2 مارچ
2 مارچ سنہ 1525 عیسوی کو ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپسٹ پر سلطنت عثمانیہ کی افواج کا قبضہ ہوا ۔
اس شہر پر قبضے سے پہلے عثمانی افواج نے جنگ موماک میں ہنگری کے بادشاہ کو شکست دی تھی ۔بوڈاپسٹ پر قبضے کے بعد سلطنت عثمانیہ کی قلمرو آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کے دروازے تک پھیل گئی ۔
2 مارچ سنہ 1895 عیسوی کو مصر کے حکمران اسماعیل پاشا نے وفات پائی ۔وہ 31 دسمبر 1830 ع کو قاہرہ میں پیدا ہوئے ۔نوجوانی میں ان کے چچا سعید پاشا نے انہیں روم ، فرانس اور ترکی بطو سفیر بھیجا ۔سنہ 1861 میں انہوں نے ایک بغاوت کو ناکام بنایا ارو دو سال بعد والی مصر کی حیثیت سے اپنے چچا کے جانشین بنے ۔سنہ 1873 میں سلطان عبدالعزیز عثمانی کےایک فرمان کی رو سے وہ خودمختار بادشاہ بن گئے ۔
اسماعیل پاشا نے مصر کی ترقی کے لئے رفاہ عامہ اور اتنظامی امور پر بے تحاشا دولت خرچ کی جس کے سبب مصر غیر ملکی سرمایہ داروں کا دس کروڑ پونڈ کا مقروض ہوگیا ۔اس طرح انگریزوں اور فرانسیسیوں کو مداخلت کا موقع مل گیا ۔سنہ 1878 میں ان غیر ملکیوں نے ایک کمیشن قائم کیا جس نے اسماعیل پاشا کو محض آئینی حکمران بننے پر مجبور کردیا اور ان کی وزارت میں انگریز ارو فرانسیسی وزراء شامل کردئے گئے ۔سنہ 1879 میں اسماعیل پاشا نے ان وزراء کو معطل کردیا جس پر سلطان عبدالعزیز نے انہیں معزول کردیا ۔جس کے بعد اسماعیل پاشا اٹلی میں کچھ روز گزارنے کے بعد قسطنطنیہ چلے گئے اور وہیں وفات پائی ۔
2 مارچ سنہ 1956 عیسوی میں مراکش کو آزادی حاصل ہوئی ۔یہ ملک شمالی افریقہ میں بحیرۂ روم اور بحر ہند کے ساحل پر واقع ہے ۔الجزائر اور مغربی صحرا اس کے پڑوسی ممالک ہیں ۔
20 ویں صدی کے اوائل میں مراکش کے قبائل نے اس ملک کے سلطان اور سامراجی طاقتوں کے خلاف تحریک کا آغاز کیا۔اس زمانے میں شمالی اور جنوبی مراکش پر بالترتیب اسپین اور فرانس کا قبضہ تھا ۔
سنہ 1920 کے عشرے کے اوائل میں ، عبدالکریم ریفی کی قیادت میں ریف کے علاقے کے باشندوں نے ہسپانوی اور فرانسیسی افواج کے خلاف جنگ شروع کی مگر سنہ 1926 میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔لیکن اس کے باوجود سامراجیوں کے خلاف مراکش کے مسلمانوں کی جد وجہد جاری رہی اور بالآخر سنہ 1943 میں انہوں نے مراکش کی مکمل آزادی کا مطالبہ کردیا جس کے بعد اس تحریک میں شدت آگئی اور 2 مارچ سنہ 1956 کو یہ ملک آزاد ہوگیا۔
2 مارچ سنہ 1972 عیسوی کو اردو کے نامور شاعرناصر کاظمی نے وفات پائي ۔وہ 8 دسمبر سنہ 1925 کو انبالہ میں پیدا ہوئے تھے ۔ابتدائی تعلیم شملہ اور انبالہ میں حاصل کی ۔اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کرنے کے بعد چند وجوہات کی بنا پر تعلیم جاری نہ رکھ سکے ۔
ناصر کاظمی کی شاعری کا آغاز تقریبا" سنہ 1940 سے ہوا ۔شاعری کی ابتدا سانیٹ (sonnet)اور نظم سے ہوئی ۔پھر غزل گوئی کی طرف مائل ہوئے ۔جس میں ان کی رہنمائی حفیظ ہوشیار پوری نے کی ۔
سنہ 1954 میں پہلا مجموعۂ کلام " برگ نے " شائع ہوا ۔جس کے شائع ہوتے ہی وہ اردو غزل کے صف اول کے شعراء میں شامل ہوگئے ۔ان کی غزلوں کا دوسرا مجموعہ " دیوان " ان کی وفات کے بعد شائع ہوا ۔پہلی بارش ، نشاط خواب اور سرکی چھایا ان کے دیگر مجموعہ ہائے کلام ہیں ۔جبکہ نثری مضامین کامجموعہ " خشک چشمے کے کنارے " کے نام سے مشہور ہے ۔