاکستان کے سفیر کے فرائض انجام دیئے ۔ان کی کتابوں میں طلسم زندگي ، کارنامۂ اسلام اور مسلمانوں کاماضی ، حال اور مستقبل خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔3 مارچ سنہ 1971 کو ان کا انتقال ہوا ۔